Header Ads

Breaking News
recent

مسلح افواج اور پاکستان کی سیاست......


جمہوریت اور عوامی احتجاج میں بلاوجہ ملک کی مسلح افواج کو فریق بنایا جارہا ہے جبکہ وہ اندرون ملک جاری دہشت گردی سے نپٹ رہی ہے، ساتھ ہی کنٹرول لائن‘ سیالکوٹ کی رواں سرحد پار بھارتی افواج کی شدید گولہ باری کا بھی سدباب کررہی ہے۔ ایسے موقع پراس سے بھرپور تعاون کے بجائے اسے حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی جانب سے الزام تراشی‘ اتہام اور بہتان کا ہدف بنایا جارہا ہے جبکہ سرحد پار بھارت کی جنتا اپنی افواج کی حوصلہ افزائی میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھتی۔ لوک گیتوں، کہانیوں اور فلموں میں دشمن یعنی پاکستان پر بھارتی سینا کی برتری کے فرضی کارناموں کے چرچے کیے جاتے ہیں۔

 بھارت تو جمہوری ملک ہے اور وہاں کثیر الجماعتی نظام رائج ہے، ان میں سے کوئی پارٹی ایسی نہیں جو یہ دعویٰ کرے کہ فوج اُس کے ساتھ یا اُس کے خلاف ہے۔ لیکن پاکستان ہی واحد ریاست ہے جس کے اکثر سیاستدان حصولِ اقتدار کے لیے عسکری قیادت کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور برسراقتدار آنے کے بعد اس کی کردارکشی کرنے لگتے ہیں۔ یہ کون نہیں جانتا کہ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی رہائی کے لیے Peter Galbraith اور Kon Cliburn نے جنرل ضیاء الحق پر کتنا دبائو ڈالاتھا اوران کی وطن واپسی میں امریکہ کا کتنا کردار تھا، لیکن ان کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کے مخالف نوازشریف نے جو پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے، ان سے محاذ آرائی شروع کردی، حتیٰ کہ ان کے نامزد کردہ پنجاب کے چیف سیکرٹری احمد صادق کو اپنے عہدے کی ذمہ داریاں نہیں سنبھالنے دیں اور پنجاب پولیس کو وفاق کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے تصادم کی شہ دی۔ یہی نہیں بلکہ موصوف نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پنجاب کے بینک‘ اس کی ریلوے اور ہر شعبے کو وفاق سے آزاد کردیں گے۔ کیا یہ سب ویسی ہی علیحدگی پسندی کی باتیں نہیں تھیں جیسی مجیب الرحمن کیا کرتے تھے اور جس کی وجہ سے ملک دولخت ہوگیا؟ سنتے ہیں کہ اب پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کا ثبوت 2006ء میں بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کا میثاق جمہوریت ہے جسے اول الذکر کے شوہر نامدار نے محض ’’سیاسی بیان‘‘ کہہ کر مسترد کردیا۔

 آمریت کے خلاف بطلِ حریت کی داعی پیپلزپارٹی دوسری بار بھی فوجی آمر پرویزمشرف سے این آر او جیسے شرمناک معاہدے کے ذریعے برسراقتدار آئی۔ یہ کیسی جمہوریت تھی جو امریکی استعمار اور اس کے پٹھو فوجی آمر پرویز مشرف کی بخشش کے نتیجے میں بحال ہوئی! جدوجہد تو وہ ہے جو ایران کے عوام نے شہنشاہ سے کی تھی۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ کہہ کر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جمہوریت کی قلعی کھول دی کہ ان دونوں پارٹیوں میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ پرویزمشرف کے عہدہ صدارت سے دستبردار ہونے کے بعد اسے باعزت طور پر رخصت کیا جائے گا جس طرح بے نظیر بھٹو امریکہ کی چھتر چھائوں میں دوبار پاکستان کے سیاسی افق پر نمودار ہوئیں، اسی طرح نوازشریف سعودی عرب کی سرپرستی میں مدت سے پہلے جلاوطنی ترک کرکے وطن واپس آئے۔

کیا یہ کسی جمہوری قیادت کو زیب دیتا ہے کہ وہ غیر ممالک کی سرپرستی میں ریاست کی باگ ڈور سنبھالے؟کیا یہ کسی عوامی نمائندے کو زیب دیتا ہے کہ حکومت کا کوئی اہلکار مبینہ طور پر دوسرے ملک کو یہ پیغام بھیجے کہ اگر اسے ’’فوجی بغاوت‘‘ کا سامنا ہو تو مذکورہ بیرونی طاقت مداخلت کرکے اسے ناکام بنادے؟ وہ کیسی قیادت ہے جسے اپنی مسلح افواج پر اعتماد نہیں ہے، بلکہ اس کے بجائے غیر ملکی فوج پر انحصار کرے؟

آج کل پارلیمان کے تقدس اور اس کے اقتدارِ اعلیٰ کا بڑا ذکر سننے میں آتا ہے۔ پارلیمان اُس وقت قابلِ احترام ہوتی ہے جب اسے عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہوں، اور انتخابی امیدوار نہ تو نادہندہ ہوں‘ نہ کسی جرم میں ماخوذ، اور نہ ہی بے ضابطگیوں میں ملوث ہوں۔ لیکن اگر انتظامیہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر ووٹوں کی چوری ہو اور جعلی ووٹوں سے منتخب ہونے والے امیدوار پارلیمان پر قابض ہوجائیں تو یہ ادارہ اپنی نمائندہ حیثیت اور وقار کھو دیتا ہے۔ اور عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ نادرا یا کسی غیر جانب دار ادارے سے ووٹوں کی تصدیق (Auditing) کروائیں، اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان کے مطالبے پر عملدرآمد کرے۔ یہاں تو یہ عالم تھا کہ تحریک انصاف کے رہنما نے چار نشستوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی چھان بین کا مطالبہ کیا تو موصوف نے اسے درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا، جبکہ ان کے مصاحبین اور حوارین نے اسے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ اس پر تکرار بڑھتی گئی اور تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق تحریک انصاف نے وہی کچھ کیا جو 1977ء میں مسلم لیگ سمیت سات جماعتوں نے پی این اے کے نام سے ملک گیر سطح پر کیا۔

یوں بھی یہ پارلیمان اپنے کردار سے عوام کی نمائندہ نہیں معلوم ہوتی۔ اس نے متفقہ قرارداد میں فیصلہ کیا تھا کہ اگر امریکہ قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بند نہیں کرتا تو حکومت کو امریکہ کی جانب اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ لیکن ڈرون حملے برابر ہوتے رہے اور پارلیمان کا امریکہ کی جانب پاکستان کی پالیسی پر نظرثانی کے لیے دبائو ڈالنا تو کجا، وہ خاموش بیٹھی رہی۔ البتہ تحریک انصاف نے قزاقانہ حملے رکوانے کے لیے لمبی مارچ کی اور طورخم کے راستے افغانستان پر قابض امریکی فوج کی رسد کی ترسیل کی مزاحمت کی، لیکن پارلیمان کی کسی پارٹی نے اس میں شرکت نہیں کی۔

ایسی پارلیمان کا کیسے احترام کیا جائے جو تحفظِ پاکستان (Protection of Pakistan) جیسا کالا قانون منظور کرکے دستور میں موجود شہریوں کے بنیادی حقوق کی نفی کررہی ہو؟

جہاں تک بعض ذرائع ابلاغ کا تعلق ہے تو وہ مسلح افواج پر اس لیے معترض ہیںکہ وہ پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت نہیں استعمال کرتی‘ اور یہی حکمران جماعت اور حزب اختلاف کے سیاسی رہنمائوں کو شکایت ہے کہ فوج نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی مخالفت کیوں کی! یہ وہی عناصر تو ہیں جنہوں نے 1971ء میں فوجی قیادت پر دبائو ڈال کر ڈھاکا میں مظاہرین پر گولیاں چلوائیں جس کے بعد سارے بنگال میں آگ لگ گئی۔ اب چونکہ فوج ان کے جھانسے میں نہیں آئی تو انہوں نے اسے بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے، لیکن عسکری قیادت ان کے فریب میں نہیں آئے گی اور بقول غالب 

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالب
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

عسکری قیادت اگر غیر جانب دار رہے تب بھی مورد الزام ہے کہ غیر جانب دار کیوں ہے؟ آخر فوج کسی غیر مقبول حکومت کو عوام پر کیوں مسلط کرے؟ وہ سیاسی اقتدار کی رسّا کشی میں کیوں فریق بنے؟ اور جب کسی ملک کا وزیراعظم سیاسی تنازعات میں فوج یا عدلیہ کو مداخلت کی دعوت دیتا ہے تو اس کا یہ رویہ غیر جمہوری ہے، جبکہ فوج غیر جانب دار رہ کر ہی ملک کو خانہ جنگی سے بچا سکتی ہے۔ اس سارے تنازعے میں فوج کا کردار بڑا غیر جانب دارانہ، آئینی، منصفانہ اور غیر سیاسی رہا ہے۔ اس پر اتنے رکیک حملے کیے جارہے ہیں لیکن وہ اپنے نظم و ضبط کے باعث میڈیا میں اپنی صفائی نہیں پیش کرسکتی۔ تو کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ اسے سیاست میں گھسیٹا جائے؟

قارئین ایک بات اور ملاحظہ فرمائیں۔ امریکی دفترخارجہ نے ہدایت کی ہے کہ نوازشریف کی حکومت کو برقرار رہنا چاہیے جبکہ ہندوستان کا میڈیا کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی فوج اور مذہبی جماعتیں نواز حکومت کی اس لیے مخالفت کررہی ہیں کہ وہ بھارت سے تعلقات میں بہتری کی خواہاں ہے۔ آخر ان دونوں طاقتوں کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کیا ضرورت ہے؟
امریکی دفتر خارجہ نے تو یکم ستمبر کوتیسری بار پاکستان کی سیاسی جماعتوں کوانتباہ کیا ہے کہ وہ تشدد اور آئین شکنی سے گریز کریں۔ (ڈان 2 ستمبر 2014ئ)

پہلے تو امریکہ خود اپنے ملک میں پولیس کو ہدایت دے کہ وہ سیاہ فام افراد کو تاک تاک کر قتل کرنے سے باز آجائیں، ساتھ ہی اپنی عدلیہ اور ارکانِ جیوری کو تاکید کرے کہ وہ سیاہ فام امریکی شہریوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ ترک کردیں اور انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ امریکی انتظامیہ کو آتشیں اسلحہ کی خرید و فروخت پر سخت پابندی عائد کرنی چاہیے کیونکہ ہر کس و ناکس اسلحہ کا بے دریغ استعمال کرتا ہے جس کے نتیجے میں ہر سال تیس ہزار امریکی شہری لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ آخر یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں آئے دن اسکول کے بچے‘ اساتذہ اور بچوں کے والدین بندوق بردار نوجوانوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں! آخر امریکہ میں اس دائمی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے فوجی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی جبکہ پولیس قتل و غارت گری کو روکنے میں ناکام ہوگئی ہے؟

آخر میں مَیں اُن سیاستدانوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادر ی کو افواجِ پاکستان کا آلۂ کار کہتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے 1990ء کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو ہرانے کے لیے یونس حبیب کے بقول ایجنسی سے وافر رقوم لی تھیں۔ وہ کس منہ سے ان افراد پر الزامات لگاتے ہیں جنہوں نے سرکاری ذرائع کے خفیہ فنڈ سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا؟
یہ بعض سیاستدانوں اور تجزیہ نگاروں کا تکیہ کلام بن گیا ہے کہ ملک کی 
    تاریخ میں فوج نے 33 سال حکومت کی ہے، لہٰذا اسے اقتدار کا چسکا لگ گیا ہے اور وہ زیادہ دیر کسی جمہوری حکومت کو ٹکنے نہیں دیتی۔ یہ آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ہے، کیونکہ جب جب فوج نے غیر فوجی (جمہوری نہیں) حکومتوں کو معزول کرکے اقتدار سنبھالا ہے تو اُس وقت سیاستدانوں نے اس سے تعاون کیا ہے۔ اور اگر ہر مارشل لا کے نفاذ پر سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے ردعمل کا جائزہ لیا جائے تو ان کی مبارک سلامت سے اخبارات کے کالم کے کالم سیاہ نظر آئیں گے، اور جب عسکری قیادت نے ملک کی کابینہ یا اسمبلی بنائی تو اس کے اراکین خاکی وردی والے نہیں بلکہ سویلین تھے۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو کوئی جنرل یا کرنل تھے، جو فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ میں وزیر قدرتی وسائل اور بعد ازاں وزیر خارجہ بن گئے؟ کیا مشہور قانون دان منظور قادر کوئی فوجی افسر تھے؟ کیا ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان اور منعم خان گورنر مشرقی پاکستان فوجی عہدیدار تھے؟ اسی طرح جنرل یحییٰ خان کے دور میں 1970ء کا مثالی انتخاب کیا مارشل لا حکام نے نہیں کرایا؟ جس سے زیادہ منصفانہ اور شفاف انتخاب آج تک نہیں ہوسکا۔ جبکہ پی پی کی جمہوری حکومت میں 1977ء میں کرایا گیا انتخاب شرمناک حد تک ووٹوں کی چوری پر مبنی تھا۔ کیا یحییٰ خان کی حکومت میں نورالامین نائب صدر نہ تھے؟ اورکیا ذوالفقار علی بھٹو اقوام متحدہ میں پاکستان کے وفد کے سربراہ نہ تھے؟ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے یا کوئی فوجی جس نے سلامتی کونسل میں بنگلہ دیش کا بحران فرو کرانے کے لیے پولینڈ کا مصالحتی مسودۂ قرارداد اجلاس میں چاک کردیا تھا اور روس کے مندوب جیکب   کو زارِ ملک کہا تھا؟

کیا جنرل ضیاء الحق کو تحریک استقلال کے سربراہ نے خط نہیں لکھا تھا کہ وہ پی پی کی حکومت کا تختہ الٹ دیں؟ تحریک استقلال تو بھٹو مخالف متحدہ محاذ PNA کی اہم رکن تھی۔ کیا ضیاء الحق کی کابینہ میں جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما وزارتوں پر فائز نہیں تھے؟ اسی طرح نوازشریف کی مسلم لیگ کے ارکان ٹوٹ کر جنرل مشرف کے ساتھ نہیں جا ملے تھے؟ اورکیا قاف لیگ کے اہم رہنما نے ببانگِ دہل یہ نہیں کہا تھا کہ وہ باوردی جنرل مشرف کو دس بار صدر منتخب کرائیں گے؟ کیا جنرل مشرف کو ملک کی بعض سیاسی پارٹیوں کی بھرپور حمایت نہیں حاصل تھی؟ اُس وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام یوسف اور ان کی کابینہ کے وزرا فوجی تھے یا سیاسی رہنما؟

اگر فوجی اور سویلین حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو فوجی حکومتوں کی کارکردگی سویلین حکومتوں سے کہیں بہتر تھی۔ ملک میں امن و امان کا دور دورہ تھا اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کی جاتی تھی… لیکن اب…؟

پروفیسر شمیم اختر

Pakistan Army role in Pakistan Politics

No comments:

Powered by Blogger.