Sunday, January 5, 2014

بنگلہ دیش: عوامی ليگ کی جیت پر سوالیہ نشان


پانچ جنوری کو دسویں عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں تاہم پورا انتخابی عمل اپنے آپ میں ہی مشکلات سے دوچار ہے۔

ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ( بی این پی ) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے کیونکہ حکمراں جماعت بنگلہ دیش عوامی لیگ ( بي اے ایل ) نے انتخابی عمل کے دوران ایک غیر جانبدار حکومت کی تشکیل میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔

حزب اختلاف کا مطالبہ ہے کہ انتخابات سے پہلے وزیر اعظم شیخ حسینہ استعفی دیں اور ایک غیر جانبدار نگراں حکومت قائم کریں۔

دوسری جانب حکومت نے یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات آئینی طور پر ضروری ہیں اور یہ پانچ جنوری کو ہی ہوں گے۔

بنگلہ دیش میں جمہوری عمل اس لیے خطرے میں ہے کیونکہ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں حکمراں عوامی لیگ زبردست اکثریت سے فتح یاب ہو سکتی ہے۔

دریں اثنا امریکہ اور یورپی یونین نے اپنے مبصرین بھیجنے سے انکار کر دیا ہے اور اس فیصلے سے ان خدشات کو اور تقویت ملی ہے۔

انتخابات کے دن تشدد پر قابو رکھنا بھی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک کے کئی حصوں میں دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کے درمیان گذشتہ کچھ ہفتوں کے دوران پرتشدد تصادم ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش حالیہ دنوں پرتشدد واقعات کا شکار رہا

روایتی طور پر بنگلہ دیش میں انتخابات کے دوران ایک غیر جانبدار نگراں حکومت ہوتی تھی تاکہ انتخابی عمل میں غیر جانبداری برقرار رکھی جا سکے لیکن عوامی لیگ حکومت نے آئین میں ترمیم کے ذریعے کل جماعتی حکومت کے تحت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم اور بی این پی کی سربراہ خالدہ ضیا کہتی ہیں کہ حکمراں پارٹی کی حکومت انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر اثرانداز ہوگی۔

اپوزیشن کی غیر موجودگی میں 300 میں سے 154 سیٹوں پر عوامی لیگ اور اس کے اتحادی بلامقابلہ منتخب ہوسکتے ہیں۔

تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے ملک میں مزید انتشار پیدا ہوگا کیونکہ حزب اختلاف اپنی مخالفت جاری رکھیں گے۔

وزیر اعظم شیخ حسینہ اور بی این پی لیڈر خالدہ ضیا سخت ترین سیاسی حریف ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں میں دونوں باری باری حکومت اور اپوزیشن میں رہی ہیں۔

موجودہ سیاسی منظر نامے کے تحت انتخابات کے بعد ان کی مخالفت اپنی انتہا کو پہنچ سکتی ہے۔

سابق صدر حسین محمد ارشاد اور ان کی جٹيا پارٹی (جے پی) ان انتخابات میں ایک اہم حریف کے طور پر ابھری ہیں۔ بی اے ایل اور بی این پی کے بعد جے پی پارلیمنٹ میں تیسری سب سے بڑی پارٹی ہے۔

انتخابات کے دوران امن و امان بحال رکھنا حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہوگا

دراصل 1991 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد ہی اس کی موجودگی قابل ذکر رہی ہے۔

بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ انتخابی مہم کے دوران ہڑتال اور تشدد کے واقعات جاری ہیں۔ بے روزگاري، غربت، بدعنوانی، مہنگائی، صنعتی حادثات اور انسانی حقوق کی پامالی دوسرے بڑے مسائل ہیں۔

دا ایشیا فاؤنڈیشن کے ستمبر 2013 کے سروے کے مطابق 75 فی صد ووٹر چاہتے ہیں کہ انتخابات کے دوران ایک غیر جانبدار نگراں حکومت رہے۔ سیاسی تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ کتنے لوگ ووٹ کے لیے باہر نکلتے ہیں۔

اسلام پسند پارٹی جماعت اسلامی پر لگنے والی پابندی انتخابات کا ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ جماعت کے سیینیئر لیڈر عبدالقادر ملّا کو سنہ 1971 کی جدوجہد آزادی میں مجرم پائے جانے کے بعد 13 دسمبر کو پھانسی دی گئی۔ یہ سزا ملک کی مختصر تاہم پرخون تاریخ کا ایک بڑا واقہ ثابت ہوئی۔

ان کی موت کی سزا پر سخت رد عمل سامنے آیا اور ملک میں بڑے پیمانے پر پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔

امریکہ، یورپی یونین اور روس نے اپنے مبصرین کو بنگلہ دیش بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے ملک کی شبیہ اور اس کے خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچا ہے۔

کئی غیر ملکی مبصرین انتخابات کی تنقید کر رہے ہیں کیونکہ 154 نشستوں پر بلا مقابلہ جیت سے بی اے ایل کو واضح اکثریت حاصل ہو جائے گیا اور یہ نتیجہ عوام کے جذبات کی ترجمانی تو نہیں اور اسے شاید بین الاقوامی برادری بھی آسانی سے ہضم نہیں کر پائے۔

تجزیہ نگار ان انتخابات پر بھارت کے رد عمل پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ روایتی طور پر حکمراں عوامی لیگ سے بھارت کے اچھے تعلقات رہے ہیں۔

Bangladesh Elections

 

Enhanced by Zemanta