Tuesday, March 12, 2013

Ummul Momineen Hazrat Ayesha Ridiullah Anha





Tag Photo
  

واقعہ افک

ام المومنین عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ۖ جب کسی سفر میں جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے پھر ان میں سے جس کے نام قرعہ نکل آتا تو اسی کو اپنے ہمراہ لے جاتے تھے ۔ پس ایک جہاد میں جو آپ ۖ نے کیا تھا ہم لوگوں کے درمیان قرعہ ڈالا تو میرے نام پر قرعہ نکلا اور میں آپ ۖ کے ہمراہ روانہ ہوئی ۔ یہ واقعہ حکم حجاب کے نزول کے بعد کا ہے پس میں اس سفر میں ہودج ( پردے والی ڈولی ) کے اندر بٹھا دی جاتی تھی اور ہودج سمیت اتارلی جاتی تھی ۔ پس ہم چلے یہاں تک کہ جب رسول اللہ ۖ اپنے جہاد سے فارغ ہو کر واپس ہوئے اور ہم مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو آپ ۖ نے رات کے وقت کو چ کا اعلان کر ادیا ۔ پس جب لوگوں میں روانگی کے لیے منادی ہوئی تو میں اٹھ کھڑی ہوئی اور (قضا ئے حاجت کے لیے ) گئی یہاں تک کہ میں لشکر سے آگے بڑھ گئی پھر جب میں حاجت سے فارغ ہو ئی تو ( اونٹ کے )کجاوے کے پاس آئی پھر میں نے اپنے سینہ پر ہاتھ پھیرا تو اچانک معلوم ہو اکہ ظفار کے کالے نگینوں کا ہار جو میں پہنے ہوئے تھی ، گر گیا ہے لہٰذا میں اپنے ہار کو تلاش کر تی ہوئی واپس ہوئی اور اس کو ڈھونڈنے میں مجھے دیر ہوگئی اور جو لوگ میرا ہودج اٹھاتے تھے وہ آئے اور انھوں نے میرے ہودج کو اٹھا یا اور میرے اونٹ پر جس پر میں سوار ہوتی تھی رکھ دیا ۔ وہ لوگ یہ سمجھرہے تھے کہ میں اسی میں ہوں ۔ ( کیونکہ ) اس دور میں عورتیں عموماً ہلکی پھلکی ہوتی تھیں ، بھاری نہ تھیں نہ ان کے جسم پر زیادہ گوشت تھا اور وہ غذا بھی بہت کم کھاتی تھیں ۔ لہٰذا جب لوگوں نے اس ہودج کو اٹھایا تو اس کو معمول کے موافق سمجھ کر اٹھا لیا کیونکہ میں اس وقت ایک کم سن ( دبلی پتلی ) لڑکی تھی ۔ پھر وہ اونٹ کو اٹھا کر چل دیے پھر لشکر کے نکل جانے کے بعد میں نے اپنا ہا ر پالیا اور جہاں قافلہ اترا ہوا تھا واپس آئی مگر وہاں کوئی نہ تھا تب میں اس جگہ جا کر بیٹھ گئی جہاں پر اتری تھی ۔ میں نے یہ خیال کیا جب لوگ مجھ کو ( قافلہ میں ) نہ پائیںگے تو اسی جگہ لوٹ کر آئیں گے ۔ پس اسی حالت میں کہ میں بیٹھی ہوئی تھی میری آنکھیں نیند کے سبب سے مجھ کو بھاری معلوم ہو نے لگیں اور نیند مجھ پر غالب آگئی ۔ صفوان بن معطل سلمی جو بعد میں ذکوانی ہو گئے ، لشکر کے پیچھے تھے وہ صبح کو میری منزل پر پہنچے اور وہ دور سے ایک سوتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر میرے پاس آئے چونکہ انھوں نے مجھ کو پردے کے حکم سے پہلے دیکھا تھا لہٰذا مجھ کو پہنچان لیا اور انا ﷲواناالیہ راجعون پڑھا ۔ میں ان کی انا اللہ کی آواز سن کر بیدار ہوئی پھر انھوں نے اپنے اونٹ کو بٹھالیا اور اس کے اگلے پائوں کو موڑ دیا ( تاکہ میں بغیر کسی کی مدد کے خود سوار ہو سکوں ) ۔ پس میں اونٹ پر سوار ہو گئی ۔ وہ اونٹ کو ہانکتے ہوئے پیدل چلے اور قافلہ میں اس وقت پہنچے جب دوپہر کو لوگ آرام کر نے کے لیے اتر چکے تھے ۔ پس جن لوگوں کو ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گئے یعنی میرے اوپر صفوان کیساتھ تہمت لگائی اور جس شخص نے یہ طوفان اٹھایا وہ عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافق ) تھا ۔ پس جب ہم لوگ مدینہ پہنچے تو میں ایک مہینے تک بیمار رہی او رلوگ طوفان کا پر چار کرتے رہے اور مجھے اپنی بیماری میں بارہا یہ خیال آتا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ میں نبی ۖ کی وہ مہربانی نہیں دیکھتی جو میں اپنی بیماری کے وقت آپ ۖ کی جانب سے دیکھا کر تی تھی ۔ اب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ ۖ تشریف لاتے اور سلام کرتے اس کے بعد فرماتے ہیں :'' تم کیسی ہو ؟'' اور مجھے اس بارے میں کسی بات کا علم نہ تھا کہ اصل وجہ ناخوشی کی یہ طوفان ہے ۔ میں بہت کمزور ہو گئی ۔ ( ایک رات ) میں اور مسطح کی والدہ مناصع کی طرف جہاں ہماری قضاء حاجت کی جگہ تھی اور ہم صرف رات ہی کو وہاں پر قضائے حاجت کے لیے جایا کرتے تھے اور واقعہ ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنائے جانے سے پہلے کا ہے اور ہم پرانے دور کے عربوں کی طرح جنگل میں یا باہر دورجا کر قضا ئے حاجت کرتے تھے ۔ پس میں اور مسطح کی ماں جو ابو ر ہم کی بیٹی تھیں جا رہی تھیں کہ اتفاقاً وہ اپنی چادر میں پھنس کر گرپڑیں تو انھوں نے کہا کہ ''مسطح ہلاک ہو جائے ۔'' تو میں نے ان سے کہا کہ تم نے یہ برا کلمہ منہ سے نکالا کیا تم ایسے شخص کو کوستی ہو جو غزوئہ بدر میں شریک ہو چکا ہے ؟انھوں نے جواب میں کہا کہ اے بی بی ! کیا تم نے نہیں سنا کہ ان لوگوں نے کیا طوفان اٹھایا ہوا ہے ؟ پھر انھوں نے مجھے تہمت لگانے والوں کی ساری باتوں پر مطلع کیا ۔ پس اس بہتان کو سن کر میری بیماری زیادہ شدید ہو گئی ۔ جب میں اپنے گھر واپس آئی تو رسول اللہ ۖ میرے پاس تشریف لائے اور انھوں نے سلام کیا اور فرمایا :'' تم کیسی ہو ؟'' میں نے عرض کی کہ آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنے والدین کے پاس چلی جائوں ۔ ام المومنین عائشہ کہتی ہیں کہ میرا اس سے منشا یہ تھا کہ اپنے والدین کے ہاں جا کر اس خبر کی تحقیق کر سکوں تو رسول اللہ ۖ نے مجھے اجازت دے دی اور میں اپنے والدین کے پاس چلی گئی ۔ میں نے اپنی ماں سے وہ سب باتیں بیان کیں جن کا لوگ چرچا کر رہے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ اے بیٹی ! تم اپنی جان پر سختی نہ کرو ، اللہ کی قسم ! کوئی حسین عورت کم ہی کسی شخص کے پاس ایسی ہو تی ہے کہ وہ مرد اس کو محبوب رکھتا ہو اور اس عورت کی سوکنیں بھی ہوں اور پھر وہ سو کنیں اس کی برُائیاں نہ کرتی ہوں ۔ میں نے کہا کہ سبحان اللہ ! میری سوکنوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ لوگ اس کا چرچا کر رہے ہیں ۔ ام المومنین عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے وہ رات صبح تک اس طرح گزاری کہ میرے آنسو نہ تھمے تھے اور نہ مجھے نیند آئی ۔جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ۖ نے ( امیر المومنین سیدنا ) علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید ( رضی اللہ عنہ ) کو بلایا جب کہ اس بارے میں نزول وحی میں دیر ہوئی تو آپ ۖ ان سے اپنی بیوی یعنی میرے فراق کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے تو ( سیدنا ) اسامہ( رضی اللہ عنہ ) نے تو اسی کے موافق مشورہ دیا جو ان کو آپ ۖ کے دل کی کیفیت (یعنی اپنی بیوی کے ساتھ جس قدر محبت تھی ) اس کا احساس تھا ۔ لہٰذا سیدناا سامہ ( رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ آپۖ کی بیوی ہیں اور اللہ کی قسم ! ہم ان میں سوائے اچھائی کے اور کچھ نہیں جانتے ۔ مگر ( امیر المومنین سیدنا ) علی بن ابی طالب ( رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپۖ پر ہر گز تنگی نہیں کرتا اور عورتیں ان کے علاوہ بھی بہت سی ہیں اور آپ لونڈی سے دریافت فر مایے ، وہ ( ام المومنین عائشہ کے کردار کے بارے میں ) آپ ۖ سے سچ سچ بیان کر دے گی تو رسول اللہ ۖ نے بریرہ ( رضی اللہ عنہ ) کو بلایا اور ان سے فرمایا :'' کیا تم نے ( ام المومنین عائشہ کے مزاج میں ) کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس کو تمہیں شک دلائے ؟''انھوں نے جواب دیا :'' نہیں قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں نے ان (خاتون ) میں کبھی کوئی بھی ایسی بات نہیں دیکھی جس کی وجہ سے میں ان پر ( شک کر وں یا ان پر ) عیب لگا سکوں ، سوائے اس کے کہ وہ ایک کم سن لڑکی ہیں ( اپنے گھر کی کلی طور پر خبر گیری نہیں رکھتیں حتیٰ کہ ) آٹا گو ند ھ کر ( اور اس کو ویسا ہی گوند ھا ہوا چھوڑ کر ) سو جاتی ہیں بکری آتی ہے اور اس کو کھا جاتی ہے ۔ '' پس رسول اللہ ۖ اسی وقت کھڑے ہوگئے اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کے مقابلے میں ( جس نے یہ طوفان اٹھایا تھا ) نصرت طلب کی اور رسول اللہ ۖ نے فرمایا :'' اس شخص کے مقابلے میں جس کے سبب سے مجھ کو اپنے گھر والوں کے بارے میں اذیت پہنچی ہے ، کون میری مدد کر تا ہے ؟ حالانکہ اللہ کی قسم میں اپنے گھر والوں میں اچھا ئی کے سوا کچھ نہیں دیکھتا اور ان لوگوں نے ایک ایسے شخص کو ( اس تہمت میں ) ذکر کیا ہے کہ میں اس میں بھی سوائے اچھائی کے کچھ نہیںدیکھتا اور خود میرے گھر میں وہ جب آئے ہیں تو میرے ساتھ ہی آئے ہیں ۔''پس سیدنا سعد بن معاذ کھڑے ہو گئے اور انھوں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ہم اس شخص کے مقابلے میں آپ کی مدد کریں گے ۔ اگر وہ قبیلہ ٔاوس سے ہوتا تو فوراً ہم اس کی گردن ماردیتے اور اب چونکہ وہ قبیلہ ٔ خزرج میں سے ہے لہٰذا آپ ہم کو اس بارے میں جو کچھ حکم دیں ہم اس کی تعمیل کریں گے ۔ اس کے بعد سیدنا سعد بن عبادہ کھڑے ہوگئے اور وہ قبیلہ ٔ خزرج کے سردار تھے اور اس سے پہلے وہ اچھے آدمی تھے مگر ان کو قومی حمیت نے برانگیختہ کیا اور انھوں نے ( سیدنا سعد بن عبادہ سے ) کہا کہ اللہ کی قسم ! تم جھوٹ کتنے ہو ،ہم بلا شبہ اس کو قتل کر دیں گے ، تو منافق ہے کیونکہ منافقوں کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے ۔ پس دونوں قبیلے اوس اور خزرج بگڑ بیٹھے یہاں تک کہ انھوں نے ( باہم لڑنے کا ) ارادہ کر لیا حالانکہ رسول اللہ ۖ منبر پر تھے ۔پس آپ ۖ منبر سے اترے اور ان کو خاموش کیا یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ ۖ نے بھی سکوت فرمایا:'' ام المومنین عائشہ کہتی ہیں کہ میں اس روز بھی روتی ہی رہی نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی ، پھر صبح کو میر ے ماں باپ میرے پاس آئے اور میں دو راتیں اور ایک دن روچکی تھی ( اور برابر آنسو جاری تھے ) یہاں تک کہ میں خیال کرتی تھی کہ یہ رونا میر اکلیجہ شق کر دے گا ۔ پھر کہتی ہیں کہ اسی حال میں کہ وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رورہی تھی کہ اچانک ایک انصاری خاتون نے ( میرے پاس آنے کی ) اجازت طلب کی میں نے اسے اجازت دے دی اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی پس ہم اسی طرح رو رہے تھے کہ رسول اللہ ۖ تشریف لائے اور بیٹھ گئے ۔ اس سے پہلے جس دن سے یہ طوفان اٹھا تھا ، آپ ۖ میرے پاس بیٹھتے ہی نہ تھے اور آپ ۖ نے ایک مہینہ تک ( وحی کے انتظار میں ) توقف کیا مگر میرے بارے میں کوئی وحی نازل نہ ہوئی ۔ ام المومنین عائشہ کہتی ہیں کہ پھر آپ ۖ نے خطبہ پڑھا، اس کے بعد فرمایا :'' اے عائشہ ! مجھ کو تمہارے بارے میں ایسی ایسی خبر پہنچی ہے پس اگر تم ( اس تہمت سے ) بری ہو تو عنقریب اللہ تم کو بری ظاہر فرما دے گا اور اگر تم واقعی کسی گناہ میں آلود ہ ہو چکی ہو تو اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو اس لیے کہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کر لیتا ہے اور پھر توبہ کر تا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔'' پس جب رسول اللہ ۖ اپنی گفتگو مکمل کر چکے تو میرے آنسو ( اچانک ) خشک ہو گئے ، ایک قطرہ بھی نہ رہا ۔ میں نے اپنے والد ( امیر المومنین ابو بکر صدیق ) سے عرض کی کہ آپ رسول اللہ ۖ کو میری طرف سے جواب دیجیے تو انھوں نے کہا اللہ کی قسم ! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں رسول اللہ ۖ کو کیا جواب دوں ؟ پھر میں نے اپنی ماں سے کہا کہ تم رسول اللہ ۖ کو میری طرف سے جواب دو مگر انھوں نے بھی یہی کہا کہ اللہ کی قسم ! میری سمجھ میں نہیں آتاکہ میں رسول اللہ ۖ سے کیا عرض کروں ؟ ام المومنین عائشہ کہتی ہیں پس میں نے عرض کی ،حالانکہ میں کمسن تھی ، بہت قرآن بھی پڑھی ہوئی نہ تھی ، کہ اللہ کی قسم ! مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگوں نے اس بات کو سنا ہے جس کا لوگ چرچا کر رہے ہیں اور وہ آپ کے دلوں میں جم گئی ہے اور آپ لوگوں نے تقریبا اس کو سچ سمجھ لیا ہے اور بے شک اگر میں آپ سے کہو ں گی کہ میں ( اس الزام سے ) بری ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ بے شک میں بری ہوں تو آپ لوگ غالباً مجھے سچا نہ سمجھیں گے اور بے شک اگر میں کسی بات کا اقرار کر لوں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں ( اس تہمت سے ) پاک ہوں تو یقینا آپ لوگ مجھے سچا سمجھیں گے ۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اور آپ کی مثال کچھ نہیں پانی مگر یوسف کے والد ( اور ان کے بھائیوں کی حالت ) کو ،جب ان کے والد بزرگ نے کہا :'' پس صبر میں بہتر ہے اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے ۔''( یوسف : ١٨) اس کے بعد میں نے اپنا رخ اپنے بستر کی طرف کر لیا اور میں امید رکھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے بری فرما دے گا مگر اللہ کی قسم ! مجھے یہ خیال تک نہ تھا کہ میرے اس معاملہ میںوحی نازل ہو گی اور بے شک میں اپنے دل میں اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتی تھی کہ قرآن مجید میں میرے اس معاملہ کا ذکر ہو گا بلکہ میں تو اس بات کی امید رکھتی تھی کہ رسول اللہ ۖ سوتے میںکوئی خواب دیکھیں گے اور وہ خواب میری براء ت کر دے گا ۔ پس اللہ کی قسم ! آپ ۖ اپنے مقام سے ہٹے بھی نہیں تھے اور نہ گھر کے لوگوں میں سے کوئی شخص باہر نکلا تھا کہ اسی جگہ آپ ۖ پر وحی نازل ہوئی اور آپ ۖ پروہی حالت طاری ہو گئی جو نزول وحی کے وقت طاری ہو اکرتی تھی ، یہاں تک کہ سردی کے دنوں میں آپ ۖ ( کی پیشانی مبارکہ ) سے پسینہ مثل موتیوں کے ٹپکنے لگتا تھا ۔ پس جب رسول اللہ ۖ سے وہ حالت دور ہوئی تو آپ ۖ اس وقت ہنس رہے تھے اور سب سے پہلے جو الفاظ آپ ۖ نے مجھے سے فرمائے وہ یہ تھے :'' اے عائشہ ! تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر و کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری براء ت کا اظہار فرما دیا ۔ '' میر ی والدہ نے کہا کہ تم رسول اللہ ۖ کے سامنے (شکر یہ ادا کرنے کے لیے ) کھڑی نہیں ہو گی اور نہ میں اللہ کے سوا کسی کاشکر ادا کروں گی ۔ پس اللہ تعالی عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :'' جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باند ھ لائے ہیں یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروہ ہے …''( سورئہ نور آیت نمبر ١١)پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں میر ی براء ت میں نازل فرمائیں تو امیر المومنین ابو بکر صدیق نے ، جو پہلے مسطح بن اثاثہ کو قرابت کی وجہ سے کچھ امداد کے طور پر دیا کرتے تھے ، یہ قسم کھالی کہ مسطح کو اس کے بعد کہ انھوں نے ( ام المومنین ) عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ کی نسبت ایسا کچھ کہا اب کچھ بھی نہ دوں گا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :'' تم میں سے جو بزرگی اور کشادگی والے ہیں انھیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھالینی چاہیے ، بلکہ معاف کر دینا اور درگزر کر لینا چاہیے ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہتعالیٰ تمہاری غلطیاں معاف فرما دے ؟'' اور اللہ غلطیوں کو معاف فر مانے والا بڑا مہربان ہے '' ( سورئہ نور آیت نمبر ٢٢)پھر انھوں نے مسطح کو وہی دینا اختیار کر لیا جو ان کو دیا کرتے تھے اور رسول اللہ ۖ نے ام المومنین زینب بنت حجش سے میرے معاملہ کی نسبت دریافت فرما یا :'' اے زینب ! تم کیا جاتنی ہو، تم نے کیا دیکھا ہے ؟'' تو انھوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میں کان اور آنکھ کو جھوٹ سے بچاتی ہو ں ۔ اللہ کی قسم ! میں ان ( یعنی ام المومنین عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ ) میں سوائے اچھائی کے اور کچھ نہیں جانتی ۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ کہتی ہیں کہ ام المومنین زینب میری برابر کی تھیں مگر اللہ نے ان کو بوجہ ان کی پرہیرز گاری کے ، میری بد گوئی سے بچا لیا ۔''

(راجع:٢٥٩٣)(بخاری:4750)...
Enhanced by Zemanta