Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

اوپیک اور اوپیک پلس کیا ہے؟

اوپیک پلس 23 تیل برآمد کرنے والے ممالک کا ایک گروپ ہے جو باقاعدگی سے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ملاقات کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں کتنا خام تیل فروخت کیا جائے۔ اس گروپ کے مرکز میں اوپیک (آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) کے 13 رکن ممالک ہیں، جو زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک پر مشتمل ہیں۔ اوپیک 1960 میں ایک کارٹل کے طور پر قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد دنیا بھر میں تیل کی رسد اور اس کی قیمت کا تعین کرنا تھا۔  اوپیک کے رکن ممالک دنیا کے کل خام تیل کا تقریباً 30 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ سعودی عرب اس گروپ کے اندر سب سے بڑا واحد تیل فراہم کرنے والا ملک ہے جو یومیہ ایک کروڑ سے زائد بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔ سنہ 2016 میں جب تیل کی قیمتیں خاص طور پر کم تھیں، اوپیک نے 10 دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر اوپیک پلس تشکیل دیا۔ توسیع شدہ گروپ کے اراکین میں روس بھی شامل ہے، جو یومیہ ایک کروڑ سے زیادہ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔ مجموعی طور پر اوپیک پلس کے ممالک دنیا کے کل خام تیل کا لگ بھگ 40 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ توانائی کے ادارے سے وابستہ کیٹ ڈوریان کا کہنا ہے کہ ’اوپیک پلس منڈی میں توازن قائم رکھنے کے لیے رسد اور طلب کو ہم آہنگ کرتا ہے۔‘ ان کے مطابق ’جب تیل کی طلب میں کمی آتی ہے تو رسد کم کر کے قیمتیں بلند رکھی جاتی ہیں۔‘ یہ تنظیم منڈی میں تیل کی مقدار بڑھا کر قیمتیں کم بھی کر سکتی ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Post a Comment

0 Comments