Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے میں کتنے سنجیدہ ہیں؟

بعض اعتبار سے اور بغیر کسی بدخواہی کے، وینزویلا پر امریکی حملے کے ساتھ جو بہترین چیز ہو سکتی تھی وہ یہ تھی کہ یہ ناکام ہو جاتا۔ اس کی بجائے، امریکی افواج کی بڑی تعداد اور جس انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں انہوں نے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا کی تیاری کی، اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ناقابل تسخیر ہونے کے ایک نشہ آور احساس سے سرشار کر دیا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں، ایک بھپرے ہوئے شیر کی طرح، اس کامیابی نے انہیں نو سامراجی فتح کے کچے گوشت کا چسکہ لگا دیا ہے یعنی کم سے کم خطرے میں وسیع علاقائی، دفاعی اور اقتصادی انعامات۔ کوئی تعجب نہیں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ خود اپنی ہی بدترین شکل اختیار کر رہا ہے۔ ایک ’بدمعاش ریاست‘ جہاں اس کی بےمثال فوجی طاقت کو کسی ’شیطانی سلطنت‘ کے خلاف روک تھام کے طور پر نہیں بلکہ اپنے خودغرضانہ، لاپرواہ اور غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ بات ہمیں گرین لینڈ کی طرف لاتی ہے۔ یہ ایک وسیع علاقہ ہے جس کی آبادی صرف 30 ہزار بالغ افراد پر مشتمل ہے، جس کا دفاع ڈنمارک کے ذمہ ہے (جو سپر پاور لیگ میں شاید ہی شمار ہوتا ہو) اور جہاں دفاع کی بنیادی لکیر برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور سپین کے رہنماؤں کی طرف سے دستخط شدہ ایک ’شائستہ مگر سخت خط‘ سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دیتی۔

اس کے برعکس، ٹرمپ خود کو امریکی تاریخ میں 250 سالوں میں سب سے بڑی علاقائی توسیع حاصل کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ وہ تمام نایاب معدنیات جن پر فی الحال چین کا غلبہ ہے، اور ایک ایسا سٹریٹجک اثاثہ جو برف کی تہیں پگھلنے اور شمالی سمندری راستے کھلنے کے ساتھ مزید قیمتی ہوتا جا رہا ہے۔ کون جانتا ہے کہ اس ساری برف کے نیچے کیا چھپا ہے؟ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ٹرمپ کیوں للچا رہے ہوں گے، چاہے اس کی قیمت نیٹو میں مزید دراڑیں ڈالنا یا اسے ختم کرنا ہی کیوں نہ ہو۔ وہ شاید سوچتے ہوں گے کہ یہ سودا مہنگا نہیں ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے اس اتحاد کو امریکیوں پر بوجھ سمجھتے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے یورپی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو ایستونیا جیسی ریاستوں کو بچانے کے لیے روس سے جنگ کیوں کرنی چاہیے، اور ان کا ماننا ہے کہ امریکہ کو اپنے دفاع کے لیے صرف اپنی ضرورت ہے۔ ان کے حساب کتاب میں، یہ ایک چھوٹا سا نقصان ہے۔ دوسری طرف یورپیوں کے پاس جوابی کارروائی کے بہت کم قابل اعتماد راستے ہیں۔ تجارتی جنگ انہیں اتنا ہی نقصان پہنچائے گی جتنا کہ امریکیوں کو۔ وہ ڈالر کو غیر مستحکم کرنے کے لیے امریکی بانڈز فروخت کر سکتے ہیں، لیکن اس سے ایک اور عالمی مالیاتی بحران کا خطرہ ہو گا (جس کا اطلاق جاپان اور چین پر بھی ہوتا ہے)۔ یا وہ امریکی ہتھیاروں کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں، لیکن ان کے پاس اس کا کوئی قابل عمل یورپی متبادل نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آپشن پرکشش نہیں ہے۔

یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹرمپ بنیادی طور پر ایک ’ریئل سٹیٹ‘ کے آدمی ہیں۔ ان کے لیے، گرین لینڈ محض ایک وسیع و عریض خالی پلاٹ کی طرح ہے جو کسی بڑے، خوبصورت ٹرمپ پراجیکٹ میں تبدیل ہونے کا منتظر ہے، جہاں ہر کوئی بہت پیسہ کمائے، بالکل وینزویلا اور یوکرین میں ان کی دیگر مبینہ ’ڈیلز‘ کی طرح، یا فلسطینی رویرا کے لیے ناکام ’مار-اے-غزہ‘ منصوبے کی طرح، جسے امریکہ کو کنٹرول کرنا تھا۔ یہاں ایک واضح نمونہ ہے: تجارتی مقاصد کے لیے چلائی جانے والی خارجہ پالیسی، جس میں واضح طور پر داداگیروں والا انداز شامل ہے۔ تو وہ یہ کیسے کرے گا؟ بالکل اسی طرح جیسے کوئی غنڈہ کسی نہ چاہنے والے مالک سے بہترین جگہ ہتھیا لے۔ وہ چھوٹے سے ڈنمارک کو یہ کہتے سنتا ہے کہ ’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے۔‘ لیکن ٹرمپ نہ‘ کو جواب کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فوج بھیج دیں گے، کم از کم شروع میں نہیں۔ انہوں نے گرین لینڈ خریدنے کی پیشکش کی ہے، بالکل اسی طرح جیسے امریکہ نے الاسکا خریدا تھا، یا 19ویں صدی میں لوزیانا کی خریداری کے ذریعے۔ یا جیسا کہ 1917 میں ہوا تھا جب قومی سلامتی کی وجوہات (جرمن قبضے کے خوف) کی بنا پر واشنگٹن نے ڈنمارک کو ڈینش ویسٹ انڈیز فروخت کرنے پر آمادہ کیا تھا (جسے اب یو ایس ورجن آئی لینڈز کہا جاتا ہے، جو جیفری ایپسٹین کی وجہ سے مشہور ہے)۔ ہر کسی کی ایک قیمت ہوتی ہے، ہے ناں؟

وائٹ ہاؤس کا فوجی طاقت کو خارج از امکان قرار نہ دینا محض ڈنمارک اور اس کے یورپی اتحادیوں کو قائل کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے کہ وہ گرین لینڈ کے امریکہ کے ساتھ ’آزادانہ الحاق‘ کے لیے کسی قسم کے انتظام پر راضی ہو جائیں، جبکہ ساتھ ہی مقامی آزادی کی تحریک کو مبینہ طور پر انمول امریکی شہریت اور دولت کے وعدوں کے ساتھ ہوا دی جائے۔ یہ سب ایک ’مافیا‘ کی دھونس کی طرح ہے۔ چال یہ ہے کہ یورپیوں کو یقین دلایا جائے کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ کے مسئلے پر زور دیا تو نیٹو خود ختم ہو جائے گا، اور یوں انہیں کسی تباہی سے بچنے کے لیے پرامن ’من پسند ڈیل‘ پر دباؤ ڈالا جائے۔ ایسے لیز کے انتظامات جو برائے نام خودمختاری کی حفاظت کرتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں چاگوس جزائر پر برطانیہ-ماریشس ڈیل میں ہوا، ایک اور امکان ہے۔ تخلیقی حل کی کافی گنجائش موجود ہے۔
تاہم، ٹرمپ گرین لینڈ کی جائیداد سے ان ’عجیب و غریب قابض کرایہ داروں‘ کو باہر نکالنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہیں گے جب تک کہ وہ اپنی بات نہ منوا لیں۔ پابندیاں، ٹیرف، یورپ سے امریکی اڈے ہٹانے کی دھمکیاں، یوکرین کے معاملے پر روس کا زیادہ کھل کر ساتھ دینا اور جعلی ماحولیاتی ضمانتیں، سب کو ڈنمارک، گرین لینڈرز اور دیگر یورپیوں کو جزیرہ حوالے کرنے پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اگر سب کچھ ناکام ہو جاتا ہے تو، جیسا کہ وہ لاپرواہ ہیں، وہ ہمیشہ اپنے چیفس آف اسٹاف کو ہدایت کر سکتے ہیں کہ وہ بغیر خون بہائے قبضے کا ایک اور شاندار منصوبہ تیار کریں۔

امریکہ کا ہمیشہ سے یہ رحجان رہا ہے کہ جب اس کے مفاد میں ہو تو بین الاقوامی اصولوں اور روایات کو نظر انداز کر دے۔ کبھی کوئی ایسا ’لبرل سنہری دور‘ نہیں تھا، جس میں بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق امریکی خارجہ پالیسی کے مرکز میں رہے ہوں، نہ ویت نام، افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران اور یقیناً جنوبی اور وسطی امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں جمہوری طور پر منتخب لیکن ناپسندیدہ رہنماؤں کو ہٹانے یا قتل کرنے کی ان گنت سازشوں کے دوران بھی نہیں۔مادورو، صدام یا قذافی طرز کے ڈکٹیٹروں کے بارے میں رویہ اس اقتباس میں بخوبی بیان کیا گیا ہے جو اکثر لنڈن بی جانسن سے منسوب کیا جاتا ہے، ’ہو سکتا ہے وہ کمینہ ہو، لیکن وہ ہمارا کمینہ ہے،‘ جب تک کہ صدام یا نوریگا کی طرح، وہ نہیں رہتے۔ موجودہ امریکی صدر اسی ’امریکی انفرادیت‘ کی ایک بڑی، بدتر اور زیادہ خطرناک شکل ہیں، اور اب وہ اسے بہت دور لے جا رہے ہیں۔ امریکہ اتنے پرانے دوستوں اور اتحادیوں کو کھو رہا ہے کہ ایک دن وہ ایسی دنیا میں جاگ سکتا ہے جہاں اسے چین-روس اتحاد کا سامنا ہو، جس میں یورپی اور انڈین امریکہ کے مفادات کے لیے زیادہ سے زیادہ غیر جانبدار ہوں۔ اگرچہ امریکہ ایک سپر پاور ہے، لیکن وہ اب بھی حد سے تجاوز کر سکتا ہے، جیسا کہ اس نے اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں میں اکثر کیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، وہ اس غالب پوزیشن کو کھونے کا خطرہ مول لے رہا ہے جو اسے ایک صدی سے زیادہ عرصے سے حاصل ہے۔ تب تک، کسی نہ کسی طرح، ڈونلڈ ٹرمپ جا چکے ہوں گے۔ لیکن انہیں شاید اس آدمی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے آرکٹک کے اس بڑے، خوبصورت جزیرے پر قبضہ کیا، جس کا نام قدرتی طور پر ’ٹرمپ لینڈ‘ رکھ دیا جائے گا۔

شان اوگریڈی

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
 


Post a Comment

0 Comments