تاریخی اور سیاحتی شہر استنبول جس طرح ترکی کے دل کی حیثیت رکھتا ہے بالکل اسی طرح ’’ تقسیم اسکوائر‘‘ (قدیم دور میں اس علاقے سے پینے کے پانی کی تقسیم کی جاتی تھی) کو استنبول میں یہی حیثیت حاصل ہے۔ استنبول میں جدید ترکی کے اس جھومر کو اس وقت گہن لگ جاتا جب ہزاروں کی تعداد میں عام مسلمان اس مرکزی علاقے میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جمع ہوتے اور سڑکوں اور گلیوں میں اخبارات بچھا کر نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے لیکن سیکولر حکومتوں کے کانوں پرجوں تک نہ رینگتی اور اس مسئلے کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تاکہ مذہبی رجحان رکھنے والے افراد کو جدید جمہوریہ ترکی کے اس جدید علاقے سے دور رکھا جاسکے اور یہ تمام حکومتیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنے زیر اثر سیکولر عدلیہ کا سہارا لینے سے گریز نہ کرتیں۔ تقسیم اسکوائر اس وقت سے مسجد سے محروم تھا جب 20 ویں صدی سے تعلق رکھنے والی ایک قدیم مسجد اپنی خستہ حالت کی بدولت مسمار کر دی گئی، لیکن برسر اقتدار آنے والی دائیں بازو کی تمام سیاسی جماعتوں کی سر توڑ کوشش کے باوجود یہاں پر کوئی مسجد تعمیر نہ کی جاسکی۔
اس سلسلے میں سب سے اہم قدم یک جماعتی نظام کے خاتمے کے فوراً بعد ڈیمو کریٹ پارٹی نے 1955 میں اٹھایا اور تقسیم اسکوائر میں مسجد کی تعمیر کے لئے’’تقسیم مسجد ٹرسٹ‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ملک میں 1960 کے مارشل لانے اس منصوبے کو کالعدم قرار دے دیا۔ تاہم 1965 میں سلیمان دیمرل کی جسٹس پارٹی نے نئے سرے سے اس مسجد کی تعمیر کے لئے قدم اٹھایا لیکن اُس وقت کی سیکولر ری پبلکن پیپلز پارٹی ( CHP) کی استنبول بلدیہ نے اس منصوبے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کینسل کر دیا۔ 1977 میں سلیمان دیمرل کے دوبارہ برسر اقتدار آنے پر نئے سرے سے اس مسجد کا پلان تیار کرتے ہوئے منظوری کیلئے پیش کیا گیا لیکن CHP نے اپنی سیکولر پالیسی کی بنیاد پر اسے ایک بار پھر مسترد کر دیا۔ ستمبر 1980 میں ترکی میں نیشنلسٹ فرنٹ (دائیں بازوکی جماعتوں کے سیاسی اتحاد) نے مشترکہ طور پر اس مسجد کی تعمیر کے حق میں مہم شروع کی لیکن 12 ستمبر 1980 کے مارشل لا نے مسجد کی تعمیر سے متعلق مہم پر پابندی عائد کر دی۔ سن 1983 میں مسجد کی تعمیر کے لئے عدلیہ سے رجوع کیا گیا لیکن ترکی کی اعلیٰ عدلیہ’’ کونسل آف اسٹیٹ‘‘ نے مقدمے ہی کو خارج کر دیا۔
جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے 2002 میں پارلیمنٹ میں کلی اکثریت حاصل کرنے اور حکومت تشکیل دینے کے بعد ایک بار پھر جامع مسجد تقسیم کی تعمیر کی پلاننگ نے سر اٹھانا شروع کر دیا تاہم وزیر اعظم رجب طیب ایردوان نے ملک کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کے بعد تقسیم اسکوائر کی جامع مسجد کی تعمیر اور گیزی پارک میں عثمانی دور کے آرٹلری بیرکس کی تعمیر کے منصوبے کو بیک وقت شروع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن گیزی پارک میں درختوں کی کٹائی نے حالات کا رخ تبدیل کر کے رکھ دیا اور گیزی پارک میں ایردوان کے خلاف شروع ہونے والے ہنگاموں اور مظاہروں نے کئی ماہ تک استنبول سمیت پورے ترکی کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ تقسیم اسکوائر کی جامع مسجد کی تعمیر کو اپنی زندگی کو سب سے اہم فیصلہ قرار دینے والے ایردوان نے تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے آخر کار 17 فروری 2017 میں جامع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا اور گزشتہ جمعے کے روز استنبول کی فتح کی 568ویں سالگرہ پر اس کا افتتاح کیا۔
صدر ایردوان نے اس موقع پر کہا کہ ’’جامع مسجد تقسیم اسکوائر‘‘ ہماری ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ جامع مسجد تقسیم اسکوائر اب استنبول کی علامتوں میں سے ایک ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں استعمال ہونے والے تمام سازو سامان کا خصوصی طور پر انتخاب کیا گیا ہے۔ یہاں اس علاقے میں ہمیں مسجد کی تعمیر کی اجازت نہ دی گئی بلکہ مرغی کے ڈربے کی مانند ایک چھوٹی سی مسجد اور اس کے باہر سڑکوں اور گلیوں میں اخبارات بچھا کر نماز پڑھنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ چالیس اور پچاس کی دہائی میں اس مسجد کی تعمیر کے لئے جو قربانیاں دیں ، ان سب سے ہم اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ترک قوم ڈیڑھ سو سال بعد اپنے اس خواب کو حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ صدر ایردوان نے 26 سال قبل استنبول تقسیم اسکوائر کی جامع مسجد کے بارے میں جو منصوبہ تیار کیا تھا اسے معمار شفیق بریکیے اور سلیم دالامان نے حتمی شکل دی جبکہ اس مسجد میں خطاطی کا کام خطاط داؤد بیکتاش اور نقاش آدم طوران نے سرانجام دیا ہے۔
راہداری کے گنبد پر سورۃ اخلاص اور آیت الکرسی اور مین دروازے پر سورۃ النسا کی 103ویں آیت کے آخری حصے اور استقلال دروازے پر سورۃ رعد کی 24 ویں آیت کندہ ہے۔ مسجد کے اندرونی حصے پر ﷲ، محمدؐ، ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کے نام جلی حروف میں دلکش انداز میں کندہ ہیں۔ یہ مسجد زیر زمین پانچ اور زمین سے اوپر چار منزلوں یعنی کل نو منزلوں پرمشتمل ہے۔ اس مسجد کا کل رقبہ 17 ہزار مکعب میٹر کے لگ بھگ ہے۔ مسجد کے مرکزی گنبد جس کی اونچائی 30 میٹر ہے کے علاوہ بارہ گنبد اور دو مینارے دور ہی سے اپنی خوبصورتی بکھیرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس مسجد میں بیک وقت چار ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس مسجد میں 12 میٹر قطر اور تقریباً 20 میٹر بلند 60 عدد فانوس آویزاں کیے گئے ہیں جبکہ تین منزلہ کار پارکنگ میں 165 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہے۔ مسجد میں نمائشی ہال، کانفرنس ہال، لنگر خانہ اور ڈیجیٹل اسلام لائبریری بھی موجود ہے۔
0 Comments