Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

کیا صدر اردوغان ترکی کی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنا چاہتے ہیں؟


مشہور ترک مصنف سونیر چاگھپتائی اپنی کتاب 'اردوغان ایمپائر' میں لکھتے ہیں 'اردوغان 2003 سے آہستہ آہستہ ایک بار پھر ترکی کو ایک بہت بڑی طاقت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جدید ترکی کے بانی، کمال اتاترک اور عثمانیہ سلطنت کی روایت کو واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں'۔ استنبول میں پروفیسر اسحاق بوٹونیا کے مطابق سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے خطے میں ایک مضبوط ملک کے حوالے سے جو خلا تھی اردوغان اسے پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے 'میرے خیال میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ہی دنیا میں یکسر تبدیلیاں آچکی ہیں اور ترکی نے اب اس خلا کو پر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ترکی خاص طور پر شام، مشرقی بحیرہ روم اور کوہ قاف سے متعلق اپنے پڑوس میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر ردعمل ظاہر کر رہا ہے۔ ترکی اب زیادہ کھل کر سامنے آ رہا ہے لیکن ایک تباہ کن قوت کے طور پر نھیں۔

ترک معاشرے میں بہت سارے لوگ ایسے وقت کو یاد کرتے ہیں جب بہت سارے عرب ممالک اور اسرائیل اس کا اٹوٹ حصہ تھے۔ جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک اور اسلام پسند رہنماؤں اور اداروں کے حامی خاص طور پر اس دور کو یاد کرتے ہیں اور دو عالمی جنگوں میں ترکی کے ٹکڑے کرنے کا الزام وہ مغربی ممالک پر عائد کرتے ہیں۔ اردوغان کو معاشرے کے ایسے لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ 
پروفیسر احمد کرو ترکی کی بڑھتی ہوئی قوم پرستی کو اسکی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی سرگرمیوں سے ایک مختلف انداز سے جوڑتے ہیں۔ وہ اس بات کو نہیں مانتے کہ کہ اردوغان ان ممالک کو ترکی میں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں یا لانا چاہتے ہیں جو پہلے اس کا حصہ تھے لیکن وہ قوم پرستی کی لہر سے انکار نہیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اردوغان اسلام پسند اور کمالی (اتاترک کے حامی) قوم پرستوں کی حمایت سے اقتدار میں ہیں۔ 

جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے اسلام پسندوں نے انہیں مسلم امہ کے تصور سے جوڑ دیا ہے۔ ان کے لیے ترکی کو یورپی یونین یا نیٹو کا رکن بننے کے بجائے اسلامی اتحاد یا عالمِ اسلام کی رہنمائی کرنی چاہیے'۔ انہوں نے مزید کہا 'دوسری طرف اردوغان کے دوسرے بڑے حامی انتہائی قوم پرست اتاترک کے حامی، اسلامی اتحاد کے خیال کے مخالف ہیں۔ ان کے لیے روس اور چین کو عالمی سیاست میں ترکی کا سٹریٹجک شراکت دار ہونا چاہیے'۔ ماہرین ایک بات پر متفق ہیں کہ اردوغان اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے میں مصروف ہیں خاص طور پر مغربی ممالک، امریکہ اور روس کے مابین۔ لہذا وہ بعض اوقات مغرب مخالف اور کبھی روس مخالف حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔

زبیر احمد
بشکریہ بی بی سی نیوز 

Post a Comment

0 Comments