Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

طیب رجب ایردوان : قابلِ فخر صدر جمہوریہ ترکی

آپ نے پچھلے چند سال میں ترکی کے صدر محترم جناب طیب رجب ایردوان کے بارے میں بہت کچھ دیکھا اور پڑھا ہو گا۔ یہ ایک مجاہدِ اسلام اور انسانیت دوست شخصیت ہیں۔ آپ حافظِ قرآن ہیں اور بہت پیاری قرات کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت پیاری آواز عطا کی ہے۔ صدر ایردوان کا رویہ غیرملکیوں کے ساتھ نہایت پُروقار ہے۔ میں ترکی درجنوں بار گیا ہوں، وہاں کی کمپنیوں سے ہمارے تجارتی تعلقات تھے۔ امریکیوں نے صدر دمیریل پر دبائو ڈالا تھا کہ وہ تجارت بند کر دیں۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا بعد میں وزیراعظم بلند ایچیوت پر بھی زور ڈالا مگر جواب کورا ملا۔ ترکی بےحد خوبصورت ملک ہے اور اس کی جان استنبول ہے۔ لاتعداد اعلیٰ تاریخی عمارتیں، وار میوزم، سرائے (محلات) اور کھانے نہایت لاجواب ہیں۔ ترکوں اور ترکی کی تاریخ چار ہزار سال پُرانی ہے۔ ترک پہلے وسط ایشیا میں رہتے تھے۔ 

گیارہویں صدی عیسوی میں اناطولیا میں بس گئے تھے۔ 1299 میں عثمان نامی ترک نے ترکوں کی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ یہ بہت تیزی سے پھیلے اور چودھویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کی بنیاد ڈال دی۔ تقریباً 623 سال تک ترکوں نے مشرقی یورپ، تمام عرب ممالک، چینی ترکستان وغیرہ پر حکومت کی اور 1453 میں سلطان محمد فاتح نے استنبول (سابقہ قسطنطنیہ) فتح کر لیا اور مشرقی یورپ پر قبضہ کر لیا۔ 1682 میں انہوں نے ویانا کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اگر تیمور عقب سے حملہ نا کرتا تو سلطان بایزید یلدرم آسٹریا، جرمنی کو فتح کر لیتے مگر مسلمانوں کی تاریخ ایسے غدّاروں سے بھری پڑی ہے۔ یونان، بلغاریہ، یوگو سلاویہ، البانیہ، رومانیہ اور وسط ایشیا، یمن، سوڈان، ویانا تک، ایران اور اسپین تک ترکوں کی حکومت تھی۔ جب صنعتی انقلاب آیا تو ترک حکمراں، محلات، باغات میں لگ گئے اور حرم بنا لئے اور پہلی جنگ عظیم میں اتنی بڑی سلطنت ٹوٹ پھوٹ کر صرف موجودہ ترکی رہ گیا۔ 

وہ تو یہ خوش قسمت تھے کہ کمال اتاترک اور ان کے ساتھیوں نے مغربی ممالک اور یونان کو اپنے ملک سے نکال دیا اور ایک جمہوریہ بنا دیا۔ انگلستان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ آج تک گلی پولی کی جنگ نہیں بھولے جس میں ان کے تقریباً 75 ہزار فوجی مارے گئے تھے اور بُری طرح شکست ہوئی۔ میں بات کر رہا تھا موجودہ صدر ترکی کی، آئیے دیکھئے کہ انھوں نے اپنے ملک کو لوٹا نہیں اس کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ اللہ پاک ان کو تندرست و خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ان کی بہتر کارکردگی میں رہنمائی فرمائے۔ آمین۔ دوسری شاندار شخصیت ڈاکٹر مہاتیر محمد ہیں جنہوں نے ملیشیا کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے سامنے مثالیں بھی ہیں مگر ان کا تمام وقت الزامات میں گزرتا ہے جبکہ کارکردگی زیرو ہے۔

صدر جناب ایردوان کی اعلیٰ کارکردگی۔
(1) 2013 میں مسلم ترکی ملک کی کل ملکی پیداوار ایک ٹریلین سو ملین ڈالر تھی جو کہ مشرق وسطیٰ کی مضبوط ترین تین اقتصادی قوتوں یعنی ایران، سعودی عرب اور متحدہ امارات کی مجموعی پیداوار کے برابر۔ اردن، شام اور لبنان جیسے ملکوں کا تو شمار ہی نہیں ہے۔

(2) ایردوان نے سالانہ تقریباً 10 پوائنٹس کے حساب سے اپنے ملک کی معیشت کو 111 نمبر سے 16 نمبر پر پہنچا دیا، جس کا مطلب ہے کہ ترکی دنیا کی 20 بڑی طاقتوں (G-20) کے کلب میں شامل ہو گیا ہے۔

(3) ایردوان نے ترکی کو دنیا کی مضبوط ترین اقتصادی اور سیاسی قوت بنانے کےلئے 2023 کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ترکی اس عزم میں کامیاب ہوتا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

(4) استنبول ایئرپورٹ یورپ کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے۔ اس میں یومیہ 1260 پروازیں آتی ہیں۔ مقامی ایئر پورٹ کی صبح کی 630 فلائٹس اس کے علاوہ ہیں۔ ترک ایئرلائن مسلسل تین سال سے دنیا کی بہترین فضائی سروس ہونے کا اعزاز حاصل کر رہی ہے۔

(5) ترکی نے جنگلات اور پھل دار درختوں کی شکل میں 2 بلین 770 ملین درخت لگائے ہیں۔

(6) اس دور حکومت میں ترکی نے پہلا بکتر بند ٹینک، پہلا ایئرکرافٹ، پہلا ڈرون اور پہلا سیٹلائٹ بنایا ہے۔ یہ سیٹلائٹ عسکری اور بہت سے دیگر امور سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

(7) اردوان نے 10 سال کے دوران 125 نئی یونیورسٹیاں، 189 اسکول، 510 اسپتال اور 1 لاکھ 69 ہزار نئی کلاسیں بنوائیں تاکہ طلبہ کی تعداد فی کلاس 21 سے زیادہ نا ہو۔

(8) گزشتہ مالی بحران کے دوران جب امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے بھی اپنی فیسیں بڑھا دی تھیں ان دنوں میں بھی ایردوان نے حکم نامہ جاری کیا کہ تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم مفت ہو گی اور سارا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔

(9) پہلے ترکی میں فی فرد آمدنی 3500 ڈالر سالانہ تھی جو 2013 میں بڑھ کر 11 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ یہ شرح فرانس کی فی فرد شرح آمدنی سے زیادہ ہے۔ اس دوران ترکی کرنسی کی قیمت میں 30 گناہ اضافہ ہوا۔

(10) ترکی کی بھرپور کوشش ہے کہ 2023 تک علمی تحقیق کے لئے 3 لاکھ اسکالرز تیار کئے جائیں۔

(11) اہم ترین سیاسی کامیابیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایردوان نے قبرص کے دونوں حصوں میں امن قائم کیا اور کرد کارکنوں کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے خون خرابے کو روکا۔ آرمینیا کے ساتھ مسائل کو سلجھایا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی فائلیں گزشتہ 9 دہائیوں سے رکی ہوئی تھیں۔

(12) ترکی میں تنخواہوں اور اجرتوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزدور کی کم از کم تنخواہ 340 لیرہ سے بڑھ کر 957 لیرہ ہو گئی ہے۔ کام کی تلاش میں پھرنے والوں کی شرح 38 فیصد سے گھٹ کر 2 فیصد پر آگئی ہے۔  

اپنے پچھلے کالم میں صدر جمہوریہ ترکی جناب طیب رجب ایردوان کی اعلیٰ کارکردگی کے بارے میں چند معلومات آپ کی خدمت میں پیش کی تھیں۔ آپ کو ترکوں کی پرانی تاریخ، سلطنت عثمانیہ کے قیام اور پہلی جنگ عظیم میں انگریز، آسٹریلین، نیوزی لینڈر فوجوں کی مصطفیٰ کمال پاشا کے ہاتھوں نہایت بُری شکست کے بارے میں بھی بتلایا تھا۔ پچھلے دنوں (جمعہ کو) صدر نے نماز مسجد آیا صوفیہ میں ادا کی اور نہایت خوبصورت لہجے میں قرأت کی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صدر ترکی حافظ قرآن ہیں اور عملی مسلمان ہیں۔ آپ ترکی (اور ملائیشیا) جائیں تو طبیعت خوش ہو جاتی ہے۔ دو نہایت ترقی یافتہ اور محبِ اسلام، صفائی، اچھا کردار، تعلیم یافتہ اور خوش اخلاق قومیں ہیں۔ خوش قسمتی سے مجھے دونوں ممالک میں کئی بار کام کے سلسلے میں اپنے رفقائے کار کے ساتھ جانا پڑا۔ ہر مرتبہ طبیعت خوش ہو جاتی تھی وہاں کے پھل اور کھانے نہایت لذیذ ہوتے ہیں۔ ترکی میں تو ریسٹورنٹ والے ہم سے کبھی بھی رقم نہیں لیتے تھے وہ کہتے تھے پاکستانی بھائی ہیں۔

آئیے آپ کی خدمت میں صدر ترکی کی چند اور کامیابیاں پیش کرتا ہوں۔ وہیں سے شروع کرتا ہوں جہاں پر ختم کیا تھا۔

(13) ترکی میں تعلیم اور صحت کا بجٹ دفاع کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ یہاں استاد کی تنخواہ ڈاکٹر کے برابر ہے۔

(14) ترکی میں 35 ہزار ٹیکنالوجی لیب بنائی گئی ہیں جہاں نوجوان ترک تربیت حاصل کرتے ہیں۔

(15) ایردوان نے 47 ارب کا بجٹ خسارہ پورا کیا اور اس کے ساتھ گزشتہ جون میں ورلڈ بینک کے قرضے کی 300 ملین ڈالر کی آخری قسط بھی ادا کر دی۔ ملکی خزانے میں 100 ارب ڈالر کا اضافہ کیا، جبکہ اس دوران بڑے بڑے یورپی ممالک اور امریکہ جیسے ملک قرضوں، سود اور افلاس کی وادی میں حیران و سرگرداں ہیں۔

(16) سال قبل ترکی کی برآمدات 23 ارب ڈالر تھیں۔ اب اس کی برآمدات 153 ارب ڈالر ہیں جو کہ دنیا کے 190 ممالک میں پہنچتی ہیں۔ ان برآمدات میں پہلے نمبر پر گاڑیاں اور دوسرے نمبر پر الیکٹرونک کا سامان ہے۔ یورپ میں بکنے والی الیکٹرونک اشیا میں ہر تین میں سے ایک ترکی کی بنی ہوتی ہے۔

(17) ترکی حکومت نے توانائی اور بجلی کی پیداوار کے لئے کوڑے کی ریسائیکلنگ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سے ترکی کی ایک تہائی آبادی مستفید ہو رہی ہے۔ ترکی کے شہری اور دیہی علاقوں کے 98 فیصد گھروں میں بجلی پہنچ چکی ہے۔

(18) ایردوان نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک بچے کے ساتھ مباحثہ میں شرکت کی جس میں ترکی کے مستقبل کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ اس بچے کی عمر 12 سال سے زائد نہیں تھی۔ ایردوان نے اس بچے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ اپنے اس عمل سے ایردوان نے ترک بچوں کو مباحثہ اور گفتگو کی ایک بہترین مثال پیش کی۔ اس سے ان بچوں کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

(19) عرب سیکولرز کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ ترکی کی دوستی کا جو شوشہ چھوڑا جاتا ہے اس کا عالم یہ ہے کہ غزہ جانے والے ماوے مرمرہ جہاز پر جب اسرائیلیوں نے حملہ کیا تو ترکی نے اسرائیل کو بھرپور طمانچہ رسید کیا۔ اور نا صرف اسے معافی مانگنے پر مجبور کیا۔

(20) سنہ 2009 میں ہونے والی دافوس اقتصادی کانفرنس میں جب اسرائیلی صدر پیریز نے غزہ پرحملے کا جواز پیش کیا اورلوگوں نے اس پر تالیاں بجائیں تو اسرائیل کے اس دوست ایردوان نے تالیاں بجانے والوں پر شدید تنقید کی اور یہ کہہ کر اس کانفرنس سے اٹھ کر گئے کہ ’’تمہیں شرم آنی چاہئے کہ ایسی گفتگو پر تالیاں بجاتے ہو! جبکہ اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں بچوں اور عورتوں کی جانیں لی ہیں‘‘۔

(21) ایردوان نے اپنے مخالفین کا سامنا واٹر کینن سے کیا۔ اس نے ان پر مگ طیاروں اور اسکڈ میزائلوں سے حملہ نہیں کیا۔

(22) انہوں نے اپنی بیٹی کے سر سے حجاب اتارنے سے انکار کیا اور تعلیم کے حصول کے لئے اسے یورپ بھیج دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ترکی کی یونیورسٹیوں میں حجاب پر پابندی تھی۔

(23) ایردوان وہ واحد شخص ہے جس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ برما کا دورہ کیا اور میانمار کے ستم رسیدہ مسلمانوں سے ملاقاتیں کیں۔

(24) دہائیوں پر محیط سیکولر دور حکومت کے بعد ایردوان نے ترکی کی یونیورسٹیوں میں قرآن اور حدیث کی تعلیم دوبارہ شروع کی۔

(25) ایردوان نے یونیورسٹیوں اور عدالتوں میں حجاب پہننے کی آزادی دی۔

(26) انہوں نے بحر اسود کے کنارے پر سب سے بڑے معلق پل پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے حروف پر مشتمل لائٹنگ کی جبکہ ایک عرب ملک نے دنیا کا سب سے بڑا کرسمس درخت بنایا جس پر 40 ملین ڈالر لاگت آئی۔

(27) ترکی نصاب میں عثمانی رسم الخط کو واپس لا رہا ہے۔ جو درحقیقت عربی رسم الخط ہے۔

(28) ایردوان نے سات سال کی عمر کے 10 ہزار بچوں کے ایک جلوس کا اہتمام کیا جو استنبول کی سڑکوں پر یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ سات سال کے ہو گئے ہیں اور اب وہ نماز اور قرآن پاک کا حفظ شروع کریں گے۔ کاش ہمارے ہاں بھی ایسا ہوتا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments