ملک کے اہم ترین مسائل میں سے بدعنوانی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے جس کے خاتمے کے لئے قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ تشکیل دیا گیا تھا۔ موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اپنی تعیناتی کے دوران کئی مرتبہ بلاامتیاز احتساب کے عزم کو دہرا چکے ہیں اس کے باوجود تاحال احتساب عدالتوں میں متعدد مقدمات زیر التوا ہیں جبکہ نیب کی کارکردگی کے حوالے سے اپوزیشن میں موجود جماعتیں ہر حکومت وقت پر سوالات اٹھاتی آئی ہیں اور سپریم کورٹ بھی نیب کے طرزِ عمل کو قانون، عدل وانصاف اور معقولیت کی مکمل خلاف ورزی کا واضح اظہار قرار دے چکی ہے۔ ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے سیکریٹری قانون کو حکم دیا تھا کہ وہ کم از کم 120 احتساب عدالتیں قائم کرنے کے لیئے حکومت سے فوری طور پر ہدایات حاصل کریں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے یہ ہدایات سال 2000 سے 1226 ریفرنسوں کے زیر التوا ہونے کے حوالے سے سامنے آئی تھیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بجائے 1226 کیسوں کے فیصلے ہونے میں ایک صدی لگ جائے نیب ریفرنسوں کا فیصلہ تیس دن میں ہونا چاہئے۔ بعد ازاں 23 جولائی کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے رولنگ کی تھی کہ کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا آغاز ہی نیب کے دفتر سے ہوتا ہے۔ قانونی پہلوئوں کا تفتیشی افسر کو پتا ہی نہیں ہوتا اور اس طرح برسوں تحقیقات چلتی رہتی ہیں۔ ریفرنس میں کوئی معیار نہیں ہوتا ایک ہی گواہ کافی ہوتا ہے لیکن یہاں پچاس پچاس افراد کو گواہ بنا لیا جاتا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ادارے سے متعلق اٹھائے گئے متذکرہ سوالات کا گیارہ صفحات پر مشتمل جو تحریری جواب جمع کروایا اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتساب میں تاخیر کا ذمہ دار عدالتی نظام ہے، عدالتیں نیب کے قانون کی بجائے ضابطہ فوجداری پر عمل کرتی ہیں۔
حکم امتناعی اور ضمانتوں میں سپریم کورٹ کے اصولوں پر عمل نہیں ہوتا، احتساب عدالتیں کم ہیں، ایک ایک عدالت میں درجنوں کیس پڑے ہیں مقدمات میں پچاس پچاس گواہ بنانا قانونی مجبوری ہے 30 روز میں کرپشن مقدمات کا فیصلہ ممکن نہیں۔ بیرون ملک سے قانونی معاونت ملنے میں تاخیر، متفرق درخواستیں پلی بارگین پر پابندی اور سیاسی شخصیات کی غلط عدالتی تشریح فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ متذکرہ تحریری جواب میں تجویز دی گئی ہے کہ مقدمات کے لئے ریٹائرڈ سیشن ججوں اور اپیلوں کے لئے ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو مقرر کیا جائے۔ دوسری طرف وزارت قانون نے بھی اپنا جواب عدالت عظمیٰ میں جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 120 نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے کے لئے دو ارب 86 کروڑ روپے کی ضرورت ہو گی حکومت نے اس کے لئے مشاورتی عمل شروع کر دیا ہے لیکن 120 نشستوں کی وزارت خزانہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے اجازت لینا ہو گی۔
متذکرہ تمام تر صورت حال کے تناظر میں عدالت عظمیٰ کا نیب کی کارکردگی کا نوٹس لینا انتہائی اہم معاملہ اور وقت کی ضرورت ہے۔ فاضل عدالت کی طرف سے طلب کیا گیا تحریری جواب موصول ہونے اور ساتھ ہی حکومتی موقف کی روشنی میں جو منظر نامہ سامنے آیا ہے اس سے سپریم کورٹ کو منطقی نتیجے تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی ان دنوں نیب کے دائرہ کار اور اختیارات کے حوالے سے قائم کی گئی قومی اسمبلی کی کمیٹی میں شامل حکومتی اور اپوزیشن ارکان سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور کمیٹی کے سربراہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی نیب سے متعلق متنازعہ قوانین بدلنے کا عندیہ دیا ہے بلاشبہ یہ سب کرپشن فری پاکستان کی ضرورت ہیں۔
0 Comments