Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع، پچاس سال بعد پراجیکٹ پر کام کا آغاز کر رہے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم ہمارے ملک کا سب سے بڑا ڈیم ہو گا‘ ڈیم کی تعمیر سے گلگت بلتستان بالخصوص چلاس میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، حکومت گلگت بلتستان سمیت ملک کے پسماندہ علاقوں اور لوگوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ 50 سال قبل بنایا گیا لیکن پروجیکٹ پر کام کا آغاز اب کیا جارہا ہے ‘ بدقسمتی سے ماضی میں قلیل المدتی فیصلے کیے گئے‘ ووٹ بینک کیلئے الیکشن سے پہلے مکمل ہونے والے منصوبے بنائے گئے‘ نوے کی دہائی میں تیل سے بجلی بنانے کے غلط فیصلے کیے گئے‘غلط فیصلوں نے ملک کو کمزور کیا‘ مشکل فیصلے کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔

درآمدی ایندھن سے بجلی پیداوار متاثر‘ صنعتیں تباہ ہوئیں‘ ہم نے ماضی میں ڈیم تعمیر نہ کر کے بڑی غلطی کی‘ سخت فیصلوں سے ماضی کی کمزور معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا‘ گلگت بلتستان کی حکومت ایس او پیز کے ساتھ سیاحت کے شعبے کو کھولے‘ چلاس کے لوگوں کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں عمران نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران دیامر بھاشا ڈیم سائٹ کا معائنہ کیا اور انہیں متعلقہ حکام کی جانب سے مذکورہ منصوبہ پر پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل فیض حمید‘چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ اور چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین بھی موجود تھے۔

علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے سکیورٹی کیلئے ضلع دیامر میں دسمبر 2020 تک پاک فوج کے 120 جوان تعینات کرنیکی منظوری دے دی۔ عمران خان کی ہدایت پر وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے منظوری حاصل کی گئی۔ اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو آگے بڑھنے کا سوچتی ہیں۔
مشکل فیصلے کرتی ہیں۔ عوامی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔ انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انصاف کی فراہمی، قانون کی حکمرانی اور صحت و تعلیم کی سہولیات پر توجہ دینے والی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں اور وہ ظلم سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ چین میں 30 سالہ منصوبے بنائے گئے‘ ماضی میں جب تربیلا اور منگلہ ڈیم بنائے گئے تو اس سے سستی بجلی پیدا ہوئی اور صنعتوں کو فروغ ملا تاہم بجلی کے منصوبوں کو ایندھن پر منتقل کرنے سے مہنگی بجلی پیدا ہوئی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں اضافہ ہوا۔

روپے پر دباؤ بڑھنے سے روپے کی قدر کم ہوئی۔ معیشت کو نقصان پہنچا، زیادہ ڈالر باہر جانے سے بھی روپے پر دباؤ بڑھا جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا۔ ہم نے مستقبل میں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی ہے۔ پاکستان ان 10 ملکوں میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے ۔ ہم نے گلوبل وارمنگ سے بچنے کے لئے 10 ارب درخت لگانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ اس منصوبے سے نوجوانوں کے لئے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments