Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

گوگل اور فیس بک ملازمین سالانہ کتنا کماتے ہیں ؟

حالیہ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں معاوضہ، کام اور ماحول کے لحاظ سے سب سے اچھی اور ٹاپ کمپنی گوگل ہے، جس کے بعد فیس بک اور مائیکروسوفٹ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔ کمپئیر ایبلی نامی کیریئر سائٹ اینالائزر ادارے کے سروے میں پچاس ہزار ملازمین نے بتایا کہ یہ وہ ٹاپ ٹیکنیکل کمپنیاں ہیں جن کے ساتھ کام کرنے کی وجہ ان کی جانب سے ملازمین کو نہایت مناسب معاوضہ دیا جانا ہے۔ اسکے علاوہ ملازمین کے اعتماد کی ایک اور وجہ دیگر فوائد جن میں سالانہ اضافہ اور سہولتیں ہیں۔ سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ان کمپنیوں میں اوسط درجے کا معاوضہ جس میں بیس اور بونس شامل ہیں وہ ایک لاکھ 34 ہزار امریکی ڈالر سالانہ ہے، جو پاکستانی روپوں میں دو کروڑ 90 روپے کے لگ بھگ ہے۔

یقیناً آپ حیران ہو جائیں گے کہ جو ملازمین گوگل یا اس جیسی دیگر ٹیک کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں انکا معاوضہ اس قدر خطیر ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی، اکانومی اور سیاست کے موضوع پر چھپنے والے ایک امریکی جریدہ وائرڈ لکھتا ہے کہ گوگل کی پیرنٹ کمپنی، الفابیٹ نے گزشتہ سال 25 فیصد اضافہ کیا تھا جوکہ ایک کروڑ 74 لاکھ روپے یا دو لاکھ 46 ہزار 804 امریکی ڈالر کے مساوی تھے، یہ ایک درجن ٹیک کمپنیوں میں سب سے زیادہ اضافہ تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق گوگل نے 2017 میں صرف اپنے نصف مخصوص ایوارڈز ادا کیے تھے۔ ملازمین کا معاوضہ اس وقت بڑھایا گیا جب کمپنی نے گزشتہ برس اپنے مکمل سائز کے ایوارڈز کا آغاز کیا۔

کمپئیر ایبلی کے سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ گوگل میں سب سے اعلیٰ معاوضے والا عہدہ ڈائریکٹر فنانس کا ہے جو کہ چھ لاکھ امریکی ڈالر سالانہ تنخواہ لیتا ہے جو کہ پاکستانی روپے میں لگ بھگ 9 کروڑ 36 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ دوسری جانب فیس بک نئے ملازمین کی تقرریوں میں لگا ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپنی کو گزشتہ برس متعدد بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کمپنی کی جانب سے جو اوسط تنخواہ ملازمین کو دی جاتی ہے اس میں پانچ فیصد کمی ہوئی اور یہ دو لاکھ 48 ہزار 430 امریکی ڈالر سے کم ہو کر دو لاکھ 28 ہزار 651 امریکی ڈالر کے مساوی ہو گئی ہے۔ جبکہ ٹوئٹر ، اسکوائر، ورک ڈے اور این ویڈیا جیسی ٹیک کمپنیوں نے 2018 میں اوسط درجے کے ہر ملازمین کو ایک لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ سالانہ معاوضہ دیا۔

کمپنیوں کے لیے میڈن پے یا اوسط تنخواہ کی رپورٹ کے حوالے سے جو قانون متعارف کروایا گیا ہے، اس میں آمدنی میں تفاوت اور کارپوریٹ ایکسس کے فرق کو واضح کرنا ہوتا ہے۔ گوکہ دوسری کمپنیوں کو اپنی اوسط تنخواہ کے حوالے سے گزشتہ برس سے رپورٹ کرنا پڑ رہی ہے لیکن ٹیک کمپنیوں کا یہ دوسرا موقع ہو گا کہ انھیں یہ رپورٹ دینا پڑ رہی ہے۔ اس میں نہ صرف کمپنیوں کے ان اعلیٰ ترین پوزیشنوں کے معاوضے کو ظاہر کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ان ہزاروں کم تنخواہ پانے والے ورکروں کی آمدنی بھی بتانا ہو گی جنکی آمدنی سنگل ڈیجٹ پر مبنی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments