دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کے شکست کے بعد برلن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ان دونوں حصوں کو ایک دیوار جدا کرتی تھی جو کئی دہائیوں تک دونوں طرف کے شہریوں کے درمیان حائل رہی۔ مشرقی حصہ سوویت فوج کے زیراثر رہا، جبکہ مغربی حصہ امریکی فوج کے زیر کنڑول تھا لیکن مشرقی و مغربی برلن کے سرحد پر تناؤ کی صورتحال تھی اورامریکی اور سوویت افواج تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑیں تھیں۔ 1961ء میں مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ حکومت نے ’’دیوار برلن‘‘ تعیمر کی جس نے آئیڈیلوجی کے ساتھ ساتھ خاندانوں، دوستوں اور ہمسایوں کو بھی جدا کر دیا۔
’’میں ایک برلینر ہوں‘‘ یہ الفاظ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے برلن کے باشندوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہے جو پوری مغربی دنیا کے احساسات کی ترجمانی کرتے تھے۔ سرد جنگ کی کشمکش اور دو بڑے طاقتور ممالک کے زیراثر رہنے کی وجہ سے شہر کے دو مختلف چہرے ہیں۔ مغربی جرمنی کی حکومت نے بڑے پیمانے پر مغربی برلن میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جس کے نتیجے میں یہ جدید سہولتوں سے آراستہ ایک ترقی یافتہ شہر بن گیا۔ یہاں کے پوش علاقے چارلوٹنبرگ اور ولمرز ڈورف کا شمار جرمنی کے مہنگے ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ کرفرسٹنڈام نامی شاہراہ خرید و فروخت کے حوالے سے مشہور ہے اور جنوبی علاقے میں واقع ’’وان زے‘‘ نامی جھیل اور ’’قیصر ولیم چرچ‘‘ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔
دیوار برلن کا انہدام نو نومبر1989ء کا دن جرمنی کی تاریخ میں ایک یادگار دن ہے۔ اس دن سرد جنگ کی یادگار دیواربرلن کو گرا دیا گیا۔ مشرقی برلن کے باشندوں کے احتجاجی مظاہروں اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث مشرقی جرمنی کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اس طرح جرمنی کے لاکھوں باشندوں کا خواب تکمیل کو پہنچا۔ اس رات دیوار برلن کے تمام دروازے کھول دئیے گئے۔ اس موقع پر بےشمار جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ ہزاروں لوگ اپنے عزیزوں اور پیاروں سے ملے اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ آج جرمنی کا یہ دارالحکومت ایک جدید شہر کے روپ میں بین الاقوامی منظر نامے پر نمودار ہو چکا ہے۔
دیوار برلن کے انہدام کے فوری بعد پورے ملک سےماہر تعمیراتی یہاں لائے گئے اورایک طویل عرصے تک تعمیراتی کرینں اور بلڈوزر یہاں نظر آتے رہے۔ شہر کا مرکز ’’پوسڈامر پلاٹز‘‘ نئے سرے سے تعمیر کیا گیا ہے جو کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران مکمل تباہ ہو گیا تھا۔ آج یہاں بلند وبالا عمارتیں اور کثیرالمنزلہ شاپنگ پلازہ اس شہر کی پہچان بن چکے ہیں اور بین الاقوامی سطح پربھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
0 Comments