Pakistan Affairs

6/recent/ticker-posts

اسرائیل کو صیہونی ریاست قرار دینے کا بل منظور

اسرائیل کی پارلیمان نے اسرائیل کو خصوصی طور پر صیہونی ریاست کا درجہ دینے کا قانون منظور کر لیا۔ منظور کیے گئے صیہونی ریاست کے اس بل میں عربی کو سرکاری زبان مقرر کیا گیا ہے جبکہ یہودی بستیوں کی آبادکاری کو قومی مفاد کا حصہ قرار دیا ۔ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق منظور کیے گئے قانون میں پورے یروشلم کو متحدہ طور پر اسرائیل کا دارلحکومت گردانا گیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے اس اقدام کی عرب اراکین کی جانب سے مذمت کی گئی تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسے تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکومت نے یہ بل پیش کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل یہودی قوم کا تاریخی وطن ہے، اور یہاں انہیں قومی خود مختاری کا خصوصی حق حاصل ہے‘۔ بعد ازاں اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیست‘ میں 8 گھنٹے تک جاری رہنے والی گرما گرم اجلاس کے بعد یہ بل منظور کیا گیا جس کے حق میں 62 اور مخالفت میں 55 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ دیا۔
واضح رہے کہ بل میں موجود کچھ نکات اسرائیلی صدر اور اٹارنی جنرل کے اعتراض پر حذف کر دیے گئے، جس میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ اسرائیل کو صرف یہودیوں پر مشتمل کمیونٹی قرار دیا جائے۔

یہاں یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی آبادی کا 20 فیصد حصہ اسرائیلی عرب پر مشتمل ہے، جنہیں قانون کے تحت برابری کےحقوق حاصل ہیں، لیکن ان کی جانب سے طویل عرصے سے دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت ملنے کی شکایات کی جاتی رہی ہیں۔ اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے عرب رکن پارلیمنٹ احمد طبی نے صیہونی ریاست قرار دینے کے اس بل کی منظوری کو جمہوریت کی موت قرار دیا۔ دوسری جانب ایک عرب غیر سرکاری تنظیم کی رکن ادالہ کے مطابق اس قسم کے نسل پرستانہ قوانین متعارف کروانا نسلی برتری قائم کرنے کی کوشش ہے۔
 

Post a Comment

0 Comments