Header Ads

Aliexpress INT
Breaking News
recent

ٹرمپ کا شمالی کوریا کے جنرل کو انوکھا سلیوٹ

شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی وژن نے دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے ایک جنرل کے درمیان سلام اور مصافحے کے مناظر نشر کیے تھے جس کے بعد امریکا میں "میڈیا" تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس مختصر وڈیو کلپ میں ٹرمپ نے پہلے شمالی کوریا کے مسلح افواج کے وزیر نو کوان چول کی طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تاہم شمالی کوریا کے جنرل نے ہاتھ ملانے کے بجائے انہیں فوجی سلیوٹ کیا۔ اس پر ٹرمپ کے پاس بھی جوابی سلیوٹ کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اس کے فوری بعد جنرل چول نے مصافحے کے لیے ٹرمپ کی جانب ہاتھ بڑھا دیا جس پر امریکی صدر یک دم بوکھلا گئے اور اس بوکھلاہٹ اور شرمندگی کو کیمروں کی آنکھ نے بھی محفوظ کر لیا۔

اس حوالے سے ٹرمپ کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ عام سی بات تھی اور اس میں کوئی شرمندگی کی بات نہیں۔ دوسرے جانب بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ "بوکھلاہٹ" پر مبنی عجیب سا منظر تھا۔ علاوہ ازیں اس بات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر نے ایک ایسی حکومت کے جنرل کو سلیوٹ کیا جو "کریک ڈاؤن" کی پالیسی کے سبب معروف ہے۔ دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے تبصرہ کرتے ہوئے باور کرایا کہ امریکی صدر کا تصرّف طبعی اور مماثل تھا۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے 12 جون کو سنگاپور کے جزیرے سینتوزا میں شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن سے تاریخی ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم دستاویز پر دستخط بھی کیے گئے۔ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کا عزم بھی سامنے آیا۔

دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ


 

No comments:

Powered by Blogger.