جاپان کے وزیراعظم شن زو آبے کو اسرائیلی وزیراعظم کے گھر پر جوتے میں میٹھا پیش کرنے کی تصاویر نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی تہذیب وثقافت میں جوتے کو انتہائی ہتک آمیز تصور کیا جاتا ہے ، تو کیا اسرائیلی وزیر اعظم نے جاپانی ہم منصب سے سفارتی آداب سے ہٹ کر رویہ برتا ہے؟
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے جاپانی وزیراعظم آبے اور ان کی اہلیہ کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے اپنی رہائش گاہ پر عشائیے پر مدعو کیا، جس کے آخر میں دھات کے بنے جوتوں میں میٹھا پیش کیا گیا ، شن زو آبے نے یہ میٹھا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کھا لیا لیکن اس بات کو جاپان کے سفیروں نے پسند نہیں کیا۔ جاپان کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں اور سفارتکاروں نے اس اقدام پر حیرت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اسے اسرائیل کا انتہائی غیر حساس اور احمقانہ فعل قرار دیا ہے کیونکہ جاپان میں جوتے سے کم اہمیت کی کوئی چیز کا تصور بھی موجود نہیں، جاپانی اپنے گھروں بلکہ اپنے دفاتر میں بھی جوتے اتار کر داخل ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جاپانی وزیراعظم و دیگر وزرار اور اراکین پارلیمان بھی اپنے دفاتر میں جوتے پہن کر نہیں جاتے، اسرائیلی وزیراعظم کے عشائیے میں کیا گیا اقدام بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی یہودی مہمان کو خنزیر کی شکل کے برتن میں کھانا پیش کیا جائے۔ ایک جاپانی سفارتکار نے يدیوٹ اخرانوٹ سے بات کرتے ہوئے کہا 'کسی بھی ثقافت میں جوتے کو میز پر نہیں رکھا جاتا، اس عمل کو انجام دینے والے کے ذہن و دل میں کیا تھا ؟ اگر یہ مذاق تھا تو ہمیں یہ اچھا نہیں لگا، ہم اپنے وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی پر ناراض ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم اور جاپانی ہم منصب کے عشائیے کی تصاویر اور غیر سفارتی رویہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر زیر بحث ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کو بیت المقدس میں اپنے سفارتی دفاتر کھولنے پر راضی کرنے میں کوشاں اسرائیلی وزیراعظم کے اس اقدام کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔
0 Comments