Header Ads

Booking.com WW
Breaking News
recent

ترکی اور اسرائیل میں ’لفظی اور سفارتی جنگ‘

ترکی اور اسرائیل اس وقت ’اینٹ کا جواب پتھر‘ سے دینے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے سفیروں کو ملک چھوڑنے کے احکامات دیے ہیں اور دونوں ممالک میں لفظوں کی ’شدید جنگ‘ جاری ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز ترکی نے ملک میں تعینات اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑنے کے احکامات دیے تھے۔ اس سے قبل ترکی نے تل ابیب میں تعینات اپنے سفیر کو بھی مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے یروشلم میں موجود ترک قونصل کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

دریں اثناء اسرائیل نے آج ترک سفیر کے قائم مقام نمائندے کو طلب کرتے ہوئے اپنے سفیر کے ساتھ ’غیر مناسب رویہ‘ اختیار کرنے پر احتجاج کیا ہے۔ ترک میڈیا پر اسرائیلی سفیر کی ایک ایسی ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں ملک چھوڑنے سے پہلے ان کی سخت انداز میں تلاشی لی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہاں میڈیا کے لوگ پہلے سے ہی موجود تھے اور یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو بھی ٹوئٹر پر سخت الزامات اور الفاظ کا تبادلہ کر چکے ہیں۔

ترک صدر ایردوآن کا کہنا تھا، ’’اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے، وہ نسل کُشی ہے۔’’ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ترک صدر کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ایردوآن حماس کے ایک بڑے حامی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دہشت گردی اور قتل و غارت میں مہارت رکھتے ہیں۔‘‘ رجب ایردوآن غزہ کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں کے بڑے ناقدین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے آئندہ جمعے کے روز اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا ایک ہنگامی اجلاس بھی بلایا ہے، جس میں دنیا کو غزہ کے حوالے سے ایک ’طاقتور پیغام‘ دیا جائے گا۔

بشکریہ DW اردو
 

No comments:

Powered by Blogger.