Header Ads

Booking.com WW
Breaking News
recent

ٹرمپ ’مافیا کے سرغنہ’ کی طرح وائٹ ہاؤس چلاتے ہیں، جیمز کومی

امریکا کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی مافیا کے سرغنہ کی طرح کام کرتے ہیں، جو اپنے لیے مکمل وفاداری چاہتا ہے، جسے لگتا ہے ساری دنیا اس کے خلاف ہے اور جو ہر بات میں جھوٹ بولتا ہے۔ یہ وہی کومی ہیں جنہیں گزشتہ برس مئی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ اپنی کتاب میں انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ اپنے بنائے ہوئے خول میں قید رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی گھسیٹ کے اس میں لے جانا چاہتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کتاب اگلے ہفتے عوام کے لیے پیش کر دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ سے اپنی ملاقاتوں کو دہراتے ہوئے جیمز کومی نے لکھا کہ ’منظوری کا منتظر ایک خاموش ماحول، تمام تر طاقت کا حامل سربراہ، وفاداری کا حلف، ہر بات کے بارے میں جھوٹ، پوری دنیا ایک طرف ہم ایک طرف والا رویہ، ادارے کے قواعد و ضوابط سے بالا صرف وفاداری کا یقین دلانا، ملازمت کے شروع میں ایسا لگتا تھا جیسے میں کسی ہجوم کے خلاف وکالت کرتا ہوں۔ کومی کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شروع سے ہی صحیح اور غلط کی تمیز نہیں ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق جیمز کومی نے نے لکھا ہے کہ ’امریکی صدر ایک بداخلاق شخص ہیں جنہیں اخلاقی اقدار کی کوئی پرواہ نہیں، ان کی سربراہی صرف لین دین کے فلسفے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے مکمل وفاداری پر بنی ہوئی ہے۔‘

اعلیٰ وفاداری
اے ہائیر لائلٹی : ٹروتھ، لائیز اینڈ لیڈر شپ کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب کی اشاعت نے وائٹ ہاؤس میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ ریپبلکن اسٹیبلشمنٹ بھی پہلے سے مشکلات میں گھرے ڈونلڈ ٹرمپ کی پریشانیوں میں متوقع اضافے پر فکرمند ہے۔ کتاب کے اقتباسات سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جیمز کومی کی کردار کشی کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں، تاکہ عوام پر کتاب کا اثر نہ ہو پائے۔ اس سلسلے میں ریپبلکن پارٹی نے رواں ہفتے ایک ویب سائٹ کا بھی اجرا کیا جس کا عنوان ہے جھوٹے کومی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جیمز کومی کوئی معمولی شخصیت نہیں، بلکہ تین صدور کے ادوار میں ایف بی آئی کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور واشنگٹن میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن حلقوں میں مشہور ہیں۔ گزشتہ برس جیمز کومی نے انکشاف کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر، صدر کے سابق مشیر قومی سلامتی مائیک فلن سے جاری تفتیش ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور وفاداری کا ثبوت طلب کیا۔ بعد ازاں امریکی صدر نے 9 مئی کو جیمز کومی کو برطرف کر دیا تھا جو انتخابات میں روسی مداخلت پر تحقیقات کر رہے تھے۔

اس واقعے کے ایک ہفتے بعد امریکی شعبہ انصاف نے رابرٹ ملر کو اس تفتیش کے لیے مقرر کر دیا تھا، جنہوں نے تمام تر رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اب تک 19 افراد پر فرد جرم عائد کی جس میں ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی شامل ہیں۔ تاہم مذکورہ کتاب میں روس کے ساتھ روابط کی تحقیقات کے بارے میں کوئی خاص بات نہیں کی گئی کیونکہ جیمز کومی، رابرٹ ملر سے جاری حساس نوعیت کی تفتیش کی رازداری کے پابند ہیں، جسے ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی جھوٹ کا پلندہ قرار دے چکے ہیں۔
 

No comments:

Powered by Blogger.