Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان میں آبی بحران دستک دے رہا ہے

پاکستان میں آبی بحران سنگین ہو گیا۔ تربیلا اور منگلا ڈیمز میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی۔ پانی کے حالیہ بحران سے گندم کے پیداواری ہدف کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔ پنجاب کو پانی کی فراہمی میں 60 فیصد جبکہ سندھ کو پانی کی فراہمی میں 70 فیصد شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک بھر میں پانی کی قلت میں مسلسل اضافہ مستقبل میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ آبی ماہرین کہتے ہیں پاکستان میں پانی کی قلت سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے سبب ملکی سیکیورٹی، استحکام اور ماحولیاتی پائیداری خطرے کا شکار ہے۔

حال ہی میں واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان دنیا کے آبی وسائل کی شدید قلت کے شکار 15 ممالک میں شامل ہے اور پانی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان کا چوتھا نمبر ہے جبکہ پاکستان کی پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی کم ہے۔ پاکستانی زرعی ملک ہے جہاں 60 فیصد سے زائد کھیتوں میں پانی بذریعہ ٹیوب ویل ،موٹر یا پمپوں کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق کسی بھی ملک کی مجموعی پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے کم ازکم 120 دنوں کا پانی ذخیرہ ہونا چاہیے لیکن پاکستان کے ساتھ صرف 30 دنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔


دوسرے لفظوں میں بات کی جائے تو پاکستان اپنے دستیاب آبی وسائل کا صرف 7 فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ تناسب 40 فیصد ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پوری دنیا میں سب سے کم ہے۔ پاکستان اپنے دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کر کے سالانہ 30 سے 35 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے۔ پانی کی کمی کے سبب قابل کاشت رقبہ کاشت نہیں ہو پاتا جو رقبہ کاشت ہوتا ہے اس کا بیشتر حصہ سیلاب یا خشک سالی کی نظر ہو جاتا ہے۔ آبی ماہرین کہتے ہیں دریاؤں، زیرزمین پانی، بارش کے پانی اور پہاڑوں سے آنے والے پانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے تاکہ کم ہوتے پانی کے وسائل کا درست استعمال ممکن ہو سکے۔

ان کے مطابق پاکستان پانی کی قلت کا شکار ملک بنتا جا رہا ہے تاہم اسٹیک ہولڈرز اور بالخصوص پالیسی سازوں میں اس بڑھتے ہوئے خطرے کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ سماجی اور معاشی شعبوں میں اس کے متوقع بدترین اثرات دیکھنے سے بھی قاصر ہیں۔ واپڈا حکام بشمول سابق چیئرمین شمس الملک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جبکہ اس وقت پاکستان میں آبی ذخائر سے متعلق کوئی پالیسی موجود نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر ضروری ہے اور مہمند اور دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع نہ کی گئی تو ملک میں شدید آبی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے وزیر توانائی اویس لغاری حال ہی میں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ بد قسمتی سے ملک کی کوئی واٹر پالیسی نہیں جبکہ پاکستان کو بڑے آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا تھا کہ 2025 تک پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی جس سے پانی کی طلب میں مزید اضافہ ہو گا۔ ملک بھر میں پانی کی ایک بڑی مقدار بے دردی سے ضائع کر دی جاتی ہے۔ پانی کے تحفظ کا معاملہ قومی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا۔

ان کے مطابق پانی کے کم ذخائر کے باعث پاکستان صرف 10 فیصد پانی استعمال ہوتا ہے اور باقی سمندر کی نذر ہو جاتا ہے حالانکہ پانی ذخیرہ کرنے کا عالمی معیار 40 فیصد ہے۔ آبی ماہر محمد طاہر انور کا کہنا تھا کہ گذشتہ 20 برس سے مختلف آبی منصوبوں سے متعلق بات کی جا رہی ہے مگر اس حوالے سے عملی طور پر آج تک کچھ نہیں ہوا۔ اگر صورت حال یہ ہی رہی تو مستقبل میں پاکستان کو سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بشکریہ وائس آف امریکہ
 

No comments:

Powered by Blogger.