Header Ads

Breaking News
recent

آمنہ کی تلاش : مسلسل جہدو جہد کے بارہ سال

آمنہ کی کہانی،،،.ان کی زبانی
اپنے شوہر مسعود کی بازیابی کے لیے میری جہدوجہد کو بارہ سال ہو گئے ہیں. پوری ایک دھای سے زیادہ کا عرصہ ھو گیا ھے. گویا بارہ سال کا غم ایک لمحے میں سمٹ آیا. مگر آج بھی کسی خفیہ قید خانے میں ہیں. بارہ سال درد کی ایک ٹھیس جیسے پہلے کبھی نہیں تھی. درد کے اس حساس نے میری روح کو جلا کر راکھ کر دیا ھے. مگر اپنی ہی راکھ سے گویا دوبارہ پیدا ھو کر میں ایک نئے ارادے جزبے اور جرات سے آشنا ھوئی ھوں. میرا ایمان ھے ان شاہ اللہ یہ کالی رات ایک دن ختم ھو گی میرا شوہر مجھے مل جاے گا.

میراشوہر کا تعلق رولپنڈی سے ھے.ان کے والد آرمی سے کرنل کے رینک سے فارغ ھوے تھے، مسعود راولپنڈی کے تعلیمی اور کاروباری حلقوں کی ایک معروف شخصت تھے، وہ ایک شفیق باپ اور بے مثل شوہر اور اپنے بوڑے ماں باپ کے فرمابردار بیٹا تھے. سچا محب وطن اور قوم کی تعمیر کے جذبے سے سرشار تھے. 30 جولای 2005 سے ان کو جبری اغوا کیا گیا. میں نے آج تک ایک دن بھی آرام نہیں کیا. میں طاقت کے ایوانوں کا ہر دروازہ کھکھٹایا. مقدمے کیے. وکیل کی طرح لڑی ہزروں مظاہرے ریلیاں نکالی اور دھرنے دے چکی ھوں.

اقوام متحدہ کے ہیومن رایٹس کولسل میں بھی خطاب کیا میں نے مسعود اور دوسرے جبری گمشدہ افراد کی باریابی کے لیے دنیا بھر کا سفر کیا اور انسانی حقوق کے علم برداروں کے ضمیر کوجنجھوڑا . مسعود کی باریابی کی جہدوجہد بارہ سال داستان کا اختتام نہیں ھے بلکہ یہ ایک نئی شروعات ھے . اگر آپ نے کسی دل سے چاہا ھے تو میرے جذبات اور درد کو سمجھ سکتے ہیں. میری سب پاکستانیوں سے استدھا آپ ایک جبری طور پر جدا کہے گھے خاندان کے لیے آواز اٹھائیں آپ کی سچای اور اخلاق سے بھرپور آواز دور تک حکمرانوں کے ایوانوں تک جاے گی،، اور ایک بکھرے ھوے خاندان کو اکٹھا کرنے میں مدد گار ھو گی.
،،،،،،،،،،،،،،قوم کی بیٹی کا سوال،،
،،،سب پاکستان کے نام،،،

آمنہ مسعود جنجوعہ 

چیرپرسن ڈیفنس آف ہیومن رایٹس
 

No comments:

Powered by Blogger.