Header Ads

Breaking News
recent

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دیے جانے کا تحریکِ کشمیر پر کیا اثر پڑے گا ؟

امریکہ نے انڈین وزیرِ اعظم کے دورۂ امریکہ کے موقع پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو ’خصوصی طور نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں کشمیر کے تنازعے کے کسی پرامن حل کا راستہ روکنے اور وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ امریکہ کے اس اقدام کے کشمیر میں جاری ہند مخالف تحریک پر تین اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

1۔ کشمیری عسکریت گلوبلائز ہو سکتی ہے
حزب المجاہدین، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی مسلح تنظیم ہے۔ حزب نے 27 سال کے دوران کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری چاہتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ کی لہر سے اعلاناً فاصلہ بنائے رکھا۔ گذشتہ چند برس سے بعض کشمیری مظاہرین دولت اسلامیہ یا داعش کا پرچم لہرانے لگے تو صلاح الدین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ داعش نوازی کی لہر سے دُور رہیں۔ اس موقف کی وجہ سے کشمیرمیں سرگرم حزب المجاہدین کے بعض کمانڈر صلاح الدین سے ناراض بھی ہوئے۔

فی الوقت حزب کے معروف کمانڈر ذاکر موسی تو حزب سے اسی بات پر ناراض ہیں کہ کشمیر کی تحریک سیاسی نہیں اسلامی ہے اور مزاحمتی مظاہروں میں پاکستانی نہیں اسلامی پرچم لہرانا زیادہ مناسب ہے۔ صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اُٹھا سکتے ہیں اور کشمیری مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت کے خطوط پر اُستوار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک ، جس کا ابھی تک کردار بھی مقامی ایجنڈا بھی مقامی رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک گلوبلائزڈ جہادی نیٹ ورک کا حصہ بننے میں ہی عافیت سمجھے۔

2۔ حکومت ہند کو شورش دبانے کی چھوٹ ملے گی
ظاہر ہے کشمیر میں مسلح شورش کو دبانے کی کاروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں۔ چونکہ کشمیر کی مسلح مزاحمت کا کردار مقامی اور لہجہ قانونی تھا اس لیے امریکہ اور یورپ کے اداروں نے انڈیا پر نکتہ چینی بھی کی۔ خطے کی سب سے پرانی اور بڑی مسلح تنظیم کے سربراہ کو جب عالمی سطح کا مطلوب دہشت قرار دیا جاتا ہے تو انڈیا کی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کا ہی ضمنی مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلح گروپ ’عالمی جہاد‘ کے نام پر سرگرم ہوں گے، اور دوسری طرف انڈین کارروائی کو عالمی جواز حاصل ہو گا۔

گذشتہ دنوں فوج کے سابق ایک کمانڈر وجے اوبرائے نے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور ان کی حمایتی بستیوں پر فضائی بمباری کی تجویز پیش کی تھی۔ ابھی تک ایسا اس لیے نہیں ہو رہا تھا کہ عالمی ادارے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھیں گے، کیونکہ حزب المجاہدین نہ صرف اقوام متحدہ اور امریکہ کا وجود تسلیم کرتی ہے بلکہ ان ہی سے رائے شماری کے انعقاد کی خاطر مداخلت کی اپیل کرتی رہی ہے۔ لیکن جب حزب المجاہدین ہی طالبان یا القاعدہ اور داعش کے ہم پلہ قرار پائے گی تو ایسی کاروائیوں کے لیے حکومت ہند کو سفارتی اور قانونی جواز مل سکتا ہے۔

3۔ حریت کانفرنس کی مشکلیں
علیحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ مسلہ کشمیر کا ’پُرامن‘ حل چاہتی ہے لیکن عوامی سطح پر وہ عسکریت پسندوں کی ’شہادت‘ کو تحریک کا عظیم سرمایہ قرار دیتی ہے اور تصادموں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے جنازوں میں حریت کے رہنما شرکت کرتے ہیں۔ اس طرح حریت کانفرنس کو یہاں کی مسلح تحریک کے ساتھ ایک ’آرگینک‘ رشتہ رہا ہے لیکن امریکی محکمۂ خارجہ کے اعلان سے اب حریت بھی محتاط رویہ اپنانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ ان تین فوری نتائج کے باوجود بعض حلقے کہتے ہیں کہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنا انڈین وزیراعظم کے لیے ٹرمپ کی ’ٹوکن رعایت‘ ہو سکتی ہے جو انھیں دو سے تین ارب ڈالر مالیت تک اسلحہ کی خریداری ڈیل کے عوض دی جائے گی۔

تجزیہ نگار شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’انڈیا کو توقع تھی کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کر کے اسلام آباد کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کرے گا، چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔‘ صحافی اشفاق تانترے کہتے ہیں: ’صلاح الدین کو اُس فہرست میں نہیں شامل کیا گیا جہاں پاکستان پر انھیں انڈیا کے سپرد کرنے کی پابندی ہو۔ اور پھر محکمۂ خارجہ کے بیان میں کشمیر کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کہا گیا ہے جو امریکہ کی طرف سے کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔‘

کچھ حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک میں مغرب بیزاری کا عنصر موجود ہی نہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار شیخ ادفر کہتے ہیں: ’کافی کوششیں کی گئیں کہ کشمیر میں امریکہ اور مغرب کے خلاف بیزاری کی لہر پیدا ہو، لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ وہ اپنی فریاد لے کر مغرب کا ہی دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ لیکن اس اعلان کے بعد ہو سکتا ہے کہ ایک نیا اور خطرناک تحریکی بیانیہ سامنے آئے۔‘
 

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

No comments:

Powered by Blogger.