Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان ریلوے

پاکستان ریلوے کا پہلا نام
پاکستان ریلوے کا پہلا نام نارتھ ویسٹرن ریلوے تھا ۔ فروری 1961ء میں ریلوے کا نیا نام پاکستان ویسٹرن ریلوے اور سقوط مشرقی پاکستان کے بعد مئی 1974ء میں پاکستان ریلوے رکھا گیا۔ پاکستان ریلوے کا قیام 1861ء میں کراچی اور کوٹری کے درمیان عمل میں آیا تھا۔ اس کے کل سات ڈویژن کراچی‘ سکھر‘ ملتان‘ کوئٹہ‘ لاہور اور پشاور کے علاوہ مغل پورہ لاہور میں ریلوے ورکشاپ تھی۔ پاکستان ریلوے کا جال پورے ملک کے 877487 کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے 907 ریلوے اسٹیشن اور 77 ٹرین ہالٹ ہیں۔ ریلوے پاکستان کا ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ ڈیفنس کے بعد اس کا دوسرا نمبر ہے اس کے ملازمین کی تعداد 133214 ہے۔ 

1984ء میں اس کے پاس 914 ریلوے انجن تھے جو 1989ء میں کم ہو کر 773 رہ گئے کراچی‘ ملتان‘ پشاور‘ سیالکوٹ‘ کوئٹہ‘ لاہور‘ راولپنڈی اور سکھر میں ریلوے کی خشک گودیاں ہیں۔ ریلوے کے پہلے جنرل منیجر ریلوے کے پہلے جنرل منیجر مسٹر ایف ایم خان تھے ان کا تقرر 2 اگست 1947ء کو ہوا۔ ریلوے لائن موجودہ پاکستان میں ریلوے پٹڑی مردان اور چارسدہ کے مابین بچھائی گئی اس کا درمیانی فاصلہ 17 میل ہے۔ مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں پہلی ریلوے لائن کا اجراء جیسور اور دارسنا کے مابین اپریل 1951ء میں ہوا اس کا کل فاصلہ 43.25 میل ہے۔

 بھارت اور پاکستان کے مابین ریلوے رابطہ
پاکستان اور بھارت میں پہلا رابطہ یکم اگست 1955ء کو حیدرآباد (پاکستان) اور مونابائو (بھارت) کے درمیان براہ راست قائم ہوا اس ریلوے سروس کے ذریعے ایک براہ راست کوچ حیدرآباد اور اجمیر کے درمیان چلائی گئی۔

پہلے طویل ترین ریلوے رابطہ کی تکمیل
14 اپریل 1973ء کو ریلوے حکام نے کوٹ ادو ڈیرہ غازی خان‘ کشمور ریل رابطے کی تکمیل کا اعلان کیا گیا۔ 190 میل کا یہ سیکشن تقریباً 14 کروڑ روپے کی لاگت سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔

سرکلر ریلوے
پاکستان میں پہلی سرکلر ریلوے کراچی میں تعمیر کی گئی اس کے پہلے مرحلے کی تعمیر میں ڈرگ کالونی جنکشن اور وزیر مینشن کے مابین ریلوے اسٹیشن شامل کئے گئے تھے اس کی لمبائی 17.60 میل ہے اور اس پر تین کروڑ روپے خرچ ہوئے سرکلر ریلوے کے اسٹیشنوں کی تعداد 13 تھی اس میں 25 پھاٹک ،6 بڑے اور 37 چھوٹے پل بھی شامل تھے اس کا افتتاح مغربی پاکستان کے وزیر تعمیرات مواصلات نے 10 نومبر 1964ء کو کیا۔ انہوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ حکومت کے دیگر کارناموں کی طرح سرکلر ریلوے کی تعمیر بھی صدر ایوب کی قابل قدر قیادت اور عوام کی فلاح و بہبود ہے گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان کی دلچسپی کی مرہون منت ہے۔ 

بیرون ملک پھل لے جانے والی پہلی گاڑی
برآمدی اشیاء لے کر ایران جانے والی گاڑی پاکستان کی پہلی گاڑی تھی جو30 ڈبوں پر تین لاکھ روپے کی مالیت کے کنو لے کر 12 مارچ 1973ء کو ایران گئی۔ 

ریلوے پلیٹ فارم ٹکٹوں کی بذریعہ کمپیوٹر فروخت
21 مئی 1974ء کو پاکستان ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار ریلوے پلیٹ فارم پر ٹکٹوں کی فروخت کمپیوٹر کے ذریعے شروع ہوئی پلیٹ فارم ٹکٹ کی عبارت یہ تھی PWR PLATE FORM TICKET LAHORE CITY VALID 2 HOURS تھوڑا سا فاصلہ چھوڑ کر اس پر وقت کا اندراج اس طرح کیا گیا 18:00,Time اس کے نیچے ٹکٹ کی قیمت اور ٹکٹ کا نمبر درج تھا۔  

زاہد حسین انجم

No comments:

Powered by Blogger.