Header Ads

Breaking News
recent

دنیا کی بے حسی کا شکار شامی بچے

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ سنہ 2016 شام کے بچوں کے لیے بدترین سال رہا کیونکہ شام میں جاری جنگ کے دوران سب سے زیادہ بچے اسی سال ہلاک ہوئے ہیں۔ ادارے نے بتایا کہ گذشتہ سال کم از کم 652 بچے ہلاک ہوئے اور ان میں سے 255 بچے سکول یا اس کے پاس مارے گئے۔ یہ تعداد 2015 میں مارے جانے والے بچوں سے 20 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مصدقہ اموات کا ہی ذکر کیا گیا ہے تاہم یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یونیسیف نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ گذشتہ سال 850 سے زیادہ بچوں کو لڑنے کے لیے بھرتی کیا گیا ہے اور یہ تعداد سنہ 2015 کے مقابلے دگنی ہے۔ بھرتی کیے جانے والے بچوں کو عام طور پر محاذ پر لڑنے کے لیے بھیجا گیا اور بعض معاملات میں انھیں پھانسی دینے والے، خودکش حملہ آور اور جیل کے محافظوں کے طور پر بھی استعمال کیا گيا۔
شام کی خانہ جنگی اپنے چھٹے سال میں داخل ہو چکی جس کی وجہ سے وہاں کے تقریبا 60 لاکھ بچے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد پر منحصر ہیں.
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے ڈائریکٹر گیرٹ کیپیلارے نے شام کے شہر حمص میں بتایا کہ ’شامی بچوں کی تکالیف کی کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔ شام میں لاکھوں بچے روزانہ ہونے والے حملوں کی زد میں ہیں اور ان کی زندگی برباد ہو چکی ہے۔‘ شام کی خانہ جنگی اپنے چھٹے سال میں داخل ہو چکی جس کی وجہ سے وہاں کے تقریباً 60 لاکھ بچے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد پر منحصر ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ان میں سے 23 لاکھ بچے تو ملک سے باہر نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن 28 لاکھ بچوں کو سب سے زیادہ سنگین صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ وہ دور افتادہ کے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے پونے تین لاکھ سے زیادہ تو محصور علاقوں میں ہیں۔

گیرٹ کیپیلارے نے مزید کہا: ’صحت، دیکھ بھال اور مستقبل کے حوالے سے ہر ایک بچے کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔‘ گذشتہ ہفتے فلاحی ادارے سیو دا چلڈرن نے متنبہ کیا تھا کہ لاکھوں بچے ’زہریلے دباؤ‘ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس خیراتی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ان کی فوری مدد نہیں کی گئی تو انھیں اس سے نکالنا مشکل ہو گا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو تہائی بچے کسی نہ کسی اپنے سے محروم ہو گئے ہیں، یا ان کے گھر بمباری اور شیلنگ کی زد میں آئے ہیں یا پھر وہ جنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.