Header Ads

Breaking News
recent

جنگ ویت نام کچھ نئے حقائق

امریکہ اور جاپان کی دوستی دنیا میں ایک مثال ہے۔ ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے جب اسی جاپان کے خوبصورت شہر ناگا ساکی اور ہیرو شیما ایٹم بم کا نشانہ بنے تھے حال ہی میں’’ نیشنل انٹرسٹ ‘‘نامی ایک ادارے نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کو جنگ ویٹ نام میں دھکیلنے والا کوئی اور نہیں، اس کا آج کا دوست جاپان ہی تھا۔ اس ادارے نے تاریخی حقائق پر مبنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جاپان نے ویٹ نام کے ساتھ ساتھ کمبوڈیا اور لائوس کو بھی زیر نگیں کر لیا تھا۔ یہ علاقے قبل ازیں فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کا حصہ تھے۔ برٹش رائل نیوی بھی اس نوآبادیاتی نظام کی حفاظت پر مامور تھی جس کا واحد مقصدان ممالک کو ہٹلر کے توسیع پسندانہ عزائم سے بچانا تھا۔
فرانس کو ہٹلر اور جاپان کی شکل میں دو دشمنوں کا سامنا تھا۔ نیشنل انٹرسٹ کے مطابق فرانس ہتھیار ڈالنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ جاپان نے haifone کی بندرگاہ کو جنوبی چین سے ملانے والی ریلوے لائن بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اس ریلوے لائن کے ذریعے امریکہ جاپان مخالف قوتوں کو اسلحہ مہیا کر رہا تھا۔ اس وقت امریکہ انڈوچائنا کے ساتھ تھا اور جاپان مخالف قوتوں کو اسلحہ سپلائی کرتا تھا ۔70 ہزار زمینی دستوں، 15 لڑاکا طیاروں اور چند ٹینکوں کے ساتھ فرانس کے لیے انڈوچائنا پر قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔ اگرچہ کمزور فرانس کے پاس جاپانی مطالبے کے سامنے جھکنے کے سواکوئی چارہ نہ تھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس نے ریلوے لائن بند کرنے سے انکار کر دیا۔ فرانس کا انکار خطے میں بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن گیا۔ جاپان نے جنگی طیاروں کی مدد سے فرانسیسی فوج پر دھاوا بول دیا۔
ہزاروں فرانسیسی فوجی مارے گئے۔ چند ماہ کی خوفناک جنگ کے بعد ستمبر میں فرانس ، انڈوچائنا کے کئی حصے جاپانی فوج کے حوالے کر نے پر آمادہ ہو گیا۔ ان اڈوں پر جاپان نے ہزاروں فوجی دستے اور جنگی جہاز کھڑے کر دئیے ۔ جولائی میں جاپان ، انڈو چائنا کے باقی ماندہ حصے پر بھی قابض ہو گیا۔ امریکہ اس وقت غلطی کر گیا، انٹیلی جنس نیٹ ورک کی ناکامی کے باعث وہ جاپان کی عسکری طاقت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہ لگا سکا، چنانچہ امریکہ نے جاپانی فوج کی نقل و حمل روکنے کی خاطر تیل کی فراہمی پر پابندی لگوا دی۔ اس طرح تیل کی سپلائی پر پابندیوں کا آغاز 1941 میں امریکہ نے کیا ۔ جاپان بھی ان دنوں طاقت کے نشے میں تھا۔ اس لئے اس نے پرل ہاربر کا محاذ کھو ل دیا۔ جہاں ایک بڑی جنگ لڑی گئی۔ اسی دوران ہوچی منہ علاقائی سیاست پر ابھرے ۔

انہوں نے ویٹ نام میں ’’ویٹ من‘‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی تحریک کی بنیاد ڈالی۔ یہ تحریک فرانس اور جاپان ، دونوں کیخلاف تھی۔ امریکی سی آئی اے تو ان دنوں تھی نہیں، یہ دوسرے جنگ عظیم کے بعد معرض وجود میں آئی، اس وقت’’ آفس آف دی سٹرٹیجک سروسز‘‘ نے ہوچی منہ اور ویٹ من کو سہولتوں کی فراہمی کا طریق کار طے کرنے خفیہ معلومات کے تبادلے کے لئے ایک ٹیم انڈوچائنا بھیجی۔ جس کی رپورٹ کی روشنی میں امریکہ نے ویٹ نام میں اپنی حکمت عملی ترتیب دی ۔ مارچ 1945ء میں جاپان انڈو چائنا میں فرانس کی کٹھ پتلی حکومت کاخاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ فرانس کے لئے یہ بڑا سیٹ بیک تھا۔ جاپان نے اس طرح 80 سالہ نو آبادیاتی نظام کو بھی ملیا میٹ کر نا شروع کردیا ۔

فرانس کی جانب سے ہتھیار پھینکنے کے بعد اگست 1945ء میں علاقے میں سیاسی خلاء پیدا ہو گیا۔ اسی طرح کا سیاسی خلاء ہم نے 1988ء میں روسی قبضے کے خاتمے کے بعد افغانستان میں دیکھا۔ روسی فوج نکل رہی تھی تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذہن میں کوئی سیاسی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہ تھا ، نہ ہی اس کے قیام کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ نتیجہ وہاں بھی ویٹ نام جیسا نکلا۔ ویٹ نامیوں نے قوم پرست گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ یہ ایک منظم اور ملک گیر جنگ تھی۔ اتحادی فوجوں نے ’’تام دائو مونٹین ریزورٹ ‘‘ میں واقع ایک چھوٹی جاپانی چوکی پر حملہ کیا جو ناکام رہا ۔ ویٹ نامیوں کو کمیونسٹوں نے زبردست فوجی ٹریننگ دی تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ گوریلا جنگ ہار جاتے۔

رفتہ رفتہ ویٹمن اور اس کی تحریک نے سائیگون جیسے بڑے شہروں میں قدم جمانا شروع کر دئیے۔ ستمبر 1945ء میں برطانیہ نے وہاں چھاتہ بردار فوج اتاری جن میں سے کچھ کو جاپانیوں نے حراست میں لے لیا۔ برطانیہ اور ویٹمن کے مابین کے ایک محدود جنگ کا آغازہوا جس میں برطانوی فوج کو فتح حاصل ہوئی اس سے فرانسیسی فوجوں کودوبارہ سنبھلنے کا موقع مل گیا۔ مارچ 1946ء میں برطانوی فوج وہاں سے واپس چلی گئی اور اب فرانسیسی اور کیمونسٹ پھر براہ راست آمنے سامنے تھے۔ جس کے بعد اگلے26 سال تک جنوب مشرق ایشیا ء کا یہ خطہ جنگ کی آگ میں جلتا رہا۔ یہ خونریز جنگ 1954ء میں فرانس کی جانب سے ہتھیار پھینکنے کے بعد ختم ہوئی۔ لیکن فرانس کے بعد امریکہ میدان جنگ میں کود پڑا۔ اس نے اپنے میرینز جنوبی ویٹ نام میں اتارے دئیے۔ اس طرح امریکہ نے یہ تکلیف دہ جنگ خود اپنے ذمہ لے لی جو مزید کئی سال چلی ۔ 

اسے کہتے ہیں آ بیل مجھے مار! نیشنل انٹرسٹ نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ اگر جاپان 1940ء میں فرانس کے زیر تسلط انڈو چائنا پر قبضہ نہ کرتا تو کیا ہوتا؟۔کیا جاپانی حملے نے اس عمل کو تیز کر دیا جس کے لیے فرانس اورامریکہ ہرگز تیار نہ تھے؟ اگر نازی فرانسیسیوں کو برباد نہ کرتے ،ان کی حکومت کو کمزور نہ کرتے تو پھر کیا ہوتا؟۔ اگرچین میں کمیونزم نہ ابھرتا تو شائد وہ ویٹ نام کوہتھیار نہ دیتا تو دنیا کا نقشہ کیسا ہوتا؟۔ جاپان اگر فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کو نہ چھیڑتا تو شاید امریکہ بھی اس جنگ میں نہ کودتا اور شاید اس سے ویٹ من کی تحریک سست پڑ جاتی، شاید اس خطے میں غیر کیمونسٹ آزادی کی تحریک کامیاب ہو جاتی؟۔ مگریاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ 1939ء میں یورپی نوآبادیاتی نظام اندرونی خلفشار کا شکار تھا۔ ویٹمن ، گاندھی اور حضرت قائداعظمؒ پہلے ہی آزادی کی تحریکیں شروع کر چکے تھے۔

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ فرانس اورویٹ نام کی جنگ میں امریکہ غیرجانبدار رہا۔ لیکن فرانس کی پسپائی اور جنوبی ویٹ نام میں کمیونسٹوں کی کامیابی اس کے لیے لمحہ فکریہ تھی۔ ’’نیشنل انٹرسٹ ‘‘کی رپورٹ میں درجنوں اگر مگر ہیں۔ اگر ویسا ہوتا تو ویسا ہوتا ، وغیرہ ۔ تاریخ اگر مگر پر یقین نہیں رکھتی جوہونا تھا وہ ہو گیا۔ جس ملک کی قسمت میں جو لکھا تھا اس کو وہ مل گیا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ہم ویٹ نام ، افغانستان اورکشمیر جیسے خطوں سے سبق حاصل کریں اور کسی نئی جنگ میں کودنے سے گریز کریں۔ خطوں کے عوام کو ان کی سوچ کے مطابق نظام زندگی چلانے کا اختیار دیں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ان کی ان خواہشات کو اپنے اختیار سے بلڈوز نہ کریں۔

اکرم دیوان


 
 

No comments:

Powered by Blogger.