Wednesday, February 15, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

دنیا کا سب سے معروف موبائل فون نوکیا 3310 دوبارہ انٹری کیلیے تیار

موبائل فون بنانے والی کمپنی نوکیا اپنے شہرہ آفاق موبائل فون 3310 کو دوبارہ فروخت کے لیے پیش کرے گی۔ غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق 3310 کے نئے ماڈل کو 59 یورو میں فروخت کیا جائے گا اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ صارفین کو دوسرا ماڈل بھی پرانے کی طرح قابل اعتماد ہوگا۔ ان معلومات سے پہلی مرتبہ آگاہ کرنے والے ایوان بلاس کےمطابق 3310 کے نئے ماڈل کو رواں ماہ کے آخر میں موبائل ورلڈ کانگریس میں پیش کیا جائے گا۔ 3310 کو ابتدائی طورپر 2000 میں جاری کیا گیا تھا اور یہ کئی حوالوں سے موبائل کے جدید دور کا نقیب تھا جبکہ اس ہینڈ سیٹ کو اس کی مضبوط باڈی اور بہترین بیٹری لائف کی وجہ سے خاصہ سراہا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق نوکیا 3310 کو ایک بار پھر اسی طاقتور باڈی اور بہترین باڈی لائف کے ساتھ ہی فروخت کے لیے مارکیٹ میں لایا جائے گا۔ خیال رہے کہ 3310 کو اب بھی آن لائن شاپنگ کے ذریعے خریدا جا سکتا ہے تاہم کمپنی سے براہ راست اس کا حصول ممکن نہیں ہے۔ آن لائن دی گئی معلومات کے مطابق 3310 میں گھڑی، کیلکولیٹر، ریمائنڈر اور چار گیمز بھی شامل ہیں اور اس کی قمیت 63 ڈالر کے قریب ہو گی۔ خیال رہے کہ نوکیا کو اپنے موبائل کو اسمارٹ فون دور میں جدید انداز میں تبدیل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا جس کا اختتام کمپنی کی مائیکروسوفٹ کے ہاتھوں فروخت سے ہوا۔

تاہم نوکیا نے اپنے پرانے فون کو نئے انداز میں کامیابی کے ساتھ پیش کرنا شروع کیا جس میں نوکیا 215 بھی شامل تھا جس کی قیمت 29 ڈالر تھی۔ نوکیا کے زیر انتظام بننے والے فون اب ایچ ایم ڈی گلوبل نامی کمپنی کے ذریعے فروخت ہو رہے ہیں اور یہی کمپنی نئے موبائل نوکیا 3،5 اور 6 کو موبائل ورلڈ کانگریس کی تقریب میں دوبارہ پیش کرے گی۔ 2017 کے دور میں نوکیا 3310 کو دوبارہ لانچ کرنے کا فیصلہ غیر منطقی دکھائی دیتا ہے تاہم ممکن ہے کہ کمپنی اس آئیڈیا کے ذریعے 3310 کے مزید کئی سیٹس ان لوگوں کو فروخت کرسکتی ہے جن کی 3310 کے حوالے سے ماضی کی یادیں وابستہ ہیں۔ 3310 کی واپسی سے صارفین کی نوکیا کی جانب دوبارہ سے دلچسپی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

With faith, discipline and selfless devotion to duty, there is nothing worthwhile that you cannot achieve. Muhammad Ali Jinnah

Subscribe to this Blog via Email :