Header Ads

Breaking News
recent

چند افراد دنیا کی آدھی آبادی کی دولت کے مالک

اوکسفام نے دنیا کے چند امیر ترین افراد کو انعامات دینے سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 8 افراد دنیا کی آدھی آبادی کی دولت کے برابر دولت مند ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے داوس میں ہونے والی ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس میں کئی فیصلہ ساز اور امیر ترین افراد شرکت کر رہے ہیں، چیرٹی رپورٹس یہ واضح کرتی ہیں کہ دولت کا خلاء بہت زیادہ ہے، جبکہ چین اور انڈیا کا نیا ڈیٹا یہ نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کے آدھے غریبوں کی دولت کا لگایا جانے والا تخمینہ اس سے قبل لگائے جانے والے تخمینے سے مزید کم ہو گیا ہے۔ اوکسفام نے مذکورہ خلاء کو بیہودہ قرار دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ اعداد وشمار کے مطابق 2016 میں 9 افراد کی ملکیت میں موجود سرمایہ دنیا کی 3.6 ارب کی آبادی کی دولت کے برابر تھا جبکہ اس وقت ان دولت مندوں کی تعداد 62 بتائی گئی تھی۔ حال میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق 2010 میں 43 امیر ترین افراد کی دولت دنیا کے 50 فیصد غریب عوام کی دولت کے برابر تھی۔
 
رپورٹ کے مطابق حالیہ سالوں میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے جو اشرافیہ میں برا تصور کیا گیا جبکہ اس سے عوامی سیاست میں ہل چل مچ گئی، اس کے باوجود کہ اس حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے سربراہ کی جانب سے برے اثرات کا انتباہ کیا گیا تھا۔ گذشتہ ہفتے ڈبلیو ای ایف کی اپنی عالمی خطرات کے حوالے سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ان خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اوکسفام کے پالیسی ہیڈ میکس لوسن کا کہنا تھا کہ 'ہم بہت سی چیزوں کو ہوتا دیکھ رہے ہیں ، جیسا کہ ٹرمپ کی کامیابی اور بریکسٹ اس سال کی نئی تحریکوں کو جنم دے رہی ہیں، لیکن معمول کے مطابق کاروبار کے لیے ٹھوس متبادل کی کمی ہے۔

اوکسفام نے اپنی رپورٹ میں ٹیکس چوری کرنے والوں اور سرمایہ دارانہ نظام، جو امیر کو مزید امیر بناتا ہے، کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ 'سرمایہ دارانہ نظام کو دیگر کئی مختلف طریقوں سے چلایا جا سکتا ہے جس سے آبادی کے بڑے حصے کیلئے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں'۔ ان کا کہنا تھا کہ جس وقت ملازمیں کی اپنی آمدنی میں جمود کاشکار ہیں، 2009 سے اب تک امیر ترین افراد کی دولت میں 11 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہوا ہے۔ ڈاوس کے اجلاسوں میں مستقل شرکت کرنے والے دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس نے 2006 میں مائیکرو سوفٹ چھوڑنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور اس کے باوجود کہ اس دوران وہ اپنی دولت فلاحی کاموں میں بھی استعمال کرتے رہے ہیں تاہم ان کی دولت میں 50 فیصد یا 25 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

بل گیٹس کی جانب سے غریبوں کو دولت کی منتقلی کے حوالے سے اوکسفام کا کہنا تھا کہ اس 'بڑی خدمت خلق' سے بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
میکس لوسن کا کہنا تھا کہ 'اگر اربوں پتی اپنی دولت دینا شروع کردیں تو یہ ایک اچھی بات ہے، لیکن عدم مساوات بہت اہم ہے اور آپ کے پاس وہ نظام ہے جس میں اربوں پتی منظم طور پر کم ریٹ پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں جو ان کے اپنے سیکریٹری اور صفائی کرنے والے کے مقابلے میں بہت کم ہے'۔ اوکسفام کے جاری کردہ اعداد وشمار سوئس بینک کریڈٹ ساس اور فوربس سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق ترتیب دیئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں جن 8 امیر ترین افراد کا نام شامل کیا گیا ہے ان میں امریکا کے بل گیٹس، ویٹرن کے سرمایہ کار وارن بوفیٹ، میکسیکو کے کالوس سلم ہیلو، ایمازون کے سربراہ جیف بیزوس، فیس بک کے بانی مارک زکربرگ، اوریکل کے لیری ایلسن اور نیویارک شہر کے سابق میئر مائیکل بلوم برگ شامل ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.