Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان میں بے روزگاری کا عفریت

پاکستان میں بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح بے روزگاری بہت بڑا مسئلہ
ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر ایک اچھے مستقبل کی امید اور آنکھوں میں بھرے سپنے لے کر نکلتے ہیں کہ اب ان کی منزل نزدیک ہے۔ ایک طالب علم اپنی زندگی کا چوتھا حصہ اور اپنا مال اس امید پر پڑھنے پر لگاتا ہے کہ وہ ایک دن اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے ایک باعزت روزگار حاصل کر سکے۔ شاید ان کو نہیں پتا کہ جلد ان کا سامنا بیروزگاری کی تلخ حقیقت سے ہونے والا ہے۔ ان کو نہیں پتا کہ ہر جگہ ان کی قابلیت اور امیدوں کو ٹھکرا دیا جائے گا، کبھی رشوت کے نام پر تو کبھی سفارش کے نام پر،ان کی محنت، قابلیت اور ڈگریوں کو نہیں دیکھا جائے گا، بہت سے نوجوان مایوس ہو کر خودکشی کر تے ہیں اور کچھ مجبور ہو کر پیسہ کمانے کے لیے مجرم بھی بن جاتے ہیں۔ جب ساری اسامیاں اور نوکریاں امرا اور سیاست دانوں کے لیے ہیں تو این ٹی ایس، اخباروں میں اشتہارات، نوکریوں کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویوز کا ڈھنڈورا کیوں پیٹا جاتا ہے۔

ایک غریب کی قابلیت کو اس لیے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس سفارش اور نوٹوں کے بنڈل نہیں ہوتے۔ اگر ایک غریب کی قابلیت کو دیکھا جائے تو ان کی جیب گرم نہیں ہو گی۔ اب ڈگری کے ساتھ ساتھ ایک امیری اور سفارش کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرنا ہو گا۔ اس کے لیے بھی کوئی شعبہ بنا دیا جائے جہاں ایک غریب اور مظلوم نوجوان اپنی محنت اور قابلیت کا ایک اور امتحان دے کر یہ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لے۔ یا پھر ہر تعلیمی شعبے میں ایک پالیسی بنائی جائے کہ جس کے پاس مستقبل میں کوئی سفارش کرنے والا یا امیری کا سرٹیفکیٹ اور پیسے نہیں تو وہ اپلائی نہیں کر سکتا، کم از کم ایک نوجوان کی امیدیں اور خواہشات پامال تو نہیں ہوں گی، ان کے والدین کی قربانیاں کسی دفتر کے ڈسٹ بن میں تو نہیں پھینکی جائیں گی، ان کے دلوں میں امید کی کرن تو نہیں جاگے گی کہ کل ان کی قربانیوں کا ازالہ ان کی اولاد کے آنے والے روشن مستقبل سے ہو گا ، ان کو کیا پتا کہ ان کی امیدوں کے چراغ کو روشن ہونے سے پہلے ہی بجھا دیا جائے گا۔

رابی بدر بلوچ

No comments:

Powered by Blogger.