Header Ads

Breaking News
recent

'میں نے موت کو دیکھا اور میں لگ بھگ مرچکی ہوں'

شام کے شہر حلب میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان جاری جھڑپوں کا احوال اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر بیان کرنے والی 7 سالہ بچی بانا ال عبید بمباری کے نتیجے میں اپنے گھر سے بھی محروم ہو گئی اور ماں کے ساتھ گلیوں میں بھٹک رہی ہے۔ یہ بچی اور اس کی ماں باغیوں کے زیرقبضہ حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹوئٹر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس سات سالہ بچی نے بتایا کہ ہم ابھی تک حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں ' ہم ابھی تک اندر ہیں اور یہاں سے بھاگ نہیں سکتے، اگر ہم حکومتی حصے کی جانب جائیں گے تو وہ ہمیں قتل کردیں گے، ہمیں قتل کی متعدد دھمکیاں مل چکی ہیں، ہم بس اکھٹے رہ کر انتظار کررہے ہیں'۔
اس سے قبل اس بچی نے ٹوئٹر پر اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی تھی۔ اسی طرح اتوار کی رات اس نے ٹوئیٹ کیا ' آج رات ہمارا کوئی گھر نہیں رہا، اس پر بمبار ہوئی اور ہم اب ملبے میں ہیں، میں نے موت کو دیکھا اور میں لگ بھگ مرچکی ہوں'۔ یہ ننھی بچی اپنے شہر کی تباہ حالی، اپنے خوف اور زندگی کا احوال اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے شیئر کرتی ہے جہاں اس کے فالورز کی تعداد 99 ہزار کے قریب ہے۔  شام میں صدر بشار الاسد اور ان کے مخالفین کے درمیان لگ بھگ چھ سال سے جاری ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں ہی اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں کے تعطل کے بعد دوبارہ فضائی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس نے حلب کے اس مشرقی حصے کو تباہ کر دیا ہے جبکہ وہاں کے رہائشیوں کو خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔ بانا کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ اس کی والدہ سنبھالتی ہیں جس میں شہر کی بمباری کی شکار عمارات اور گھر مں اس بچی کی مصروفیات کو دکھایا جاتا ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.