Header Ads

Breaking News
recent

بغاوت کے دوران ٹینک کے سامنے لیٹنے والا ترک شہری منظر عام پر آگیا

 ترکی میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے دوران فوجی ٹینک کے سامنے آنے والے بہادر نوجوان کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔ ترکی میں فوجی بغاوت کے بعد احتجاج کے دوران ٹینک کے سامنے لیٹنے والے نوجوان کی تصاویر نے سوشل میڈیا اور دنیا بھر کے میڈیا میں خوب مقبولیت حاصل کی لیکن اب اس نوجوان کی تفصیلات بھی منظرعام پر آگئی ہیں۔ 40 سالہ نوجوان میٹن دوگان فارمیسی کا سابق طالب علم ہے جس نے مارشل لا کی کوشش کے دوران جان کی پرواہ کئے بغیر فوجی ٹینک کے سامنے لیٹ کر صدر رجب طیب اردگان کا حامی ہونے کا ثبوت دیا۔
میٹن دوگان کا کہنا ہے کہ 15 اور16 جولائی کی درمیانی شب انہوں نے فوجی بغاوت کا سن لیا تھا اور دیکھا کہ فوج کی بھاری نفری اتاترک ایئرپورٹ کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے دوران وہ ایک ٹینک کے سامنے کھڑے ہوگئے جس پر انہوں نے چیخ کر فوجیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں ایک سپاہی ہوں تم کس کے سپاہی ہو جس پر فوجی ٹینک رک گیا جس کے بعد فوجیوں کی بڑی تعداد نے انہیں گھیر لیا اور ٹینک ایک مرتبہ پھر ایئرپورٹ کی جانب بڑھنے لگے جسے دیکھتے ہوئے میٹن دوگن دوبارہ ٹینک کے آگے آکر لیٹ گئے جس پر ایک مرتبہ پھر ٹینک رک گئے۔

میٹن دوگن کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی بغاوت دیکھ کر ایک لمحے کے لئے بھی میں نے نہیں سوچا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں یہ صحیح ہے یا نہیں لیکن مجھے اتنا علم تھا کہ میرا اقدام جمہوریت کی خاطر ہے۔  دوسری جانب میٹن دوگن کی تصاویر سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا پر آنے کے بعد ان کے اس اقدام کو بے حد سراہا گیا یہی نہیں ٹوئٹر پر “ٹینک مین” کے نام سے ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈ کرنے لگا۔ میٹن دوگن ان ہزاروں افراد میں سے ایک تھے جو استنبول، انقرہ اور دیگر شہروں میں فوجی بغاوت ناکام بنانے کے لئے سڑک پر نکل آئے تھے۔

No comments:

Powered by Blogger.