Header Ads

Breaking News
recent

امریکہ میں ہر روز 20 امریکی فوجی خود کشی کیوں کرتے ہیں؟

تقریباً ایک ماہ پہلے میرے ایک دوست نے ایک کتاب لا کر مجھے دکھائی جس کا نام تھا:’’ ایک بھگوڑے کی داستان‘‘(A Deserter's Tale) اور اس کا مصنف امریکی فوج کا ایک سپاہی تھا جس کا نام جوشوا کی (Joshua Key) تھا۔ وہ ایف اے کر چکا تھا، غریب تھا، شادی ہو چکی تھی، دو بیٹے بھی تھے، عمر24 برس تھی اور کسی مستقل روزگار کی تلاش میں تھا۔ یہ 2002ء کی بات ہے۔ ایک دن وہ اپنی ریاست اوکلاہوما کے ’’بھرتی دفتر برائے آرمی‘‘ جا پہنچا۔ افغانستان کی جنگ جاری تھی لیکن اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بجائے اس کے کہ افغانستان میں نیو یارک ٹریڈ سنٹر کے منصوبہ سازوں کو تلاش کرتا، عراق پر چڑھ دوڑا۔ CIA اور برطانویMI 6 نے اپنی خفیہ اور فوری رپورٹوں میں کہا کہ صدام حسین چوری چھپے ایٹم بم بنا رہا ہے اور اس کے پاس ہمہ گیر تباہی پھیلانے والے بموں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی ہے۔

 بش نے سوچا ہو گا کہ نیو یارک حملے کے بعد اگر عربوں نے امریکہ پر ایٹمی حملہ کر دیا تو کیا ہو گا۔ چنانچہ اس نے اپنے معتمدِ خاص، وزیراعظم برطانیہ سے مشورہ کیا۔ ٹونی بلیئر جو آج ہر کسی سے عراق پر حملے میں شرکت کے گناہ کی معافی مانگتے پھرتے ہیں فوراً تیار ہو گئے۔ امریکہ کے پاس گراؤنڈ ٹروپس کی کمی تھی۔ اس لئے اس نے اعلان کر دیا کہ جس آدمی کی عمر25 سال سے کم ہو گی اور اس کے خواہ دو بچے بھی ہوں گے تو، اس کو امریکن آرمی میں بھرتی کر لیا جائے گا۔ اس طرح جوشوا فوج میں بھرتی ہو گیا۔ مارچ،اپریل 2003ء میں جب امریکی افواج بغداد پر حملہ آور ہوئیں اور افغانستان کو ثانوی ترجیح پر رکھ دیا تو جوشوا کو اپنی کمپنی کے ساتھ عراق محاذ پر بھیج دیا گیا۔ جوشوا نے رمادی، فلوجہ، حبانیہ اور القائم کے عراقی شہروں میں چھ سات ماہ گزارے اور پھر اتفاقیہ رخصت پر دس دِنوں کے لئے واپس امریکہ (اوکلا ہوما) بھیج دیا گیا تاکہ بیوی بچوں کو مل آئے اور ’’تازہ دم‘‘ ہو جائے۔
جوشوا جب واپس اپنے وطن لوٹا تو ان چھ سات ماہ کی وہ بھیانک اور دلدوز امریکی زیادتیاں اس کے ساتھ تھیں جو امریکی فوج نے عراقی سویلین پر روا رکھی تھیں۔ اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ واپس عراق نہیں جائے گا اور فوج سے بھگوڑا ہو جائے گا۔ اس کے بعد اس پر کیا گزری اور اس نے بیوی بچوں سمیت کس طرح چھپ چھپ کے امریکہ میں 14 ماہ گزارے اور آخر کار سرحد پار کر کے کینیڈا جا پہنچا، یہ ایک نہایت دلچسپ داستان ہے جو ’’ایک بھگوڑے کی داستان‘‘ ہی نہیں بلکہ پوری امریکی آرمی کی وہ داستان ہے جس نے امریکی عسکری اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ یہ داستان میں نے ترجمہ کر کے اسی اخبار کے سنڈے میگزین ’’زندگی‘‘ میں دینی شروع کی ہے اور اس کی دو اقساط اب تک شائع ہو چکی ہیں۔ اگر صحت اور زندگی نے اجازت دی تو اس ساڑھے تین سو صفحے کی کتاب کا پورا ترجمہ نذرِ قارئین کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کالم میں اس ’’داستان‘‘ کا ذکر اس لئے کرنا پڑا کہ میں جب اکثر امریکی میڈیا میں یہ خبر دیکھتا اور پڑھتا تھا تو مجھے اس کی صداقت پر یقین نہیں آتا تھا کہ امریکہ میں ہر روز 20 سابق فوجی خود کشی کرتے ہیں۔ لیکن امریکی بھگوڑے کی اس داستان کو پڑھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ امریکہ جب تک دنیا کی واحد سپر پاور ہے وہ کسی نہ کسی کمزور ملک اور تیسری دنیا کی کسی نہ کسی قوت پر حملہ آور ہوتا رہے گا اور اس کے فوجیوں کی خود کشیوں کا یہ تناسب (20فوجی روزانہ) جاری رہے گا۔ ۔ ہو سکتا ہے اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو جائے!

امریکی سپاہی جوشوا کی یہ آپ بیتی نہایت ہی آسان زبان میں لکھی گئی ہے جو بظاہر ایک ناول محسوس ہوتی ہے لیکن اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک سطر مبنی بر صداقت ہے۔ جو لوگ فوج میں نوکری کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں وہ اس کو پڑھ کر اس کے براہِ راست اسلوبِ نگارش کو زیادہ وضاحت سے سمجھ سکیں گے۔ جن جن مقامات پر مصنف نے ایسی اصلاحات استعمال کی ہیں جو امریکی آرمی کے لئے تو عام فہم ہیں لیکن پاکستانی سولجروں اور سویلین کو ان سے زیادہ شناسائی نہیں، ان کی وضاحت اور تشریح، میں نے ترجمے کے متن ہی میں کر دی ہے۔ جوشوا نے اپنی افواج کے اخلاقی افلاس اور پیشہ ورانہ اقدار کی تہی دامنی کا جس انداز میں ذکر کیا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے۔ جہاں تک راقم السطور کا جدید امریکی ملٹری ہسٹری کا مطالعہ ہے اور علاوہ ازیں جن افسروں کو افواج پاکستان نے پروفیشنل کورسوں کے لئے امریکہ بھیجا اور آج بھی بھیج رہی ہیں، ان سے میل ملاقات اور انٹرویو کے دوران میں نے جو کچھ پڑھا اور سُنا، اس کی حرف بحرف تائید، جوشوا کی اس خود نوشت میں پڑھنے کو ملتی ہے۔
مصنف نے اپنی آرمی(Army) میں جن اخلاقی روایات کا قحط دیکھا اور جس طرح اس کی تحریری عکاسی کی اس سے میری وہ تشنگی دور ہو گئی کہ امریکی ٹروپس دنیا کی بہترین ٹریننگ، بہترین اسلحہ جات، بہترین ذرائع نقل و حمل اور بہترین گولہ بارود کے حامل ہونے کے باوجود فوج کی ملازمت سے اتنے دلبرداشتہ کیوں ہو جاتے ہیں کہ اول تو سروس کے دوران ہی یا ریٹائر ہونے کے بعد تھوک کے حساب سے خود کشی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ جو وجوہات امریکی سولجرز کو اپنے ہاتھوں سے خود اپنی زندگی ختم کرنے کی طرف لے جاتی ہیں، ان میں چند نمایاں ترین وجوہات یہ ہیں۔

(1) مالی تنگ دستی ۔۔۔ (2) اکیلے رہ جانے کا خوف۔۔۔ (3)بعد از ریٹائرمنٹ سولجرز کی کسمپرسی ۔۔۔ (4) دشمن کے خلاف ضرورت سے زیادہ فورس کا استعمال کرنا ۔۔۔ (5) جنگوں کے دورانیئے کی طوالت۔۔۔ (6)افسروں کا اپنے سولجرز پر عدم اعتماد۔۔۔ (7) نہتے سویلین کے خلاف بربریت کا مظاہرہ۔۔۔ (8)اپنے سوا سب کو دہشت گرد سمجھنا۔۔۔ (9) دورانِ ٹریننگ ہر دہشت گرد کی ایک مسلمان ڈمی بنا کر اس کو پرزے پرزے کر دینا۔۔۔ (10) امریکی آفیسرز کور کے قول اور فعل میں تضاد۔۔۔ اور (11) دورانِ سروس یا بعد از ریٹائرمنٹ وطن واپسی کے بعد اپنی گرل فرینڈ یا اہلیہ کو کسی دوسرے مرد کی آغوش میں پانا۔۔۔ ان سب وجوہات میں سے ہر ایک پر ایک طویل مقالہ لکھا جا سکتا ہے لیکن میں صرف سب سے آخر میں تحریر کردہ وجہ کی کچھ وضاحت کرنا چاہوں گا۔

امریکی (اور بیشتر یورپی) افواج میں سولجرز ہوں کہ آفیسرز، ہر کسی کی ایک گرل فرینڈ ہوتی ہے۔ اگر کوئی خاتون وردی پوش ہے تو اس کا بھی بوائے فرینڈ اس کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ امریکی فوجی شادی شدہ ہو یا کنوارہ اس سے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ رکھنے کے کلچر میں کوئی کمی نہیں آتی۔ امریکی معاشرے میں اگرچہ زن وشو کے بے حجابانہ اختلاط نے اس کلچر کو ایک معمول بنا دیا ہے پھر بھی اس سوسائٹی میں قتل و خونریزی کا سب سے بڑا سبب ’’رقابت‘‘ ہے۔۔۔ جب بھی کسی فوجی کی پوسٹنگ سمندر پار ہوتی ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی گرل فرینڈ اس کی واپسی کا انتظار نہیں کرے گی اور کسی اور کے بستر کی زینت بننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گی۔۔۔ سپاہی جوشوا کی اس داستان میں اس نے اپنی بیوی بچوں سے ٹوٹ کر پیار کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو بھی مشرق کی بیویوں کی طرح بہت باوفا پایا ہے۔ لیکن وہ جب جنگ پر جاتا ہے تو اس کے اکثر ساتھی جب ایک دو ہفتوں کے بعد اپنے گھر امریکہ میں فون کرتے ہیں تو ان کو اپنی بیوی یا گرل فرینڈ کی آواز سنائی دیتی ہے: ’’میں تمہارا اتنی دیر انتظار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ تنگ نہ کرو۔۔۔ میں کسی کے ساتھ بستر میں آرام کر رہی ہوں‘‘۔

امریکہ کا یہ اخلاقی انحطاط بتدریج گزشتہ کئی صدیوں سے جاری ہے لیکن مشرق کے برعکس وہاں غیرت کے نام پر قتل کرنے کی وارداتیں مُرورِ ایام سے کم ہوتی جاتی ہیں اور۔۔۔’’تو نہ سہی اور سہی۔۔۔ اور نہیں۔۔۔ اور سہی‘‘ کا طریقہ کار بطور (SOP) مروج ہو چکا ہے لیکن پھر بھی فوج میں جب کوئی سولجر چھ آٹھ ماہ سمندر پار گزار کر اور آگ اور طوفان کے دریا سے گزر کر واپس گھر پہنچتا ہے تو جس لڑکی(یا عورت) کے لئے اس نے موت کو گلے لگانے سے گریز نہیں کیا تھا، وہی جب اس کے ساتھ وفا نہیں کرتی تو وہ اپنی زندگی کو بے مقصد سمجھتا ہے۔ بھائی بہن، رشتہ دار، دوست احباب پہلے ہی خود غرضی کا پیکر ہوتے ہیں، اس لئے وہ عجیب قسم کی تنہائی اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے اور خواب آور گولیوں کی شیشی منہ میں انڈیل کر ہمیشہ کے لئے سکون کی نیند سو جاتا ہے۔

افغانستان اور عراق کی حالیہ جنگوں (2001ء سے لے کر 2012ء تک) میں ایک اور نئے ہتھیار نے بھی فارن ٹروپس کو خودکشی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔۔۔ اس ہتھیار کو (IED) کہا جاتا ہے۔ یعنی ’’خانہ ساز بارودی ڈیوائس‘‘ ۔۔۔ یہ ڈیوائس ایک قسم کی اینٹی پرسانل (آدم کُش) بارودی سرنگ ہوتی ہے۔ سولجر کا زیریں نصف دھڑ اُڑ جاتا ہے۔ اس کے اعضائے رئیسہ تو عموماً بچ جاتے ہیں اور اس کو مرنے نہیں دیتے لیکن اس کے اعضائے خبیثہ نہیں بچ سکتے اور وہ اس کو جینے نہیں دیتے!۔۔۔ ذرا تصور کیجئے کسی سولجر کی عمر30,20 برس کے درمیان ہے۔ اس کی بیوی یا گرل فرینڈ وطنِ مالوف میں بیٹھی اس کی منتظر ہے جو اگرچہ محالات میں سے ہے لیکن اگر دس پندرہ فیصد ’’بیبیاں‘‘ وفادار نکل بھی آئیں تو سولجر جب مصنوعی ٹانگیں لگوا کر واپس گھر جاتے ہیں تو ان کی ’’وفادار بیبیوں‘‘ کی وفاداری کا سخت امتحان ہوتا ہے اور ان میں سے اکثر اس امتحان میں فیل ہو جاتی ہیں۔ 2001ء سے لے کر 2012ء تک سینکڑوں ہزاروں ایسے امریکی (اور یورپی) ٹروپس (IEDs) کا شکار ہو کر نہ صرف فوج سے فارغ ہو کر ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں بلکہ اپنی گرل فرینڈز اور زوجگان نے بھی ان کو فارغ خطی دے دی ہوتی ہے۔۔۔۔ یہی وہ سابق فوجی ہیں جو جیتے جی ایک مدت تک موت و حیات کی کشمکش میں گرفتار رہتے ہیں اور آخر ایک دن خواب آور گولیوں یا پستول کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ویسے تودُنیا کی ساری افواج میں کسی نہ کسی پیمانے کا خود کشیوں کا ’’رواج‘‘ موجود ہے۔ اس کی وجوہات ماضی میں اور تھیں اور آج اور ہیں۔ لیکن الحمد للہ افواجِ پاکستان میں آج تک کسی ایک سپاہی یا آفیسر نے بھی دورانِ سروس یا بعداز ریٹائرمنٹ خود کشی نہیں کی اور نہ خود کشی کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ایک دوسرا مُلک اور بھی ہے جس کی افواج میں خود کشی کا تناسب صفر ہے اور وہ نیپال ہے!

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

No comments:

Powered by Blogger.