Header Ads

Breaking News
recent

غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کریں

بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ بجلی کا بحران ہے،پاکستان کے
تقریباً ہر حکمران نے اپنا اقتدار بچانے اور بجٹ کاخسارہ پورا کرنے کے لئے قرضوں پر انحصار کیا، مگر قرضے اتار نے کے لئے کسی بھی حکومت نے کوشش نہیں کی۔ بجلی، گیس و دیگر بحرانوں کی اصل وجہ غیر ملکی قرضوں کا شکنجہ ہے، کیونکہ مالیاتی ادارے اپنے قرضوں کی اقساط وصول کرنے کے لئے حکمرانوں کو گیس وبجلی مہنگی کرنے اور دیگر اشیاء پر ٹیکس لگانے پر مجبور کرتے ہیں۔ پاکستان کو قرضوں کے جال میں پھنسانے کی ابتدا ایوب خان کے دور حکمرانی میں ہوئی، حالانکہ اس دور میں عوام کا طرز زندگی سادہ تھا اور ان کی ضروریات زندی بھی محدود ہوا کرتی تھیں۔ ایوب خان کی حکومت نے تین مرتبہ آئی ایم ایف سے قرضے لئے،جو دراصل محدود مُدّت کے قرضے تھے،جبکہ 1980ء کی دہائی سے پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا،اسی دور سے مہنگائی میں بے حد اضافہ ہوا ہے، اس کے علاوہ روس کے ٹوٹنے کے بعد بہت سے ممالک معاشی بدحالی کا شکار ہوئے، جن میں ہمارا ملک پاکستان بھی ہے۔

1997ء میں ایشیا میں فنانشل کرائسز کا آغاز ہوا، اس دور میں تین ممالک تھائی لینڈ،ملائشیا اور انڈونیشیاجو ایشین ٹائیگر کہلاتے تھے ،ان کی پوزیشن کمزور ہوگئی۔ بعدازاں تھائی لینڈ اور انڈونیشیا نے آئی ایم ایف سے مدد حاصل کی اور بحران سے نکل گئے، اس وقت مہا تیر محمد ملائیشیا کے صدر تھے،انہوں نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو دیکھتے ہوئے، قرضہ لینے سے انکار کر دیا، چنانچہ ملائیشیا کا نام ترقی پذیر ملکوں میں آنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے اپنی معیشت کو خود سہارا دیا۔ یہ لکھنے کا مقصدصرف یہی ہے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان قرضوں کے بار ے میں آگاہی حاصل ہو۔ آئی ایم ایف جوبیلنس آف پے منٹ کرائسس کے بدلے قرضہ دیتا ہے، اس سے قرضہ لینے کی بجائے اگر ہم تھوڑی توجہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ(ایف ڈی آئی) پر دیں تو ہمارا بیلنس آف پے منٹ میں خسارے کا مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے، لیکن سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ (ایف ڈی آئی) ہوتی کیا ہے؟ یہ دراصل دوسرے ممالک کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری یا کسی ترقی یا فتہ ملک کی کسی ترقی پذیر ملک میں سرمایہ کاری کو کہتے ہیں۔
پاکستان کو ہی لے لیں جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ صرف سرمایہ کاری کی وجہ سے قدرتی وسائل کو استعمال میں نہ لاسکے تووہاں دیگر ترقی یافتہ ممالک سرمایہ کاری کرتے ہوئے ان وسائل کو استعمال میں لاکر تیار مصنوعات کے طور پر اپنے ملک میں درآمد یا دوسرے ممالک میں برآمد کرتے ہیں، تو اس سارے کاروبار کو فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ (FDI)کہا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں، عوام کو روزگار ملتا ہے،اس کے علاوہ جب بھی بیرونی سرمایہ کاری ہوتی ہے تو اس سے ٹیکسوں کی مد میں حکومتی خزانے میں آمدن ہوتی ہے ، ہمارے ملک میں تیار ہونے والی اشیاء برآمد کی جاتی ہیں تو دوسرے ملکوں کے عوام کو ہمارے ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات کا پتہ چلتا ہے۔ اس سے ڈالرز کی شکل میں آمدن ہوتی ہے،جس سے ملکی معیشت میں بہتری آتی ہے۔

دنیا کے دوسرے ملکوں میں پاکستانی سفارت کار متعین کئے جاتے ہیں،جو وہاں ملک کی ساکھ بنانے کا کام کرتے ہیں، مگر بد قسمتی سے ہماری حکومتیں ان عہدوں پر اپنے رشتہ داروںیا سفارشی لوگوں کو متعین کرتی ہیں جو اس کام کے اہل نہیں ہوتے اور جن کا مقصد پاکستان کی خدمت کم اور ذاتی مفادات ترجیح ہوتے ہیں۔ سفیر اور اتاشی ناتجربہ کارسیاسی لوگوں کو لگایا جاتا رہا تو پھر ملک کس طرح ترقی کی منزل طے کرے گا ۔ کس طرح آئی یم ایف سے چھٹکاراحاصل ہوسکے گا؟ پاکستان کی خارجہ پالیسی مضبوط ہاتھوں میں نہ ہونے کی وجہ سے اور فل ٹائم وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے معمولی معمولی غلطیوں پر سعودی عرب کی جیلوں میں ہزاروں پاکستانی قید ہیں۔ ان پاکستانیوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ۔ یہ سفارشی لوگ اور سفارت کاراپنا تمام وقت سعودی عرب میں جانے والے پاکستان حکمرانوں وزیروں ،مشیروں کی آؤ بھگت پر لگے رہتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کے لئے ،ملک کی بھلائی کے لئے ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں نقصان دے رہی ہیں دوسری گزارش ہے کہ قرضوں کے بوجھ تلے ملک کی ترقی بہت مشکل ہے، قرضے لے کر کھاتے رہیں گے، ملک پر قرضوں کا بوجھ زیادہ ہوتا رہے گا،اس کے لئے ہمیں خود اعتماد ی کے ساتھ کچھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ 

صوفی محمد انور

No comments:

Powered by Blogger.