Header Ads

Breaking News
recent

ڈرون حملے : وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

21 مئی 2016 کو بلوچستان کے علاقے نوشکی میں ایک ڈرون حملہ ہوا اور اس
میں افغان طالبان کمانڈر مُلا اختر منصور مارے گئے۔ یہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے باہر پاکستانی سرزمین پر دوسرا ڈرون حملہ تھا۔ اس سے پہلے خیبر پختونخواہ کے علاقے ٹل میں 2014 میں ایک حملہ ہو چکا ہے۔ نوشکی ڈرون حملے کے بعد پاکستان کا احتجاج سرکاری سطح پر شدید تر تھا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے یہاں تک کہ امریکہ کو پاکستان کو منانے کے لیے پانچ رکنی سفارتی وفد بھیجنا پڑا۔ نوشکی حملے سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان میں 400 سے زائد ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں پاکستانی شہری مارے جا چکے ہیں لیکن حیران کن طور پر کسی عام اور بےگناہ شہری کو حکومت کا وہ احتجاج نصیب نہیں ہوا جو مُلا اختر کے حصے میں آیا۔ ڈرون حملوں کا زیادہ تر نشانہ شمالی وزیرستان کا علاقہ بنا جس میں ہزاروں گمنام شہری مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
وزیرستان میں ڈرون کا شکار بننے والے شہریوں کا المیہ شاید صرف ڈرون کی حد تک نہیں بلکہ اس کے بعد کے حالات و واقعات سے بھی ہے۔ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے شہری صرف اس وقت قابل توجہ سمجھے جاتے ہیں جب یا تو وہ کسی شدت پسند تنظیم کے اعلیٰ منصب پر ہوں یا کسی مغربی ملک کے باشندے ہوں۔ عام شہری کی موت توگمنامی کے اندھیروں میں ہی دبی رہتی ہے۔ ان حملوں میں بچ جانے والوں کی مشکلات بھی الگ قصہ ہیں جن کی ایک جھلک ہمیں صدا اللہ کی کہانی میں ملتی ہے۔
  
سات ستمبر 2009 کو وزیرستان کے گاؤں مچی خیل میں ہونے والے ڈرون حملے میں صدا اللہ کے خاندان کے تین افراد ہلاک اور خود صدا اللہ شدید زخمی ہوئے۔
اس حملے میں ان کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں۔ مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے صدا اللہ کے زخم کبھی نہ بھر سکے۔ انھیں ایک خیراتی ادارے کی مدد سے مصنوعی ٹانگیں تو مل گئیں لیکن سخت لکڑی کی ان ٹانگوں کی وجہ سے ان کے زخم ناسور بن گئے اور 2013 میں وہ چل بسے۔ صدا اللہ سے ملتی جلتی کہانی فہیم قریشی کی بھی ہے جو 23 جنوری 2009 کو ہونے والے ڈرون حملے کا نشانہ بنے اور وقت ان کی عمر صرف 14 سال تھی۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے سات افراد مارے گئے۔ فہیم زخمی ہونے کے بعد تقریباً ایک سال تک ملک کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج رہے۔ اس حملے میں فہیم کی یاداشت اور ایک آنکھ بھی متاثر ہوئی۔

اکتوبر 2012 میں وزیرستان کے علاقے ٹپی میں 65 سالہ ممانا بی بی کھیتوں میں کام کر رہی تھیں کہ ڈرون حملے کا نشانہ بن گئیں۔ اس حملے کی عینی شاہد نو سالہ نبیلہ نے اپنی دادی کو راکھ کا ڈھیر بنتے دیکھا اور وہ خود اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ کافی عرصہ تک بنوں اور بعد میں پشاور میں زیرِ علاج رہی۔
ان اور ان جیسے دیگر واقعات میں کچھ چیزیں مشترک ہیں۔ فہیم، صدا اللہ اور نبیلہ کو آج بھی یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ بےگناہ تھے۔ ان سب کو انتہائی غربت کے عالم میں دوسروں کے رحم و کرم پر رہ کر علاج کروانا پڑا اور یہ ’سہولت‘ شاید ان جیسے بہت سے متاثرین کو تو نصیب بھی نہیں ہو سکی۔ وزیرستان میں علاج کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈرون حملوں میں صرف وہی زخمی زندہ بچتے ہیں جو قریبی شہروں کے ہسپتالوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
  
پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان میں 400 سے زائد ڈرون حملے ہو چُکے ہیں لیکن سب سے افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ان سینکڑوں ڈرون حملوں پر ریاست محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ وہ ریاست جس پر اپنے شہریوں کی حفاظت کی آئینی ذمہ داری ہے اس نے نوشکی حملے پر کیے گئے احتجاج کے مقابلے میں ذرہ برابر احتجاج بھی ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر نہیں کیا۔ جب ایک ریاست اپنے بےگناہ شہریوں کے قتل عام پر خاموش رہتی ہے تو پھر وہ اپنی حدود میں ایک غیر ملکی شدت پسند کی ہلاکت پر واویلا کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔ اگر ریاست نے اپنے شہریوں کے خونِ ناحق کا معاملہ اسی جوش و جذبے سے اٹھایا ہوتا تو شاید معاملات نوشکی کے حملے تک نہ پہنچتے۔ پاکستانی ڈرون متاثرین سے یہ تفریقی رویہ صرف ان کی اپنی ریاست کی جانب سے ہی نہیں۔

امریکی حکومت بارہا افغانستان اور یمن میں ڈرون حملوں میں مارے جانے والے شہریوں کے خاندانوں کو زرِ تلافی ادا کر چکی ہے لیکن آج تک امریکیوں نے ایک بھی ایسے کسی پاکستانی کو زرِ تلافی ادا نہیں کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ زرِ تلافی مکمل انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا لیکن حقیقی معنوں میں یہ غریب متاثرین کے زخموں کے لیے مرہم کا کام کر سکتا ہے۔ ڈرون متاثرین کو انصاف کی فراہمی سے پاکستانی حکومت کسی طرح بھی پہلو تہی نہیں کر سکتی کیونکہ بنیادی ذمہ داری آج بھی اسی کی ہے۔ ریاست کی کامیابی اس کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے منسلک ہے۔ اگر عام شہری محفوظ نہیں اور انصاف جیسی سہولت سے محروم ہیں تو وہ ریاست بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ناکام تصور ہوگی بلکہ غیر فعال بھی اور نہ ہی وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہو سکے گی۔

بشکریہ بی بی سی اردو
شہزاد اکبر
اسلام آباد


No comments:

Powered by Blogger.