Header Ads

Breaking News
recent

نوشیروان عادل - دیانت دار اور انصاف کرنے والا بادشاہ

نوشیروان ایک بے حد، دیانت دار اور انصاف کرنے والا بادشاہ تھا۔ اس کے عدل و انصاف کے قصے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اسی لیے اسے نوشیروان عادل کہا جاتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نوشیروان اپنے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ شکار کے لیے گیا۔ جلد ہی بادشاہ اور اس کے ساتھیوں نے تین ہرن شکار کرلیے۔ اب دوپہر ڈھلنے والی تھی۔ سب کو بھوک ستارہی تھی۔ نوشیروان نے شاہی باورچی کو حکم دیا کہ ہرنوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت بُھون کر سب کو پیش کیاجائے۔ عین اس وقت شاہی باورچی کو معلوم ہوا کہ افراتفری میں صبح آتے وقت وہ نمک نہیں لایا۔ جب نوشیروان کو باورچی کی کوتاہی کا علم ہوا، تو اس نے ایک ملازم کو حکم دیا کہ وہ قریبی گائوں جاکر نمک لے آئے۔
نوشیروان نے ملازم کو تاکید کی کہ نمک دام دے کر خریدا جائے۔ ایک وزیر نے کہا: ’’جناب ذرا سے نمک کی کیا حیثیت ہے کہ اسے بھی دام دے کر لیا جائے۔‘‘ نوشیروان نے کہا :’’تم ٹھیک کہتے ہو کہ یہ ذرا سے نمک کی بات ہے، لیکن اگر حکام کو بغیر دام دیئے چیزیں لینے کی عادت پڑگئی،تو کیا ہوگا۔ ظلم پہلے ذرا سا ہوتا ہے، مگر بار بار ظلم کیا جائے تو وہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ بادشاہ اور حاکم اگر اسی طرح ظلم کرتے جائیں، تو ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ رعایا ایسی ظالم حکومت سے تنگ آکر بغاوت پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی حکومت کا ملازم کسی باغ سے ایک سیب بغیر دام دیئے، توڑ لے تو باقی ملازم پورا باغ اُجاڑ دیں گے۔ ذرا سوچو اس طرز عمل سے باغ کے مالک کا کیا حال ہوگا‘‘۔

پروفیسر سجاد شیخ
 

No comments:

Powered by Blogger.