Header Ads

Breaking News
recent

کلرکہار : اسلام آباد کے قریب خوب صورت سیاحتی مقام

ضلع چکوال کا قصبہ تحصیل اور ایک خوبصورت تفریحی مقام ۔ چکوال سے سرگودھا جانے والی سڑک پر ۲۶ کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑوں کے سنگم میں لاہور اسلام آباد موٹروے کے اُوپر واقع ہے۔ کلّر کہار ایک ایسے مقام پر واقع ہے، جس کی عسکری اہمیت زمانہ قدیم سے مُسلّمہ رہی ہے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ کے درّوں سے جتنی قومیں اور حملہ آور آئے ان کا گزر مارگلہ سے براستہ ڈھوک پٹھان سلسلۂ کوہستان نمک کے زیرِ سایہ ہی ہوتا۔ ان کا اولین ہدف کلر کہار، بھیرہ کا خوش حال اور قدیم شہر اور نندنہ کا مضبوط قلعہ ہوتا۔ تاریخ کی گواہی کے مطابق یہ حملہ آور سب سے پہلے کلرکہار ہی پہنچے۔
اِس کی قدامت کا اندازہ اس روایت سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق راجہ داہر کے ایک بیٹے جے سنگھ نے محمد بن قاسم سے شکست کھا نے کے بعد کشمیر کے راجہ کے پاس پناہ حاصل کر لی تھی۔ راجہ نے اس کی گزر اوقات کے لیے اپنی ریاست کی جنوبی سرحد پر کچھ جاگیر عطا کر دی جس کا صدر مقام کلّر کہار تھا۔ جے سنگھ نے اس جاگیر کے انتظام کے لئے ایک باغی عرب حمیم بن سامہ کو اپنا مختار کل مقرر کیا چنانچہ حمیم نے یہاں وسیع پیمانے پر شجرکاری کی اور بعض مساجد تعمیر کیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حمیم کا کلر کہار موجودہ کلرکہار سے کچھ دُور اس مقام پر آباد تھا جو تباہی کے بعد اب بھال کے آثار کی صورت میں باقی رہ گیا ہے۔
جنرل کننگھم کے بقول کلر کہار کا پُرانا نام’’شاکلہا‘‘ تھا۔ اس جگہ کا نام کلوکہّر بھی بتایا گیا ہے، لیکن ۱۵۱۹ء میں برصغیر میں مغل سلطنت کا بانی ظہیر الدین بابر بھیرہ فتح کر نے کے بعد کلر کہار آیا اور یہاں قیام کیا تو اس نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’تزک بابری‘‘ میں اس کا نام ’’کلدہ کنارـ‘‘ لکھا۔ بابر نے یہاں ایک باغ تیار کرایا جس کا نام باغ صُفار کھا۔ یہ باغ صاف اور ہوادار جگہ پر بنا۔ کلرکہار سطح سمندرسے چار ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ روایت ہے کہ بابر کے کلرکہار میں قیام کے دوران فوج نے ایک چٹان تراش کر اس کے لیے تخت بنایا تھا جواب بھی تخت بابری کے نام سے موجود ہے۔ یہیں پہاڑ کی چوٹی پر ایک مزارہے، جس کا سبز گنبد ہر آتے جاتے کو اپنی جانب متوجہ کرتاہے۔ یہاں حضرت غوث ملوک کے دوپوتے حضرت محمد اسحق اور حضرت محمد یعقوب دفن ہیں، جو مقامی مسلمانوں کی مدد کے لیے اس علاقے میں آئے تھے اور شہادت حاصل کی۔
یہاں ایک خوبصورت جھیل بھی ہے ،جو سیاحوں کی تفریح کا بہترین مقام ہے ۔اس کے اردگرد ہوٹل اور ریسٹ ہائوسز موجود ہیں۔ کلرکہار میں مختلف اقسام کے پھل اور پھول کثرت سے ہوتے ہیں۔ ان میں لوکاٹ اور گلاب خاص طور پر قابل ذکرہیں۔ یہاں کا عرق گلاب، چوعرقہ اور گلقند مشہور ہیں۔ یہاں عصر کے بعد مور آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں، اور اذان مغرب سے پہلے جنگل میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ کلرکہار سے قریباً ۹ میل کے فاصلے پر سلسلہ کوہستان نمک میں قلعہ ملوٹ کے آثار ہیں، جس کی بلندی سطح سمندر سے تقریباً تین ہزار فٹ ہے۔ جنرل کننگھم کے اندازے کے مطابق قصبہ ملوٹ اور قلعہ ملوٹ اپنے زمانہ عروج میں اڑھائی میل کے گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق جنجوعوں راجپوتوں کے ایک مورث اعلیٰ کا نام مل دیویاملوتھا اسی کی نسبت سے اس کا نام ملوٹ پڑا۔ 
جنرل ایبٹ اس کا نام شاہ گڑھ یا شاہی گڑھ بتاتا ہے لیکن جنجوعہ روایات کے مطابق اس کا نام راج گڑھ تھا۔ اس کی تعمیر ۹۸۰ء میں ہوئی۔ یہاں دوقدیم مندر بھی ہیں جو قدیم کشمیری طرز تعمیر کا نمونہ ہیں۔ ان کا تعلق کوہستان نمک کے ہندو شاہیہ سے ہے۔ بابر بادشاہ نے دولت خاں لودھی سے یہیں پر ہتھیار ڈلوائے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے باپ مہان سنگھ نے بھی یہاں ایک چھوٹا سا قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ اسے پکی سڑک کے ذریعے کلر کہار چوآسیدن شاہ سڑک کے ساتھ براستہ چھوٹی سڑک ملا دیا گیا ہے۔ ملوٹ سے مشرق کی طرف تقریباً ۳ میل کے فاصلے پر سب گنگا کے مقام پر بودھوں کا ایک مندرہے۔اس جگہ پر میجر ایبٹ کو سکندراعظم کا تراشا ہوا ایک سرملاتھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا ساہندو مندر بھی ہے۔ آجکل اس علاقے کو ملکانہ کہتے ہیں۔

(اسد سلیم شیخ کی تصنیف ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)  

No comments:

Powered by Blogger.