Header Ads

Breaking News
recent

اسرائیل کی 'دوستوں' سے محرومی

غیر ملکیوں کی تنقید کے جواب میں اسرائیلیوں کا ہمیشہ ایک ہی رد عمل ہوتا ہے جو ان کی فرقہ پرستی کی علامت بھی بن چکا ہے۔ وہ کاندھے اچکا لیتے ہیں اور کہتے ہیں ’بہرحال، ساری دنیا ہمارے خلاف ہی ہے‘۔ یہ جواب ضرورت کے لحاظ سے دوست اور دشمن دونوں ہی کو دیا جاتا ہے اور اکثر دوستوں کی جانب زیادہ زہر خند ہوتا ہے کیونکہ ان سے توقع ہوتی ہے کو وہ اسرائیل کی ہر اچھی بری خواہش کی حمایت کریں گے۔

پچھلے سال ایک سروے میں ۷۱ فیصد لوگوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دنیا کے ممالک تنازعات میں ملوث ملکوں میں سے صرف اسرائیل سے ہی سب سے زیادہ اخلاقی مطالبات کرتے ہیں۔ حال ہی میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اسرائیل کے خلاف تعصب کے لئے تنقید کا نشانہ بنے جب انہوں نے اسرائیل کی فلسطینی علاقوں پر قبضہ کی پالیسی پر عمومی اور مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بنانے کی پالیسی پر خصوصی تنقید کرنے کی جرأت کی۔ حالانکہ کیمرون تمام برطانوی وزراء اعظم میں سے اسرائیل کے سب سے بڑے دوست سمجھے جاتے ہیں اور بلا شبہ ان کو تمام یورپی رہنماوں میں موجودہ اسرائیلی حکومت پر سب سے کم تنقید کرنے والا خیال کیا جاتا ہے۔

کیمرون کو اس تنازع میں ٹانگ اڑانے سے زیادہ بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ کم از کم جون کے مہینے تک انہیں برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ کرنے کے معاملے پر ریفرینڈم میں کامیابی اور اپنی کنزرویٹو پارٹی کو متحد رکھنے جیسے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان حالات میں کسی اور سیاستدان نے یہ سود مند نہیں سمجھا کہ نیتن یاہو کو ترغیب دے کو وہ یہودی بستیوں کی پالیسی کو معقولیت کی نظر سے دیکھے۔

اسی طرح یہ بھی ایک سعی لاحاصل ہے کہ اسرائیلی حکومت کو یہ یقین دلایا جائے کہ پوری دنیا فلسطینی زمینوں پر قبضے اور وہاں یہودی بستیاں بسانے کو غیر قانونی اور اشتعال انگیزی سمجھتی ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اسے دو ریاستی حل کے تحت ہونے والے امن معاہدے کو توڑنے کی دانستہ اسرائیلی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے پر یورپی یونین اور اسرائیل کے سب سے بڑے دوست امریکہ کے درمیان اختلاف زیادہ نہیں ہے۔

اسرائیل کی مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کو شہر کی عرب آبادیوں کے یہودی محاصرے کے مترادف قرار دے کر کیمرون دراصل اس صدمے کا اظہار کر رہے تھے جس کا مشاہدہ انہیں وہاں کے حالیہ دورے میں ہوا تھا۔ تمام یورپی ممالک کا نقطہ نظر بھی یہی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھی
مطابقت رکھتا ہے۔
ہر تنقید پر سخت رد عمل دینے کی نیتن یاہو کی عادت ان کی نو آبادیاتی سوچ اور اقدار کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے یروشلم کے میئر کے ساتھ مل کر کیمرون پر شدید تنقید کی۔ دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیت المقدس پر مکمل اسرائیلی کنٹرول اور اس کی حدود میں مغربی کنارے کا بقیہ حصہ شامل کرنا عسکریت پسند اسلام کی جانب سے اس شہر پر قبضہ کرنے کے خلاف اسرائیل کی آخری دفاعی لائن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے لئے ترقی اور خوشحالی بھی مہیا کرتا ہے۔

ان دونوں نے با آسانی اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ یہ فیصلہ کرنا فلسطینیوں کا کام ہے کو وہ اسرائیل کو اپنے مسیحا اور محافظ کا کردار دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خوس کرنا چاہتے ہیں اور اسے اسرائیل پر ہر گز چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر فلسطینیوں کی مزاحمت اور رائے عامہ کے جائزوں میں ان کے خیالات کو مد نظر رکھا جائے تو اس معاملے پر کوئی بھی عملی اور تجرباتی اقدام اس پالیسی کے بالکل بر عکس ہو گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی کتاب میں کچھ ممالک کو اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید اور اظہار خیال کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ان میں سب سے نمایاں جرمنی ہے، پھر اس کے بعد برطانیہ کا نمبر آتا ہے جس کی وجہ فلسطین کے معاملے پر اس کے تاریخی مینڈیٹ اور دوسری عالمی جنگ میں یہودیوں کو بچانے کے لئے کافی اقدامات نہ کرنے جیسے جرائم ہیں۔

تاہم اسرائیلی قبضے اور توسیعی منصوبوں پر عالمی محاسبے سے بچاو کی ایک بھونڈی کوشش کے طور پر دوسرے ممالک کو ان کے ماضی کی وجہ سے خاموش کرانا اب کارآمد نہیں رہا۔ حال ہی میں فرانس نے اسرائیل کی شدید مخالفت کے باوجود فلسطین کے تنازع پر عالمی سربراہی کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔ پچھلے ماہ تک فرانس کے وزیر خارجہ رہنے والے لوران فابیوس نے نہ صرف اسرائیل کی فلسطینی علاقوں میں مستقل یہودی بستیاں بسانے کی شدید مزمت کی بلکہ دنیا سے اپیل کی کہ وہ دو ریاستی حل کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دے۔

 انہیں نے دھمکی بھی دی کہ اگر فلسطینی تنازع کے حل کی سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو فرانس، فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کر لے گا۔
بہت سے اور لوگوں کی طرح فابیوس بھی یہ بات جانتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین میں کسی جامع سمجھوتے کے بغیر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا صیہونی حکومت پر ظالمانہ پالیسیاں بدلنے کے لئے دباو ڈالنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو مسترد کرتا ہے اور اسے تنازع کے حل کے اس جامع امن معاہدے سے باہر قرار دیتا ہے جسے ۱۹۹۳ کے اوسلو معاہدے کے بعد سے عالمی برادری تسلیم کرتی ہے۔

دو ریاستی حل
بہر حال دنیا میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو حکومت امن کے فروغ میں تعاون کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ اس کے بعد عالمی رہنماوں کی مذمت اور متبادل طریقوں پر غور کرنے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جو چیز اسرائیلیوں کے لئےسب سے زیادہ پریشان کن ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ خلوص نیت کے بغیر مزاکرات کرنے سے دو ریاستی حل کا تصور بڑی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے اور فلسطینی معاشرہ اس حل کو ترک کر رہا ہے اور دنیا یہودی ریاست کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔

عالمی رہنماوں کے خلاف زبانی حملوں میں اضافہ نیتن یاہو کو اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لئے کچھ کرنے کا احساس تو دے سکتا ہے مگر حقیقت میں وہ اسرائیل کو اس کے دوستوں اور اتحادیوں سے دور تر کر رہے ہیں۔ اگر وہ تاریخ کا کوئی ادراک رکھتے تو اب تک یہ اندازہ لگا چکے ہوتے کہ ایک حقیقی، منصفانہ اور قابل عمل حل میں تاخیری حربوں سے وہ فلسطینی معاشرے کے بڑے حصوں کو انتہا پسندی پر مجبور کر رہے ہیں، اور اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ اور پابندیوں کے لئے گنجائش مہیا کر رہے ہیں جس سے دوست دشمن بن جائیں گے۔ یہ طریقہ یہودی ریاست کے ایک آزاد ریاست کے طور پر زیادہ عرصہ باقی رہنے کے امکانات کو کم کر دیتا ہے۔

یوسی میکل برگ

No comments:

Powered by Blogger.