Header Ads

Breaking News
recent

سعودی ارب پتی کے عروج وزوال کی دلچسپ داستان

اگرچہ آج کے دور میں امراء کی جیسے جیسے تعداد بڑھتی جا رہی ہے ایسے ہی ان کے تذکرے بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہتے ہیں مگرخال خال ایسےارب پتی بھی موجود ہیں جن کی دولت وثروت کے چرچے چار دانگ عالم میں مشہور نہیں بلکہ وہ گوشہ گمنامی میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

ایسے ہی ایک گم نام ارب پتی کا تعلق سعودی عرب سے ہے جنہوں نےاپنی دولت کو اپنے لیے ذریعہ شہرت نہیں بنایا بلکہ گوشہ گم نامی میں زندگی بسر کردی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 80 سالہ سعودی کاروباری شخصیت سلیمان عبدالعزیز الراجحی کی زندگی بہت سوں کے لیے سبق آموز بھی ہے کیونکہ انہوں نے صفر سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ کئی کمپنیوں کے مالک بنے، مگر عمر کے آخری حصے میں دولت کا بیشتر حصہ خیرات کرنے کے بعد باقی ماندہ جائیداد اولاد میں بانٹ دی۔ یوں وہ خود ایک بار پھرخالی ہاتھ ہوگئے۔
’’فوربز‘‘ جریدے کی رپورٹ کے مطابق الحاج سلیمان عبدالعزیز الراجحی کی دولت سات ارب 40 کروڑ سے زاید تھی۔ ان میں دو تہائی خیراتی اور رفاہی کاموں کے لیے مختص کردی اور باقی مال و جائیداد بیٹوں میں تقسیم کردی۔ الراجحی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی صفر سے شروع کی اور آج ایک بار پھر اسی مقام پرکھڑا ہوں جہاں سے زندگی کا آغاز کیا تھا۔ زندگی میں دو مرتبہ مجھے ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جب میری دولت بالکل صفر ہو کر رہ گئی تھی۔

الراجحی نے اوائل عمری میں قلی، خاکروب، باورچی، ویٹراور اے ٹی ایم بوائے سمیت کئی دوسرے کام کیے۔ یہاں تک ایک وقت آیا کہ اس نے ’’الراجحی‘‘ کے نام سے اپنا بنک بنا لیا۔ یہ سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا میں پہلا اسلامی بنک تھا۔ اس کے بعد اس کی دولت میں دن دگنی اور رات چگنی ترقی ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ اس کا شمار سعودی عرب کے ارب پتی لوگوں میں ہونے لگا۔

تجارت اور کاروبار کے بارے میں سلیمان الراجحی کا کہنا ہے کہ تجارت کا پیشہ خساروں اور خطرات سے بھرپور ہے۔ الراجحی غربت کے باعث بچپن میں تعلیم حاصل نہ کرسکے ان تھک محنت اور مشقت نے انہیں ایک کامیاب تاجر بنا دیا۔
دولت کی طرح اللہ نے سلیمان الراجحی کو اولاد کی نعمت سے بھی بھرپور نوازا۔ انہوں نے چار شادیاں کیں جن سے ان کی مجموعی اولاد 23 بیٹے بیٹیاں ہیں۔ 

انہوں نے سنہ 1987ء میں سلیمانی الراجحی بنک کی بنیاد 15 ارب ریال سے رکھی۔ آج اس بنک کی سعودی عرب میں 500۔ اردن میں 6 اور ملائیشیا میں 19 برانچیں چل رہی ہیں جب کہ سعودی عرب میں ان کے بنک کے 2750 اے ٹی ایم سینٹر ہیں۔ الراجحی نے بتایا کہ ان کی کامیابی کا راز ان تھک محنت ہے۔ وہ ہمیشہ کام پر دوسروں سے پہلے آتے اور سب سے آخر میں گھر لوٹتے۔ اگر ہفتے میں نو دن بھی ہوتے تب بھی وہ اپنی مصروفیات اسی طرح جاری رکھتے۔

No comments:

Powered by Blogger.