Header Ads

Breaking News
recent

بھٹہ پر کام کرنے والے بچے اور ان کا مستقبل ؟

اینٹوں کے بھٹوں کی بھی ایک اپنی دنیا ہے۔بھٹہ مالک کی سنو تو وہ مجبور اور بے کس لگتا ہے۔ بھٹہ مزدور کی سنو تو وہ جدید دور میں بھی غلامی کی زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں۔ تصویر کے دونوں رخ ہی دلچسپ ہیں۔ بھٹہ مزدور واحد مزدور ہیں جن کو ان کے کام کی مزدوری ایڈوانس میں ملتی ہے۔ لیکن پھر بھی ان کی داستان دکھ بھری ہے۔

 بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی داستان اپنی جگہ لیکن سب سے افسوسناک پہلو بھٹوں پر کمسن بچوں کا کام کرنا ہے۔ یہ بچے قوم کا مستقبل ہیں۔ یہ سکول جانے کی بجائے ہوش پکڑتے ہی بھٹہ پر اپنے والدین کے ساتھ مزدوری شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ بھٹوں پر پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا بچپن بھی بھٹوں پر ہی گزرتا ہے۔ بھٹوں پر جوان ہوتے ہیں ۔ بھٹوں پر ہی شادی ہوتی ہے۔ ان کی بھٹوں سے باہر کوئی زندگی نہیں ہو تی اور نہ ہی یہ بھٹوں سے باہر اپنی کسی زندگی کا کوئی تصور رکھتے ہیں۔

حکومت نے اینٹوں کے بھٹہ پر کام کرنے والے بچوں کو سکول میں داخلے کی ایک مہم شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں ایک بھٹہ پر ایک دن گزارنے کا موقع ملا۔ 

بھٹہ پر کام کرنے کا پہلا اصول ہے کہ آپ جتنا کام کریں گے آپ کو اتنی ہی اجرت ملے گی۔ آج کل ایک ہزار اینٹ بنانے کا آٹھ سو سے ایک ہزار روپے مل رہے ہیں۔ اب یہ ایک ہزار اینٹ بنانے میں اس مزدور کی بیگم اور اس کے بچے اس کی مدد کرتے ہیں۔ اس طرح پورا خاندان مل کر اینٹیں بناتا ہے۔ اور اجرت حاصل کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کمسن بچے والدین کی اینٹیں بنانے میں کیا مدد کرتے ہیں۔
 زیادہ تر بچے جس جگہ مٹی پڑی ہوتی ہے اس کو ریڑھی میں ڈال کر اپنے والدین کے پاس لانے کا کام کرتے ہیں۔ اور اینٹیں سانچے میں والدین ہی بناتے ہیں۔ جو بچہ سانچے میں خود اینٹ بنانے کے قابل ہو جائے اس کو جوان تصور کر لیا جاتا ہے۔ اور اس کی فوراً شادی کر دی جاتی ہے۔ بھٹہ پر بچہ کے بالغ اور جوان ہونے کی نشانی یہی ہے کہ اس نے اینٹ کا سانچہ چلانا سیکھ لیا ہے۔   

اس لئے بھٹہ پر اس کا الگ اکاؤنٹ کھل جا تا ہے۔ اور وہ برسر روزگار ہو جاتا ہے۔ اس طرح اینٹ بنانے کا سانچہ ہی بچے کی بچپن سے منزل ہو تا ہے۔ کیونکہ اس نے ہی اس کے لئے زندگی کے دروازے کھولنے ہیں۔

حکومت چاہتی ہے کہ بھٹہ پر کام کرنے والے بچے بھٹوں پر ہی زندگی ختم نہ کردیں۔ بلکہ باقی بچوں کی طرح ان کو بھی زندگی میں ترقی کرنے کے مواقع حا صل ہونے چاہئے۔ تا کہ ان میں سے بھی کوئی قوم کا روشن ستارہ بن سکے۔ بظاہر ایک اچھی سوچ ہے۔ حکومت نے بھٹہ مالکان پر سختی بھی شروع کی ہے کہ وہ اپنے بھٹوں پر بچوں سے کام نہ لیں۔

لیکن دو تین بھٹہ مالکان سے بات کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حکومت بھٹہ مالکان پر جتنی مرضی سختی کر لے۔ بھٹو ں پر بچوں کا کام کرنا ختم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ بچے اپنے والدین کے لئے آمدن کا ذریعہ ہیں۔ والدین ان کو اپنے ساتھ کام کروانا چاہتے ہیں۔ اور جب تک حکومت والدین کو اس بات کا پابند نہیں کرے گی کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجیں۔ یہ مہم کامیاب نہیں ہو سکتی۔

اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ جب ایک بھٹہ پر حکومت سختی کر کے بچوں کو سکول میں داخل کرواتی ہے تو بھٹہ مزدور کی کوشش ہو تی ہے کہ وہ جلد از جلد بٹھہ تبدیل کر لے۔ اس وقت مارکیٹ میں بھٹہ مزدور کی سخت کمی ہے اوربھٹہ مالکان کو ہر وقت ایسے کاریگروں کی کمی کا سامنا رہتا ہے جو اچھی اینٹ بنا سکتے ہیں۔ ویسے تو حکومت نے بھٹہ پر کام کرنے والے بچوں کو سکول داخل کروانے کے لئے جو دو ہزار روپے فی بچہ دینے کا اعلان کیا ہے وہ ایک کاغذی اعلان ہے اور حقیقت میں یہ دو ہزار روپے نہیں دئے جا رہے۔ لیکن اگر کسی ایک جگہ دئے بھی گئے ہیں تووالدین جب بھٹہ تبدیل کر لیتے ہیں تو یہ دو ہزار روپے بھی ختم۔ نیا بھٹہ نیا اصول نئے پیسے۔

بھٹہ پر کام کرنے والے ایسے مزدور جن کے بچے سکول داخل کروائے گئے ہیں ان سے بھی میں نے بات کی۔ ان کی ایک الگ منطق ہے جو حقیقت پسندانہ بھی ہے اور غلط بھی۔ والدین کی اکثریت نے مجھے کہا کہ ہم بچے سکول بھیج دیں تو اس کا کیا فائدہ۔ اس کا تو نقصان ہی نقصان ہے۔ اگر یہ چار جماعتیں پڑھ بھی جائیں گے تو انہیں کونسی اچھی نوکری مل جائے گی۔ بلکہ الٹا نقصان ہو گا کہ یہ بعد میں اینٹیں بھی نہیں بنائیں گے۔ اور ساری عمر بے روزگار رہ جائیں گے۔ یہ ایک انجانا خوف بھی ہے ۔ لیکن حقیقت پسندانہ بھی ہے۔ اس وقت سردیاں ہیں۔ اس لئے بھٹہ پر کام کرنے کا موسم بھی آسان ہے۔ گرمیوں میں بھٹہ پر کام کرنا مشکل ہو جا تا ہے۔ اس لئے فجر کے وقت کام شروع کیا جاتا ہے اور ظہرکے وقت ختم کر دیا جاتا ہے۔

اس وقت کیا ہو رہا ہے کہ بچے دن میں حکومت کے خوف سے سکول جا رہے ہیں۔ اور سکول کے بعد پھر بھٹہ پر ہی کام کر رہے ہیں۔ لیکن خوف کی ایک فضا ہے۔ ہر وقت چھاپے کا خوف ۔ بھٹہ مالک کہہ رہا ہے کہ بچوں سے کام نہیں لینا۔ لیکن والدین جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ اینٹ بنانے کے لئے بچوں سے مدد لینے پر بضد ہیں۔ جب تک بھٹہ پر روائتی طریقہ سے اینٹ بنتی رہے گی۔ بچوں کو بھٹہ سے نکالنا ایک مشکل کام ہے۔ بہر حال ضرورت اس امر کی ہے حکومت صرف بھٹہ مالک کو نہیں ان بچوں کے والدین کو بھی قائل کرے کہ ان کے بچوں کا مستقبل سکول جانے سے مٖحفوظ اور روشن ہے۔

 اس دوران میں نے بھٹہ پر کام کرنے والے ایک دوسری جماعت کے ایک طالبعلم نعیم سے بھی بات کی۔ نعیم اب سکول جا تا ہے۔ اس نے اے بی سی سیکھ لی ہے۔گنتی بھی سیکھ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اسے سکول میں مزہ آرہا ہے۔ لیکن اسے یقین نہیں کہ وہ سکول میں رہے گا یا اس کے والدین چند دن بعد جب حکومت ٹھنڈی ہو جائے گی۔ چھاپے بند ہو جائیں گے۔ حکومت کسی اور کام میں مصروف ہو جائے گی۔ تو وہ دوبارہ بھٹہ پر کام کرنے لگ جائے گا۔

مزمل سہروردی

No comments:

Powered by Blogger.