Header Ads

Breaking News
recent

تبلیغی مرکز رائیونڈ

گذشتہ صدی کی چوتھی دہائی میں جماعت اسلامی کے مؤسس مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے میوات کے علاقے میں تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ کی رفاقت میں ماہ ستمبر1939ء میں کئی دن گزارے۔اس عرصے میں انہوں نے مولانا محمد الیاسؒ صاحب کی فکر سے آشنائی حاصل کی۔مولانا الیاس ؒ صاحب نام کے مسلمانوں کی تربیت کرکے انہیں حقیقی مسلمان بنانے کی کاوش میں مصروف تھے۔

مولانا مودودیؒ ،حضرت مولانا الیاس صاحب کی شخصیت اور فکر سے بہت متاثر ہوئے۔ واپسی پر انہوں نے اس مفید کام کے بارے میں اپنے ’’ماہنامہ ترجمان القرآن‘‘ اکتوبر 1939ء میں ایک مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا ’’ایک اہم دینی تحریک ‘‘۔ میں کئی مرتبہ اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو مولانا کا لکھاہوا مضمون ذہن میں تازہ ہوجاتاہے۔ میں سوچتاہوں کہ اگر ان دو عظیم شخصیات کو کچھ مزیدعرصے کے لیے ایک دوسرے کی رفاقت حاصل ہوجاتی تو آج وطن عزیز میں یہ دو اسلامی قوتیں ایک دوسرے کی ممد و معاون بن کر کفرکی سازشوں اور لادینی قوتوں کی یلغار کو شکست دے چکی ہوتیں۔

 بہرحال اللہ کی اپنی مشیت ہوتی ہے کہ بوجوہ وہ پیش رفت نہ ہوسکی جو یقیناً ان دونوں عظیم رہنماؤں کی سوچ کی عکاّس تھی۔8 فروری 2016ء ،بروز پیر  پھرایک مرتبہ تبلیغی مرکز رائیونڈ جانے کااعزاز حاصل ہوا۔ اس سے قبل کئی بار محترم قاضی حسین احمد ؒ ،مولانا فتح محمد ؒ اور دیگر بزرگان کے ساتھ وقتاً فوقتاً یہاں حاضری ہوتی رہی۔ ان تمام مواقع پر تبلیغی جماعت کے اکابر و احباب ہمیں بڑے اعزاز کے ساتھ خواص کے کیمپ میں بٹھاتے اور ہر طرح کی دلجوئی فرماتے تھے ۔
 اس مرتبہ امیرجماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب نے تبلیغی مرکز جانے کے لیے تبلیغی جماعت کے ذمہ داران سے رابطہ کیا ۔ ان اللہ والوں نے بڑی خوشی کے ساتھ امیرجماعت کی اس فرمائش پر خود دعوت پیش کی کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب چاہیں تشریف لائیں۔ میں گذشتہ چند دنوں سے مختلف شہروں کے سفر پر تھا۔ اسلام آباد میں تھا جب محترم امیرجماعت کا پیغام ملا کہ 8 فروری کو صبح تبلیغی مرکز رائیونڈ جاناہے۔ میں 7 فروری کو اسلام آباد اور سرگودہا کے پروگراموں سے فارغ ہو کر رات منصورہ پہنچ گیا۔ اگلے دن حسب پروگرام ہم 8 ساتھی امیرجماعت کی معیت میں منصورہ سے رائیونڈ کے لیے روانہ ہوئے ۔

ہمارے دوست پیر سید لطیف الرحمن صاحب جو رکن جماعت ہیں اور ہمارے شعبہ تربیت میں نائب ناظم بھی،اس دورہ کے رابطہ کار تھے۔ جب ہم طے شدہ وقت پر اپنی منزل پر پہنچے تو سید لطیف الرحمن صاحب پہلے سے ہمارے منتظر تھے۔ تبلیغی مرکز کے اندر پہنچ کر ہم گاڑیوں سے اُترے تو تبلیغی مرکز کے اہم رکن ، عالم دین ، استاذ اور حاجی عبدالوہاب صاحب کے معاون خصوصی برادر گرامی قدر حضرت مولانا محمد فہیم صاحب نے اپنے احباب کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔

 اس استقبال میں اخوت کی ایسی شیرینی تھی ،جس کی حسین یادیں اب تک دل میں تروتازہ ہیں۔ ہمیں مین دروازے سے ہمارے میزبان ایک فرشی نشست گاہ میں لے گئے جہاں نظافت اور روحانیت کاحسین امتزاج نظر آیا۔ فہیم صاحب نے تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں کا مختصر مگر جامع تعارف کروایا۔ پھر میزبانوں نے خشک میوہ جات سے مہمانوں کی تواضع کی ۔ہم سب کی خواہش تھی کہ ہم امیرتبلیغی جماعت، گرامی قدر حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب سے ملاقات کریں۔

مولانا محمد فہیم صاحب نے بتایا کہ حاجی صاحب سے ملاقات شیڈول میں طے ہے ،بس تھوڑی دیر تک ان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایاکہ حاجی صاحب کی صحت خاصی کمزور ہے اور بولنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔ میں چونکہ دن رات ان کے ساتھ رہتاہوں، اس لیے مجھے ان کی بات سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔ پھر فرمایاکہ حاجی صاحب اس کمزور صحت اور پیرانہ سالی کے باوجود ہرروز کم و بیش دو مرتبہ مسجد میں تذکیر فرماتے ہیں۔

حاجی صاحب کی عمر95 سال ہے۔ سانس لینے میں بھی دقت پیش آتی ہے۔ ہمیں رات کو آکسیجن بھی لگانا پڑتی ہے۔ فہیم صاحب یہ کیفیت بیان کررہے تھے اور ہم سب یہ سوچ رہے تھے کہ حاجی صاحب واقعی صاحبِ عزیمت ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کانصب العین متعین کرنے کے بعد اس کے حصول کے لیے حق ادا کردیا ہے۔ تھوڑی دیر میں ہم حاجی صاحب کے کمرے میں حاضر ہوئے ۔

جیساکہ اُوپر ذکر کیاجا چکا ہے محمد فہیم صاحب نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھاکہ آج کل کمزوری کی وجہ سے حاجی صاحب سے ہاتھ وغیرہ ملانے پر پابندی ہے۔ امیرجماعت سراج بھائی نے کہاکہ ہم زبان سے سلام کہیں گے ،محترم کی زیارت کریں گے اور ان کی زبان سے جو بھی نصیحت سننے کی سعادت حاصل ہوئی اسے اپنی خوش نصیبی سمجھیں گے۔ جب ہم حاجی صاحب کی خواب گاہ میں ان کے بستر کے قریب پہنچے تو خود انہوں نے اپنا دایا ں ہاتھ بڑی محبت سے آگے بڑھایااور امیرجماعت کے بعد ہم سب سے بھی فرداً فرداً مصافحہ فرمایا۔

اس موقع پر کمزوری اور بڑھاپے کے باوجود ان کے چہرے پر مکمل طمانیت اور رونق تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اللہ ہی سب کچھ کرتاہے ، ہر ایک سے اُمیدیں توڑ کر ایک اللہ سے اُمید باندھنی چاہیے۔ اللہ کے دین کا کام کرنا فرض بھی ہے اور خوش نصیبی بھی۔ دنیا کے سارے کام وہ خود کردیتاہے ، جب بندہ اس کے کام میں لگ جائے۔اگرچہ ہمیں عمومی طور پرحاجی صاحب کی بات کی سمجھ آ رہی تھی مگر بعض الفاظ ٹھیک طرح سے سنائی نہیں دیتے تھے۔اس لیے ان کے ہر دو فقروں کے بعد فہیم صاحب ترجمانی کرتے اور اس دوران حاجی صاحب سکوت فرماتے۔

حاجی صاحب کے علاوہ مرکز میں ہماری ملاقات محترم بزرگان،شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب ،حضرت مولانا نذرالرحمن صاحب ،جناب مولانا احسان الحق صاحب اور دیگر کئی قائدین سے بھی ہوئی۔ مرکزکی عمارتیں کئی ایکڑ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ بہت بڑی جامع مسجد ،جامع العلوم ،مدرسہ تحفیظ القرآن ،قیام گاہیں ،خواتین مرکز اور اجتماع کے لیے کئی ہال تعمیر کیے گئے ہیں۔ساتھ غسل اور وضو کا بھی اہتمام ہے۔ بہت بڑا مطبخ اور مطعم بھی ہے۔کئی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لیے مترجم اور ہیڈ فونز بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

 ہر براعظم سے تعلق رکھنے والے طالب علم جامع العلوم میں زیر تعلیم ہیں۔ہر روز جماعتوں کی تشکیل ہوتی ہے اور ہر روز اپنا مقررہ وقت تبلیغ میں مکمل کرنے کے بعد پلٹنے والی کئی جماعتیں بھی مرکزپہنچتی ہیں۔ان سب کو ہدایات دی جاتی ہیں۔بیرونی ممالک میں جانے والی جماعتوں میں6 سے8 افراد تک کا وفد تشکیل پاتاہے۔خواتین بھی بیرونی ملکوں میں تبلیغ کے لیے جاتی ہیں، مگر لازمی شرط یہ ہے کہ ہر ایک کا محرم ساتھ ہو۔کوشش کی جاتی ہے کہ جس ملک میں جماعت جائے وہاں کی زبان جاننے والا کوئی مبلغ بھی ساتھ ہو۔

ہم نے مرکز میں تقریباً ۴ گھنٹے گزارے اور بہت معلومات حاصل ہوئیں۔ سچی بات ہے کہ میرے لیے یہ پہلا موقع تھا جب اتنے مختلف النوع اُمور و معاملات اور شعبہ جات سے آگاہی حاصل ہوئی۔ فہیم بھائی نے مہمانوں کے لیے ظہرانے کا اہتمام بھی کررکھاتھا۔ظہرانے کے بعد اذان ہوئی تو ہم مسجد میں چلے گئے۔ہزاروں لوگ صفیں باندھے سنتیں اور نوافل ادا کررہے تھے۔ ہم نے بھی نوافل اور سنتیں پڑھیں ،پھرجماعت کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ ٹھیک ۲بجے امام صاحب مصلّیٰ پر تشریف لائے اور صفیں درست کرنے کی ہدایت فرمائی۔

 اقامت ہوچکی تو امام صاحب نے نماز پڑھائی ۔نماز کے بعد فہیم صاحب ہمیں پہلی صف کے ساتھ دائیں ہاتھ ایک دروازے سے حاجی عبدالوہاب صاحب کے کمرے میں لے گئے ، جو مسجد سے ملحق ہے ۔ ہم نے دیکھاکہ اس میں بھی صفیں بچھی ہوئی ہیں۔حاجی صاحب وہیل چیئرپر مسجد کی طرف کھلنے والے دروازے کے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں اور دیگر لوگ اپنے اپنے جا نماز پر ان کے ساتھ دائیں طرف کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم نے سنتیں اسی کمرے میں پڑھیں۔ یہی حاجی صاحب کی رہائش گاہ اور خواب گاہ ہے۔اب حاجی صاحب سے ہماری الوداعی ملاقات تھی۔

 حاجی صاحب نے ہمیں رخصت کرتے وقت فرمایا کہ اُمت کی حالت بڑی نا گفتہ بہ ہے۔ تمام لوگوں کو پیغام پہنچائیں کہ وہ کثرت کے ساتھ استغفار کریں۔ ہم نے حاجی صاحب سے دعائیں لیتے ہوئے انہیں الوداع کہا۔ مسجد کے اندر بھی اور باہر نکل کر بھی بے شمار نوجوان اور بزرگ امیرجماعت اسلامی پاکستان جناب سراج الحق صاحب سے والہانہ ہاتھ ملاتے رہے۔ان لوگوں میں اکثریت خیبر پختونخوا بالخصوص دیر ، سوات اورمالاکنڈ کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے تبلیغی بھائیوں کی تھی۔

حافظ محمد ادریس


No comments:

Powered by Blogger.