Header Ads

Breaking News
recent

کرپشن اور اقربا پروری میں لتھڑی اسرائیلی سیاست

گزشتہ ہفتے ہونے والے واقعات نے اسرائیلی سیاست میں شفافیت اور گڈ گورننس کے تصور کو بے نقاب کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ اسرائیلی حکومت کرپشن کی دلدل میں گہری دھنسی ہوئی ہے۔ پہلے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کو ایک امریکی شخص سے غیر قانونی طور پر پیسے لینے پر آٹھ ماہ قید کی سزی سنائی گئی اور پھر موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی بیوی سارہ سے عوامی فنڈز کو ذاتی اخراجات پر خرچ کرنے کے الزام پر پولیس نے پانچ گھنٹے پوچھ گچھ کی۔

یہ اسرائیلی سیاست میں عوامی فنڈز اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے طویل اور عمیق سلسلے کا محض ایک سرا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب سیاستدانوں اور نوکر شاہی کی کرپشن اور اقربا پروری سے متعلق انکشافات نہ ہوتے ہوں اور معاشرے میں ناانصافی اور دولت مندوں کے ہاتھوں عوامی پیسے کی لوٹ مار کے چرچے نہ ہوتے ہوں۔

اولمرٹ کے معاملے میں انصاف کا پہیہ بہت سست رفتار سے چلتا رہا اور اس کی اپیل پر ہائی کورٹ نے اس کی سزا کو چھہ سال سے کم کر کے اٹھارہ مہینے کر دیا جو اس کو عملاً الزامات سے بری کر دینے کے مترادف تھا۔ پندرہ فروری کو اولمرٹ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے والے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ہونے کا ناقابل شکست ریکارڈ قائم کریں گے۔ اس سزا سے گزشتہ چند دہائیوں میں کامیاب ترین سیاستدان اور چالاک ترین شخص کی حیثیت اسرائیل کے سیاسے افق پر ابھرنے والے طویل سیاسی کیریر کا اختتام ہو جائے گا۔
اولمرٹ کا حد سے بڑھا لالچ اور اس کی پہچان بننے والا تکبر اس کے زوال کا سبب بنا۔ حالیہ سزا کے بعد اولمرٹ نے جس طرح عوامی معذرت سے گریز کیا وہ اس کے کردار کی خرابی اور اسرائیلی سیاست کی اخلاقی گراوٹ کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ اگرچہ میڈیا نے اس معاملے کی کوریج بڑی احتیاط سے کی اور اس پر روایتی کھوج اور کئی زاویوں سے جائزہ لینے سے گریز کیا، تاہم یہ کوششیں بھی اس حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتی کہ اب اسرائیلی حکومت اور سیاست کرپشن کی دلدل میں بری طرح دھنس چکی ہیں۔

عنقا شفافیت

ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق معاملات کی شفافیت کے لئے اسرائیل کا نمبر ۱۷۵ ممالک میں ۳۷ واں ہے جو بظاہر اتنا تشویشناک دکھائی نہیں دیتا مگر جب اقتصادی تعاون اور ترقیات کی عالمی تنظیم (او ای سی ڈی) کے رکن ممالک سے موازنہ کیا جائے تو یہ بہت خراب ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت، پارلیمنٹ اور سول سروس کمیشن کے اداروں نے روز افزوں کرپشن کو روکنے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں کرپشن پر سزا پانے والے افسران اور سیاستدانوں کی طویل فہرست کی موجودگی میں یہ حقیقت کافی حیران کن ہے۔ سزا پانے والوں میں ایک سابق صدر، اور خزانہ، صحت، داخلہ اور مذہبی امور کی وزارتوں کے وزیر، ارکان پارلیمنٹ، اور اعلی پولیس افسران شامل ہیں۔

بدعنوان افسران کے لئے اسرائیل بہت بدنام نہیں ہے مگر جس تواتر کے ساتھ سیاستدانوں اور اعلی افسران کے دولتمند تاجروں سے روابط اور ان سے ذاتی اس سیاسی فوائد کے حصول کی داستانیں زبان زد عام ہیں وہ ایک بہت برا مجموعی تاثر پیدا کرتا ہے۔ اسرائیل میں کرپشن کے کیسز کی دو اقسام ہیں۔ ایک سیاستدانوں کا ذاتی لالچ اور دوسرا عوامی اداروں میں ہر سطح پر سرائیت کرنے والی کرپشن۔

کئی دہائیوں سے ملک کا بجٹ مخلوط حکومت کو قائم رکھنے کے لئے بے دریغ استعمال ہو رہا ہے اور اربوں شیکل مختلف سیاسی جماعتوں اور لیڈروں سے وابستہ تنظیموں کے اکاؤنٹس میں سیاسی مقاصد کے لئے منتقل کئے جاتے رہے ہیں۔ مگر حالیہ سالوں میں سرکاری اداروں میں ایک خاص قسم کی کرپشن تیزی سے سرائیت کرتی جا رہی ہے جو سرمایہ داری اور اقربا پروری ہے۔ اس کے ذریعے بڑی کارپوریشنیں اور کمپنیاں سیاسی جماعتوں اور سرکاری افسران کو بھاری رشوتیں دے کر سرکاری ٹھیکے اور محکموں میں اپنی جڑیں بنا کر عوامی پیسے کی لوٹ مار کرتی ہیں۔

چند سال قبل پانچ لاکھ کے لگ بھگ اسرائیلی شہریوں نے کئی ہفتے جاری رہنے والے مظاہرے میں حکومتی معاملات اور سرکاری مشینری میں شفافیت لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسرائیل کی جدید سرمایہ داری اقربا پروری میں ایک حالیہ اسکینڈل بحیرہ روم کے ساحل پر قدرتی گیس کی تلاش کے مہنگے ٹھیکوں سے متعلق ہے۔ گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت کی خوشخبری کے چند سال بعد ہی یہ تنازع پیدا ہو گیا کہ بڑی کمپنیوں کا گروپ اس منافع بخش پیشے پر اجارہ داری قائم کر رہا ہے۔

زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو اور حکومت کے عہدیدار اجارہ داری کے کنٹرول کے ضوابط کو بے اثر کرنے کی کوششوں میں پہلے کی طرح مصروف ہیں تاکہ سرمایہ دار گروپ کی اجارہ داری کو یقینی بنا سکیں۔ بڑی کارپوریشنوں کے گروپ نے یہ ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے طویل لابنگ کی تھی اور معاہدے کے مطابق منافع کا بڑا حصہ کمپنیوں کو ملے گا جس کا نقصان عوام کو ہو گا۔

وسیع مجرمانہ بدعنوانیاں

حکومتی وزارتوں اور بلدیاتی محکموں میں عوامی پیسے کے غلط استعمال کی بے تحاشہ مثالیں جا بجا ملتی ہیں اور یہ بدعنوانی کسی ایک سیاسی پارٹی تک محدود نہیں۔ حال ہی میں اسرائیلی پولیس نے سابقہ سیاسی اتحاد میں شامل دائیں بازو کی جماعتوں کے دو وزرا کے خلاف عوامی فنڈز ذاتی اکاؤنٹس میں ڈالنے کے الزامات پر عدالتی کارروائی کرنے کی سفارش کی تھی۔ لیبر پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیر دفاع بنیامین بن العیازر کے بارے میں بھی منی لانڈرنگ اور بھاری رشوتیں لینے کی داستانیں اقتدار کے ایوانوں میں گردش کرتی رہی ہیں۔

حکومتی کرپشن کسی طرح بھی قابل معافی نہیں کیونکہ یہ گڈ گورننس، شفافیت اور سماجی انصاف کے لئے زہر قاتل ہے اور عوام کو ان کے پیسے سے محروم کر دیتی ہے۔ اسرائیل، خواہ اچھا سمجھا جائے یا برا، صیہونی تحریک کی پیداوار ہے۔ اس کی کرپشن دنیا بھر سے یہاں جمع ہو کر اس خواب کو تعبیر دینے والے لاکھوں لوگوں کی کوششوں کو ناکام بنا دے گی۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق روز افزوں بڑھتا جا رہا ہے، جس کے ساتھ ساتھ سماجی یکجہتی میں بھی دراڑیں پڑتی جا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نوجوانوں کے کندھوں پر یہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ انتہائی متنازع حالات میں اپنی زندگیوں کو مسلسل خطرات میں ڈالے رکھیں جبکہ سرمایہ دار اشرافیہ کی ایک چھوٹی سی اقلیت اقتدار کے غلط استعمال سے تمام وسائل پر قبضہ کر لے۔

یوسی میکل برگ

No comments:

Powered by Blogger.