Header Ads

Breaking News
recent

تعلیم کیسے بند ہو سکتی ہے

دنیا کی ایک بہترین فوج رکھنے والا ملک کئی مہربان ملکوں کے لیے کوئی مسئلہ رہے بغیر بھی ناقابل قبول بلکہ ناقابل برداشت ہے۔ فوجوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً جو تبصرے اور تجزیے سامنے آتے ہیں ان میں پاکستانی فوج کے سپاہی کی برتری کا برملا اظہار کیا جاتا ہے اور اس حقیقت کو پاکستانی فوج کا ہر حریف بخوبی جانتا ہے کہ یہ اسلحہ کے اعتبار سے بھی ایک طاقت ور فوج ہے۔

اسلامی غیرت اور روایات کو سامنے رکھنے والی یہ فوج اپنے وطن عزیز کو لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر اپنے ہر اسلحہ کو استعمال کر سکتی ہے۔ پاکستان جو خدا اور رسولؐ کے نام پر وجود میں آیا اس کے معنی یہ ہیں کہ پاکستان خدا و رسولؐ کے دین کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا اس لیے اس ملک کا دفاع محض ایک رسمی سے کسی ملک کا دفاع نہیں، یہ ایک جیتے جاگتے نظریے کا دفاع ہے جو اس ملک کے وجود میں سرائیت کر چکا ہے اور اس ملک کے وجود کا دوسرا نام بن چکا ہے یہ ملک ہر لحاظ سے پاکستان ہے۔
ہر پاکستانی اس ملک کے دفاع کو صرف ایک ملک اور گھر کا دفاع ہی نہیں سمجھتا، وہ اسے ذاتی طور پر اپنے ایمان اور عقیدے کا حصہ سمجھتا ہے جس پر اس کی آخرت کی نجات کا انحصار ہے اس لیے پاکستان کی بقا ہر پاکستانی کے لیے اس کا ایک ذاتی مسئلہ بھی ہے اور بڑا ہی اہم۔

پاکستان نے دفاع کے شعبے میں جو ترقی کی ہے وہ اگر ایک غیر معمولی ترقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کا دفاع آخری حد تک لازم سمجھتا ہے اور اس میں کسی سے پیچھے رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

دنیا میں اس وقت سب سے موثر اسلحہ ایٹم بم ہے جو پانچ چھ ملکوں کے پاس تھا اور ان ملکوں نے اس بہت بڑی تباہ کن طاقت کو اپنی خصوصی ملکیت بنا لیا تھا جو دوسروں کو اس طاقت کے استعمال سے علانیہ روکتے تھے کیونکہ اس کے پھیلاؤ کو وہ اسے دنیا کے امن کے لیے خطرناک قرار دیتے تھے کہ ان کے خیال میں یہ خطرناک ترین اسلحہ اگر غیر ذمے دار ملکوں کے پاس پہنچ گیا تو وہ دنیا کے امن کو تہہ و بالا کر دیں گے اور وہ بھی اپنے چھوٹے چھوٹے مقاصد کے لیے کہ ان کی طرح ان کے مقاصد بھی چھوٹے ہوتے ہیں لمبے چوڑے نہیں ہوا کرتے لیکن پاکستان نے اس منطق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کا وجود کسی چھوٹے سے عام سے ملک کا وجود نہیں تھا، یہ ایک بڑے ملک کی ابتدائی شکل و صورت تھی۔

جس نے دنیا کا ایک بڑا ملک بننا تھا کیونکہ اس کے بڑے مقاصد کے لیے ملک بھی بڑا چاہیے تھا جس کی ابتدائی صورت کا نام پاکستان ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ ابتدائی اور بنیادی باتیں اس لیے دہرانی پڑیں کہ کچھ دنوں سے تحریروں اور تقریروں میں پاکستان کے اثرات کو محدود رکھنے کی وکالت کی جا رہی ہے۔
بیرونی خطرے کسی بھی ملک کے لیے کوئی نئی بات نہیں پاکستان کے تعلیمی اداروں کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا جس سے بچنے کے لیے ان اداروں کو بند کر دیا گیا۔

 یہ خطرہ تو پورے پاکستان کے لیے ہے تو کیا اس سے بچنے کے لیے پاکستان کو بھی بند کر دیا جائے۔ ہم نے تعلیمی اداروں کو بند کر دیا اور طلبہ کو چھٹی دے دی تا کہ ان کی زندگیاں خطرے سے محفوظ رہیں لیکن تعجب ہے کہ بڑوں نے تو کچھ سوچ کر یہ بے حد اہم قدم اٹھایا لیکن بچے اس سے بہت زیادہ ناخوش ہیں۔
میرے گھر کے اور ان کے دوست بچوں نے میرا سر کھا لیا کہ میں اس فیصلے کے خلاف لکھوں۔

 ہم اپنے اسکولوں میں جانا چاہتے ہیں، ہم پڑھنا چاہتے ہیں اور یہ ہماری حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہمارا تحفظ کرے۔ کیا کسی بھی خطرے کی وجہ سے ہم اپنے بنیادی دوسرے ادارے بھی بند کرنے شروع کر دیں گے اور ان کی حفاظت نہیں کریں گے۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان کے شہریوں کو ہماری حکومت ہر حال میں حفاظت نہیں دے سکی لیکن اس حکومت کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ کسی بھی ہنگامی حالت سے عہدہ برآ ہو سکتی ہے اور ملک کی تعلیمی حالت کے تحفظ کے لیے امن سے بڑی ہنگامی حالت اور کیا ہو سکتی ہے۔

تعلیم نہ صرف چند اساتذہ کا مسئلہ ہے اور نہ ہی صرف طلبہ کا، یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے کیونکہ قوم کی تعمیر اور ترقی کا تعلیم کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے تعلیمی اداروں کا احترام کسی بھی دینی مرکز سے زیادہ نہیں تو اس کے برابر کا مسئلہ ہے۔ ہماری تو مسجدیں صدیوں سے تعلیمی مرکز بھی رہی ہیں اور مسجد کے مولوی صاحب استاد بھی ہوا کرتے تھے جن کے پاس متعلقہ مسجد کے علاقے کے بچے تعلیم کے لیے حاضر ہوتے ہیں بلکہ دیہات میں تو تعلیم کا آغاز ہی مسجد سے ہوتا ہے جہاں گاؤں کا بچہ کتاب کے حرفوں کو پہچانتا ہے۔

میں خود اپنے گاؤں کی مسجد میں حرف شناس ہوا اور مجھے یہ مولوی صاحب خوب یاد ہیں جو مسجد کے امام بھی تھے اور میرے استاد بھی۔ ان کا احترام ان کے انتقال کے بعد بھی زندہ ہے اور ہمارے گاؤں کا ہر فرد ان سے برکت حاصل کرنا اپنی سعادت سمجھتا تھا۔ اس کی وجہ اگر ان کی نماز کی امامت بھی تھی لیکن اس سے بھی بڑی وجہ یہ کہ وہ ہر گھر کے بچے کے استاد بھی تھے۔ ہم مسلمانوں میں تعلیم کا آغاز مساجد سے ہوتا تھا یعنی تعلیم زندگی کا ایک مقدس مسئلہ تھا جو مسجد سے شروع ہوتا تھا۔

افسوس کہ ہم نے تعلیم صرف روٹی روزگار تک محدود کر دی۔ بہرکیف حالات نے ہمیں تعلیم کی طرف مائل کر دیا ہے اور اب تعلیمی اداروں کی بندش نے حصول تعلیم کے احساس کو زندہ کر دیا۔ دشمنوں نے ہماری تعلیم پر حملہ کیا تو اس میں سے خیر کا پہلو نکل آیا۔ اب ہم تعلیم کی حفاظت میں مستقل سرگرم رہیں گے۔

عبدالقادر حسن

No comments:

Powered by Blogger.