Header Ads

Breaking News
recent

بھٹہ مزدور غلام کیوں بن جاتے ہیں؟

ملک بھر میں  بھٹہ خشتوں پر آج کے جدید دور میں بھی ہزاروں افراد جبری
مشقت کا شکار ہیں۔لیبر ڈیپارٹمنٹ سے لیے گے اعدادوشمار کے مطابق ضلع جھنگ بھر میں کْل ایک سو بانوے بھٹہ خشت ہیں جن پر لگ بھگ پونے آٹھ ہزار مزدور کام کرتے ہیں۔اب یہ امر تو کسی سے ڈھکا چھْپا نہیں کہ بھٹہ مالکان پیشگی کی صورت میں دس سے پچاس ہزار روپے کی یکمشت ادائیگی کے بعد مزدوروں کے پورے پورے خاندان کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں اور ان سے من مرضی کی اجرت پر دن رات کام کروایا جاتا ہے۔

لیکن یہ سوال آج بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں پایا جاتا ہے کہ آخر بھٹہ مزدور پیشگی کیوں لیتے ہیں اور حکومتی دباؤ کے باوجود مالکان پیشگی دے کر ہی مزدوری کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ لیبر قومی موومنٹ کے صدرعبدالطیف کے مطابق جھنگ کے بھٹوں میں اب بھی مزدوروں کو حکومت کی ایک ہزار اینٹ کے بدلے مقرر کردہ اْجرت نہیں دی جا رہی۔
ان کے مطابق شہر کے قریبی بھٹوں پر مالکان سات سو چالیس جبکہ دیہی بھٹوں پر چھ سو اَسی روپے مزدوری دے رہے ہیں۔ لطیف کے بقول چونکہ مزدوروں کی اْجرت اتنی کم ہے کہ وہ اپنے روز مرہ کے اخراجات بھی پورے نہیں پاتے اس لیے کسی بھی غمی یا خوشی کے موقع پر انھیں مالک سے پیشگی لینی پڑتی ہے جو ساری زندگی کے لیے اْن کے گلے کا طوق بن جاتی ہے۔ یہ طوق نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ بھٹہ مالکان کے لئے مزدوروں کی خرید و فروخت ایک منافع بخش کاروبار ہے کیونکہ غلاموں کی حیثیت رکھنے والے ان مزدوروں سے مرضی کی اْجرت پہ مرضی کا کام لیا جاتا ہے۔

اْن کا مزید کہنا تھا کہ بھٹہ مالکان کے لیے مزدوروں کی خرید و فروخت ایک منافع بخش کاروبار ہے کیونکہ غلاموں کی حیثیت رکھنے والے ان مزدوروں سے مرضی کی اجرت پہ مرضی کا کام لیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ انسانی حقوق کے آسٹریلوی ادارے واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق دنیا بھر میں تین کروڑ افراد جدید قسم کی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی کل تعداد کے حساب سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔حویلی بہادر شاہ کے اللہ دتہ اپنے دو بیٹوں قیصر اور سجاول کے ہمراہ گزشتہ نو سال سے بھٹے پر مزدوری کر رہے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ وہ اور ان کے بیٹے صبح 7 سے شام 6 بجے تک مسلسل کام کرتے ہیں ،لیکن نو سال کی مسلسل محنت کے باوجود وہ اس قابل نہیں ہو سکے کہ کچھ پیسے بچا سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ بچوں کے شادی بیاہ یا کسی فوتگی کے موقع پر انھیں مالک کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑتے ہیں۔ ٹوبہ روڈ پر واقع بھٹہ خشت پر کام کرنے والے اختر کا کہنا ہے کہ اجرت اس قدر کم ہوتی ہے کہ گھر کے اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اچانک مسائل پیش آتے ہیں تو ان کا پیشگی کی صورت میں قرض لینا مجبوری بن جاتا ہے۔ دھوری والہ میں واقع بھٹہ کے مالک لنگر خان کا ماننا ہے کہ پیشگی دینا اور لینا بھٹہ مالک اور مزدور دونوں کے لیے اہم ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہمارا کام بھی پیشگی کے ذریعے بہتر چلتا ہے کیونکہ تمام مزدور محنت سے کام کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف مزدور اس مہنگائی کے دور میں پیشگی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ محکمہ لیبر جھنگ کے لیبر آفیسر عالمگیر کا کہنا ہے کہ انھیں جبری مشقت سے متعلق کبھی کوئی شکایت ہی موصول نہیں ہوئی۔ اگر ایسی کوئی شکایت موصول ہوگی تو بھٹہ مالک کے خلاف قوانین کے مطابق قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 (بحوالہ: سجاگ،جھنگ)

رب نواز بھٹی

No comments:

Powered by Blogger.