Header Ads

Breaking News
recent

حاجی پیوٹن

لیجئے صاحب ، روس کے صدر ولادی میر حاجی ہوگئے یعنی حاجی پیوٹن۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بڑی مزیدار تفصیلات ہیں جن کے مطابق ایران اور عراق میں پیوٹن مافیا پھیل رہا ہے اور وہ اتنے مقبول ہوگئے ہیں کہ لوگ انہیں عراق اور ایران کی شہریت دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مقبولیت شام مین روسی کارروائی کے بعد ہوئی ہے اور اب بشار حکومت کے بعد عراقی حکومت نے بھی روس سے مداخلت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ روس ایک لاکھ سے زیادہ فوجی شام بھیجنے والا ہے۔

 روس نے دوروز قبل شام میں چالیس کے قریب بمباریاں کیں اور شام و عراق کے حکمران بڑی خوشی سے کہتے ہیں کہ ان بمباریوں میں جو بھی مرے ، وہ ہمارا دشمن ہے۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق روس کی ایک ہفتے سے جاری بمباری مین داعش کے صرف پندرہ افراد مرے جبکہ باقی سیکڑوں سب کے سب عام شہری تھے۔ خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تھے تو سب کے سب دشمن۔
اور مزیدار تحقیق یہ ہوئی ہے کہ پیوٹن دراصل جنوبی عراق کے شہر الناصریہ سے تعلق رکھتا ہے۔

الناصرہ بصر سے کچھ پہلے شمال مغرب میں ہے۔ اسکے بات کا نام ابوالتین تھا۔ اس نے روس جا کر مقامی عورت سے شادی کرلی۔ بیٹا ہوا تو اسکا نام عبدالامیر رکھا جو بگڑ کر ولادی میر ہوگیا۔ یعنی عبدل ولادی ہوگیا، امیر ، میر اور باپ یعنی ابوالتین کا نام روسی لہجے میں پیوتن ہوگیا یوں بیٹے کا نام عبدالامیر ابوالتین سے ولادمیر پیوتن ہوگیا۔ رپورٹ میں تصویریں ہیں جن مین لوگ بڑی عقیدت سے عبدالامیر ابوالتین کے فوٹو چوم رہے ہیں اور عقیدت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

جنوبی عراق میں اب کوئی بھی روسی صدر کو محض نام سے نہیں بلاتا، انہیں حاجی ابوالتین کہا جاتا ہے۔ حاجی ابوالتین نے حج کب کیا، یہ بات ابھی صیغہ راز میں ہے لیکن راز چھپا نہیں رہے گا۔ جلد ہی فیس بک پر ایسی تصویریں آجائیں گی جن میں حاجی ابوالتین کو احرام باندھے ہوئے طواف یا سعی کرتے دکھایا ہوگا البتہ ی ہواضح نہیں ہو سکے گا کہ یہ تصویریں منیٰ میں حالیہ بھگدڑ کے المیے سے پہلے کی ہیں یا بعد کی۔ اس المیے میں پاسداران انقلاب کے درجنوں عہدیدار اور چھ سفارت کار کام آئے۔ وہ اپنے مقصد میں صرف جزوی طور پر ہی کامیاب ہوئے یعنی مھض ایک ہزار کے لگ بھگ جانی نقصان ہوا لیکن انہیں اجر پورا ملے گا یعنی آٹھ دس ہزار قربانیوں کا جو ہوتے ہوتے رہ گئیں۔

اسلام آباد سے خبر ہے کہ منرل واٹر کے 23 برانڈ ایسے ہیں جن میں جراثیم ہیں اور کیمیائی آلودگی بھی اور یہ انسانی صحت کے لئے بہت خطرناک ہیں۔ یہ رپورٹ حکومتی ادارے پی سی آر ڈبلیو آر نے تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منرل واٹر کینسر، یرقان، دل کے امراض، گردے خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں، برانڈز کے نمونے پاکستان بھر کے شہروں سے لئے گئے ہیں۔

معلوم کرنا چاہئے کہ منرل واٹر بنانے والی ان 23 کمپنیوں کا تعلق دوا ساز اداروں سے تو نہیں۔ بیماریاں پھیلیں گی تو دوائیں بھی بکیں گی اور پرائیویٹ ہسپتالوں کا کاروبار بھی چمکے گا۔ پرائویٹ ہسپتال آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوتے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں کی رقم لے کر مریض کو باعزت موت دیتے ہیں۔ غریب کو باعزت موت نہیں ملتی، انہیں رسوا کن موت لینے سرکاری ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

دوا سازوں اور ڈاکٹروں کا بیماری سے وہی رشتہ ہے جو مچھلی کا پانی سے۔ مرض ختم ہوجائے تو ڈاکٹر یا دوائی کی کیا ضرورت رہے گی۔ سناہے، برطانیہ میں خوشحالی آئی تو لوگ صحت مند ہوگئے اور ڈاکٹروں کا کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے کانفرنس بلائی کہ اس گھمبیر سمسیا کا کیا اپائے ڈھونڈا جائے۔ آخر اپائے مل گیا۔ ڈاکٹروں نے اخبارات میں مضمون لکھنے شروع کئے کہ ایک سیب روزانہ کھانے سے ڈاکٹر کی ضرورت نہیں رہتی۔ 

چنانچہ لوگوں نے دھڑا دھڑ اس نسخے پر عمل کیا جسے دیکھو سیب کھا رہا ہے ۔ بس پھر کیا تھا۔ کسی کو پیچش اور اسہال تو کسی کو قبض ، کسی کے گھٹنے جواب دے گئے تو کسی کی کمر، کسی کو قولنج ہوگیا تو کوئی سر پکڑے بیٹھا ہے۔ ڈاکٹروں کی دکانوں پر رونق لگ گئی، وارے نیارے ہوگئے۔ بہر حال برطانیہ کے ڈاکٹروں نے صرف بیماری بانٹی تھی، موت نہیں، منرل واٹر والے موت بانٹ رہے ہیں اور انہی حکومتی حلقوں کی بھی تائید ہے کہ آبادی جو اتنی بڑ گئی ہے۔
خیر رپورٹ جاری کرنے والے ادارے کو چاہئے کہ نمونے اکٹھے کرنے والے عملے کا نام راز میں رکھے۔

 منرل واٹر والوں کو تو کوئی پوچھے گا نہیں کہ انکے حامی و ناصر بڑی آن بڑی بان بڑی شان والے پردہ نشین ہیں، ان بےچارے ملازموں کو یا تو ٹارگٹ کلر ختم کر دیں گے یا پھر یہ لاپتا ہوجائیں گے۔

ایسی ہی ایک رپورٹ لاہور سے ہے کہ پیکنگ والے دودھ کے ساڑھے پانچ ہزار نمونے لئے گئے اور سب کا سب مضر صحت۔ کیوں نہ ہوں، اکثر بالصفا پاؤڈر ڈالتے ہیں جو معدے کو آہستہ آہستہ کاٹتا ہے۔ وحدت روڈ پر ایک ایسے مقام ہیں جہاں کھلے عام بالصفا پاؤڈر کی مدد سے دودھ بنایا جاتاہے اور خریداروں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ پتا نہیں وہ محترمہ جو آج کل مضر صحت خوراک پر چھاپے مار رہی ہیں انکے نوٹس میں وحدت روڈ بھی ہے یا نہیں۔ ایسا ہی حال شہد کا ہے۔

اب تو اسلامی شہد بھی خوب بکت اہے جس کے ایک واقف درون خانہ نے بتایا کہ
خالص گڑ کا ٹرک بھر کے رات کو آتا ہے جو اگلے روس اسلامی شہد بن جاتا ہے۔
اس سے ڈر کر جرمنی کا عیسائی شہد خریدنا شروع کیا لیکن اسکے بارے میں بھی پتا چلا کہ یہ جرمنی سے نہیں آتا یہ یہیں بنتا ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اندرونی سیاست بہت خطرناک ہے۔

اندرونی سیاست کی خطرناکی کا پتہ نہیں لیکن اسکی بیرونی سیاست کے کطرناک ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اوکاڑہ مٰں عمران خان کا خطاب سنا۔ فرمایا مسلم لیگ کے لوگ بھونکتے ہیں۔ کیا خوب فرمایا۔ تحریک انصاف کے کیا چھوٹے کیا بڑے، ایک سے بڑھ کر ایک ایسا ہی خوب فرماتے ہیںن، بولتے ہیں تو منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔

مخالف کو گالی دینے کا رواج ایوب خان نے ڈالا، بھٹو نے اسے ترقی دی پھر نواز بےنظیر جنگ میں یہ رواج ساری حدیں ٹاپ گیا۔ گزشتہ الیکشن مٰن شہباز شریف نے زرداری کے بارے میں ایسی زبان استعمال کی کہ مسلم لیگ کے حامی بھی پریشان ہوگئے۔

یہ الگ بات ہے کہ زرداری نے خاموشی اور شائستگی کا حیران کن مظاہرہ کر کے مثال قائم کردی۔ اچھی بات ہے کہ شہباز شریف نے معذرت کر لی اور اصلاح بھی۔ زرداری نے سیاست کو تہزیب کا راستہ دکھایا۔ سبھی اب اس پر چل رہے ہیں لیکن اکیلے عمران خان ہیں کہ سب کے حصے کی شائستہ بیانی کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ انکی جماعت کے رہنما اکبر بابر نے کہا کہ یہودی اور ہندو لابی نے انہیں کروڑوں پاؤنڈ دیئے ہیں۔ کیا پاؤنڈز گالی دینے کی شرط پر دیئے گئے تھے؟
 
عبداللہ طارق سہیل
بہ شکریہ روزنامہ ’’جہان پاکستان‘‘

No comments:

Powered by Blogger.