Header Ads

Breaking News
recent

قندوز کیوں اہم ہے؟

افغانستان کے شمال مشرقی شہر قندوز پر طالبان جنگجوؤں کا قبضہ سنہ
2001 میں طالبان کا تختہ الٹنے کے بعد سے اب تک کی افغان حکومت کی بدترین ناکامی ہے۔

قندوز افغانستان کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور یہ عرصہ دراز سے ملک کے شمالی علاقوں کے لیے ذرائع آمدورفت کا ایک اہم مرکز ہے۔
قندوز سڑکوں کے ذریعے جنوب میں کابل، مغرب میں مزار شریف اور شمال میں تاجکستان سے جڑا ہوا ہے۔

یہ شہر ہمیشہ سے طالبان کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ سنہ 2001 سے پہلے یہ شمالی افغانستان میں طالبان کا اہم گڑھ تھا۔
  
قندوز شمالی صوبوں تک رسائی کے لیے باب کی حیثیت رکھتا ہے اور افغانستان کے ہمسائے اور وسطی ایشیا کے ملک تاجکستان کے ساتھ اس کی سرحد بھی ملتی ہے۔
تاجکستان کے ساتھ اس کی سرحد غیرمحفوظ ہے اور اسی راستے سے منشیات وسطی ایشیا کی ریاستوں میں سمگل کی جاتی ہیں جہاں سے انھیں آگے یورپ بھیجا جاتا ہے۔

جو کوئی بھی قندوز پر قابض ہوگا وہ نہ صرف آس پاس کے علاقوں کو کنٹرول کر سکے گا بلکہ خطے کے سملنگ کے ایک اہم راستے پر بھی اس کا کنٹرول ہوگا۔
سنہ 2013 میں افغان فورسز کی جانب سے علاقے کی سکیورٹی سنبھالنے سے قبل اس علاقے میں جرمن افواج تعینات تھیں۔
 
سنہ 2013 میں افغان فورزسز کی جانب سے علاقے کی سکیورٹی سنبھالنے سے قبل اس علاقے میں جرمن افواج تعینات تھیں
قندوز کو بہت سے مشکلات کا سامنا ہے ان میں مقامی انتظامیہ کی نااہلی کے علاوہ بعض سرکاری اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال سے بھی صوبے کے عوام متنفر ہوئے ہیں۔
شہر پر قبضے کے لیے ایک عرصے سے طالبان کی جانب سے کوششں کی جا رہی ہے۔

طالبان نے گذشتہ دو برس میں صوبے میں اپنی جنگی مہم میں تیزی لائی ہے۔
قندوز شہر کی آبادی تقریباً تین لاکھ کے قریب ہے جس میں یقیناً کمی ہوئی ہے کیونکہ رواں برس ہونے والی لڑائی کے بعد بہت سے لوگ یہاں سے منتقل ہو گے تھے۔

علاقے میں جاری لڑائی کی وجہ سے کئی ہزار افراد بے گھر ہوئے تھے جن میں سے اکثر دیہی علاقوں میں قائم پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

اگرچہ سال کے اوائل میں ہونے والی لڑائی میں حکومتی افواج نے طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا لیکن وہ بڑی تعداد میں علاقے میں موجود تھے اور مبصرین کا خیال تھا کہ طالبان کی جانب سے شہر پر قبضے کے لیے کسی بھی وقت دوبارہ کوشش کی جا سکتی ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.