Header Ads

Breaking News
recent

پناہ نہ ملنے پر پناہ گزینوں پر کیا گزرتی ہے؟

ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزیں شمالی فرانس کے شہر کیلے میں عارضی طور پر قیام پذیر ہیں۔ ان میں سے بیشتر اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے چینل ٹنل کے راستے برطانیہ داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔
جو اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو کر برطانیہ پہنچ جاتے ہیں، ان پر بعد میں کیا گزرتی ہے؟

جون سے اب تک چینل ٹنل کے راستے برطانیہ داخل ہونے کی کشش میں نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنگلے پھلانگنے اور لاریوں پر جھپٹنے کے مناظر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ برطانیہ میں داخلے کے لیے کس قدر بے باک ہیں۔
گذشتہ ہفتے ایک شخص کو اس سرنگ سے اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ نصف سے زیادہ مسافت پیدل طے کر چکا تھا۔
اب تک کتنے افراد برطانیہ داخل ہو چکے ہیں، اس بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم جو ایسا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

پناہ

غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے کچھ افراد خود کو پوشیدہ رکھیں گے اور غیرقانونی ملازمتیں کریں گے۔ تاہم کیلے میں منتظر بہت سارے افراد یہ توقع رکھتے ہیں کہ انھیں پکڑ لیا جائے اور انھیں پناہ گزین کا درجہ حاصل ہو جائے۔
واضح رہے کہ جب کوئی شخص برطانیہ کی حدود میں داخل جائے، خواہ غیر قانونی طریقے سے ہی، اسے پناہ کے لیے درخواست دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
مارچ تک گذشتہ 12 مہینوں کے دوران برطانیہ کو پناہ حاصل کرنے کی 25 ہزار 20 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
پناہ حاصل کرنے والوں کو پولیس امیگریشن حکام کے حوالے کر دیتی ہیں تاکہ وہ پناہ کی درخواست دائر کر سکیں۔ جب تک ان کی پناہ کی درخواست کا فیصلہ نہیں ہوتا وہ برطانیہ میں ہی مقیم رہتے ہیں۔

دستورِ ڈبلن

ڈبلن ریگولیشن یا دستور ڈبلن کے مطابق پناہ حاصل کرنے والے کچھ افراد کو یورپی یونین کے کسی دوسرے ملک بھیجا جا سکتا ہے، جن میں فرانس بھی شامل ہے۔
یہ ایک طریقہ کار وضع کرتی ہے کہ کون سا ملک پناہ گزینوں کی درخواست پر غور کرے۔
عام طور پر یورپی یونین کے جس ملک میں سب سے پہلے پناہ گزین آتے ہیں، وہی ملک پناہ گزینوں کی درخواست پر عمل درآمد کا کام سرانجام دیتا ہے۔ اس کا مطلب مختلف ممالک میں پناہ کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے رفیوجی سٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بیٹس کہتے ہیں کہ یوروڈیک نظام کی مدد یہ انٹری پوائنٹ کی نشاندہی میں مدد لی جا سکتی ہے۔ یہ یورپی یونین کے ممالک میں پناہ حاصل کرنے کی خواہش مند افراد کے انگلیوں کے نشانات کا ڈیٹا بیس ہے۔

ڈبلن دستور کے تحت سنہ 2014 میں برطانیہ سے 252 افراد اور سنہ 2013 میں 827 افراد کو واپس بھیجا گیا تھا۔
یہ ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ فرانس پہنچنے والے بیشتر پناہ گزینوں کو کم از کم ایک اور محفوظ ملک سے گزرنا پڑتا ہے، شاید اٹلی یا سپین۔
الیگزینڈر بیٹس کہتے ہیں: ’ڈبلن سسٹم میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ یونان اور اٹلی جیسے ممالک پر غیرمتناسب ذمہ داریاں ڈال کر ایک بنیادی عدم مساوات پیدا کرتا ہے۔

بیشتر غیر قانونی تارکین وطن کشتیوں کے ذریعے اٹلی اور یونان پہنچتے ہیں

سست عمل

برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مندوں کو حراست میں لینے کا نظام معطل کر دیا گیا ہے۔ ڈرہم یونیورسٹی کے حکومت اور قانون کے پروفیسر ٹام بروکس کہتے ہیں کہ صرف 22 دنوں کا وقت ان افراد کے لیے بامعنی کیس تیار کرنے کے لیے ناکافی تھا۔

رفیوجی ایکشن کے قانونی اہلکار جیمر کونیئر وضاحت کرتے ہیں اس نظام کا کام تیزی سے امور کی سرانجام دہی تھا، خاص طور پر وہ ممالک جنھیں ہوم آفس کی جانب سے واضح طور پر پناہ کا حق سمجھا جاتا ہے۔ اس فہرست میں بھارت، برازیل اور بولیویا جیسے ممالک شامل ہیں۔

تاہم جولائی میں کورٹ آف اپیل نے معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھا جس میں اس نظام کو ’غیرقانونی‘ اور غیرمنصفانہ قرار دیا گیا ہے۔
پرانے مقدمات
برطانیہ میں مارچ تک گذشتہ 12 مہینوں میں 25 ہزار سے زائد پناہ حاصل کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر درخواستیں سنہ 2014 میں مسترد کر دی گئیں۔
تاہم اسی سال پناہ کے منتظر 6788 افراد کو واپس بھیج دیا گیا یا وہ خود برطانیہ سے چلے گئے۔

گذشہ برس واپس جانے والے افراد کی پناہ کی درخواست کچھ عرصہ پہلے ہی مسترد کی جاسکتی تھیں۔ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ پناہ کی درخواست مسترد ہونے اور برطانیہ چھوڑنے میں اوسطاً کتنا وقت لگتا ہے۔
ان لوگوں کی تعداد کا حساب لگانا مشکل ہے کہ کتنے افراد برطانیہ سے واپس جانے کے منتظر ہیں۔

برطانیہ میں مارچ تک گذشتہ 12 مہینوں میں 25 ہزار سے زائد پناہ حاصل کی درخواستیں موصول ہوئیں
اپیل
اپیلوں کے باعث واپس بھیجنے میں تاخیر کا اوسط دورانیہ جانچنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

امیگریشن لا پریکٹیشنرز ایسوسی ایشن کے سربراہ اینڈریان بیری کہتے ہیں: ’میں تصور نہیں کر سکتا کہ کسی نے درخواست دائر کی ہو اور پھر اپیل نہ کی ہو۔‘
پناہ کے منتظر بیشتر افراد کی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اپیل کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ان میں سے بیشتر افراد اس دوران برطانیہ میں ہی قیام کرتے ہیں، حکومت نے ’پہلے ڈی پورٹ کرو، بعد میں اپیل‘ کی پالیسی پر بھی غور کر رہی ہے۔

ارادہ تو یہ کہ تمام اپیلوں کو دو ماہ کے اندر نمٹا دیا جائے لیکن پرانے کیسوں کی ایک بڑی تعداد کا بوجھ بھی ہے۔ مارچ کے اختتام تک، اپریل 2006 سے برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کی 21651 درخواستیں ابتدائی فیصلوں، اپیل یا نظرثانی کی منتظر تھیں۔
قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے واپس بھیجنے میں تاخیر ہوتی ہے تاہم بیری اینڈریان کا کہنا ہے کہ یہ ایک افسانوی خیال ہے کہ آپ پناہ کے لیے لامحدود تعداد میں اپیلیں کر سکتے ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس سال برطانیہ میں2241 اپیلوں پر غور کیا گیا جن میں 66 فیصد مسترد کر دی گئیں۔
جنگلے پھلانگنے اور لاریوں پر جھپٹنے کے مناظر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ برطانیہ میں داخلے کے لیے کس قدر بے باک ہیں
دستاویز کی عدم موجودگی
ڈیٹینشن ایکشن کے ڈائریکٹر جیروم فیلپس کہتے ہیں کہ پناہ حاصل کرنے میں ناکام ہونے والوں کو واپس بھیجنے میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ بیوروکریٹک نوعیت کی ہے۔ پناہ کے منتظر بہت سارے افراد اپنے ملک سے بغیر سفری دستاویز کے اپنا ملک چھوڑتے ہیں۔ بہت سارے برطانیہ میں داخل ہونے سے قبل اپنا پاسپورٹ ضائع کر دیتے ہیں جس سے ان کے ملک کی شناخت کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔

جیروم فیلپس کے خیال میں کچھ افراد ’واپس نہ بھیجے جانے‘ کی صورت حال میں رہتے ہیں۔
ٹام بروکس کہتے ہیں کہ ’برطانیہ لوگوں کو اپنے ملک سے بے دخل کر سکتا ہے اور وہ قانونی طور پر یہ حق رکھتا ہے لیکن اس کے لیے انھیں ایک دوسرا ملک بھی درکار ہے جہاں وہ انھیں بھیج سکیں۔‘
برطانیہ اور یورپی یونین کے دوبارہ داخلے کے حوالے سے چند مخصوص ممالک کے ساتھ معاہدے ہیں، جن میں الجزائر، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں۔ یہ معاہدے ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کو کب اور کتنی آسانی سے واپس بھیجا جائے۔
بہت سارے افراد برطانیہ میں داخل ہونے سے قبل اپنا پاسپورٹ ضائع کر دیتے ہیں جس سے ان کے ملک کی شناخت کرنے میں مشکل پیش آتی ہے

پروازیں

ہوم آفس نے کمرشل پروازوں اور چارٹِڈ طیاروں سے لوگوں کو اتارا ہے۔ سنہ 2011 سے 2014 کے درمیان پناہ کے منتظر افراد کی تقریباً 800 چارٹِڈ پروازیں تھیں۔ لیکن کچھ لوگوں کو طویل مدت کے لیے تاخیر کا سامنا ہے کیونکہ جس ملک کا سفر وہ کرنا چاہ رہے ہیں وہ بہت زیادہ خطرناک ہے۔
ہوم آفس کا کہنا ہے کہ وہ ان ممالک کی فہرست جاری نہیں کرتا۔

ایک چارٹڈ پرواز، جس میں بیسیوں افراد سوار تھے اور اسے 21 اپریل کو افغانستان کے لیے روانہ ہونا تھا، اس پرواز کو کورٹ آف اپیل نے روک لیا کیونکہ وہاں کے حالات خاصے کشیدہ ہیں۔

ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس حکومت نے 15 لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم ڈی پورٹ کرنے والی پروازوں پر خرچ کیے، جو ان افراد کے لیے بک کی گئی تھیں جنھوں نے ابھی اپیل کرنا تھی اور بعد میں یہ پروازیں معطل کر دی گئیں۔
نیشنل آڈٹ آفس سنہ 2015 سے ناکام پناہ گزینوں کے اخراجات پر نظر رکھ رہا ہے، ان کے مطابق کسی کے خود ملک چھوڑنے کا خرچ ایک ہزار پاؤنڈ ہے جبکہ اسے زبردستی واپس بھیجنے پر 1100 پاؤنڈ خرچ ہوتے ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.