Header Ads

Breaking News
recent

غزہ کے سہمے ہوئے بچے

ملبے سے اٹی بنجر زمین اب بھی گذشتہ سال ہونے والے غزہ پر اسرائیلی حملے کی گواہی دیتی ہے۔
لیکن کہیں اور اس بھی گہرے زخم ہیں جن کی تباہی کسی کو نہیں نظر آتی اور جو کبھی نہیں بھریں گے۔
لڑائی شروع ہونے کے ایک ماہ بعد سعید کی زندگی اس وقت پاش پاش ہو گئی جب 12 سالہ سعید، ان کے 11 سالہ بھائی محمد اور چھ دوسرے کزن ساحل پر فٹبال کھیلنے کے لیے گئے۔
یہ مچھیروں کے اس خاندان کا کھیل کا قدرتی میدان تھا جو کئی نسلوں سے یہاں رہ رہا تھا۔
سعید 16 جولائی کہ دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ ساحل پر بھی خطرہ تھا۔
دن کے اختتام تک محمد اور ان کے تین کزن مر چکے تھے۔ اسرائیلی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا کہ ایئر فورس نے ساحل پر کھیلتے ہوئے بچوں حماس کے جنگجو سمجھا اور پائلٹ نے بیچ کے ساتھ کمپاؤنڈ پر دو مرتبہ بم پھینکے۔
سعید اور تین دوسرے بچوں کو بھی ٹانگوں پر زخم آئے اور ابھی تک وہ ٹراما کی حالت میں ہیں۔

سعید کی ماں کہتی ہیں کہ ’جس بیٹے کو میں نے کھو دیا اس کے لیے میرے آنسو کبھی خشک نہیں ہوں گے۔
لیکن ان کو گذشتہ گرمیوں میں بچ جانے والے بچوں کی زیادہ فکر ہے۔ ’جو پیچھے رہ گئے وہ بھی مر جانے والوں کی طرح ہی گم ہو گئے ہیں۔
سعید کو سونے میں بہت دقت ہوتی ہے اور سکول جانا بھی بہت مشکل لگتا ہے کیونکہ اسے اپنا بھائی یاد آتا ہے۔ اب تو ان کے لیے سمندر بھی محفوظ نہیں ہے جو کہ ہمیشہ سے ان کی زندگی کا ایک حصہ رہا کرتا رہا ہے۔ ’میں کبھی نہیں ڈرتا تھا لیکن اب میں ڈرتا ہوں۔
ان کے کزنوں کو اس سے بھی سیاہ جذبات کا سامنا ہے۔ ایک نے اپنے باپ سے جھگڑے کے بعد گھڑکی سے کود کر جان دینے کی کوشش کی، دوسرے نے تو ایک لڑکی کو تقریباً بس کے سامنے دھکیل دیا تھا۔ ان سب کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور ہر ان کے لیے ہر دن گزارنا ایک جنگ ہوتی ہے۔

 دن کی لڑائی کے بعد 551 غزہ کے بچے ہلاک ہو چکے تھے۔ ان سے بہت زیادہ اپنے قریبی رشتہ دار کھو چکے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق تقریباً 400,000 بچوں کو مشاورت کی ضرورت ہے۔
غزہ کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں سعید کے کچھ سیشن ہوئے بھی ہیں۔ ان سے فائدہ ہوتا ہے لیکن وہ کافی نہیں ہیں۔ علاج سے بہت زیادہ فائدہ اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ بچوں کو پتہ ہے کہ لڑائی ختم نہیں ہوئی ہے۔ وہ پہلے ہی چھ سال میں تین جنگیں جھیل چکے ہیں۔

امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے تباہ ہونے والے 20,000 گھروں میں سے ایک بھی دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا ہے اور 100,000 سے زیادہ لوگ اب بھی بے گھر ہیں۔
اسرائیل کی طرف بھی سرحد کے ساتھ رہنے والے بچے گذشتہ گرمیوں کی لڑائی کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں جہاں نہال اوز کے علاقے میں ایک بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔
 
مشال کہتی ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ’ہم ہمیشہ بھاگ نہیں سکتے، کیونکہ یہ ہمارا گھر ہے اور ہمیں یہاں رہنا ہے۔‘ ان کا گھر غزہ سے ایک میل دور نہال اوز کے علاقے میں ہے۔
یہاں سے کچھ میل دور جنوبی اسرائیلی شہر سدروت ہے جسے کبھی کبھی دنیا کا بم شیلٹر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گذشتہ 14 برسوں سے غزہ سے آنے والے راکٹوں کا نشانہ بنتا ہے۔
ایلون اس سال پیدا ہوئے تھے جب ان کے شہر پر میزائل آنا شروع ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میری پرورش عام بچوں کی طرح نہیں ہوئی۔‘ حالیہ برسوں میں وہ دو راکٹ حملوں میں بچ چکے ہیں۔
وہ اب بھی ایک بم پروف کمرے میں سوتے ہیں جو کہ ہر اسرائیلی گھر میں موجود ہے۔
جب پہلی مرتبہ وہ اور ان کی 10 سالہ بہن آغام سیدروت کے سب سے اونچے مقام پر چڑھے تو انھوں نے غزہ میں اپنے ہمسائیوں کو دور بین سے دیکھا۔

ایلون کہتے ہیں کہ ’ذرا اس طرف ہونے والی تباہی کو دیکھو۔ مجھے اس کا دکھ ہوتا ہے کیونکہ بہت سے معصوم لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

  ثمر کا فلیٹ ان جگہوں میں سے ایک ہے جو سرحد کے ساتھ تباہ شدہ علاقے میں ہے۔ ’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی اتنی بری حالت ہو گی۔‘ وہ جنگ کے بعد پہلی مرتبہ وہاں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ واپس آئی ہیں۔

جب انھوں نے کہا کہ ’ہمارے خواب تھے کہ ہم اپنے والد کے ساتھ بڑے ہوتے‘ تو وہ رونے لگ گئی۔ 

ثمر اور ان کے خاندان والوں نے اقوامِ متحدہ کے سکول میں پناہ لی تھی لیکن جب اسرائیل نے اس عمارت پر حملہ کیا تو ان کے والد ہلاک ہو گئے اور ماں بری طرح زخمی۔
  
عبدالرحمٰن جو کہ حماس کے جنگجو کے بچے ہیں لڑائی میں اپنے  رشتہ دار کھو چکے ہیں۔ ان کے علاقے میں 15 گھر تباہ کر دیے گئے تھے۔ اس نے کہا کہ ’اگر وہ ہمارا محاصرہ کریں گے تو ہم مزید راکٹ برسائیں گے۔

غزہ اور جنوبی اسرائیل میں جتنے بھی بچوں سے میری ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ ایک اور جنگ آنے والی ہے۔ اور ہر بچہ اب بھی امید کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو۔
عبدالرحمٰن معصومیت سے پوچھتا ہے کہ ’کیا یہ صحیح ہے کہ دنیا میں ہر بچہ آرام اور محفوظ طریقے سے زندہ رہتا اور کھیلتا ہے جبکہ ہم موت اور تباہی کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔

لیس ڈوسٹ

نامہ نگار بین الاقوامی امور، بی بی سی

No comments:

Powered by Blogger.