Header Ads

Breaking News
recent

تم آج کچھ بھی نہ پوچھو، کہ دل اُداس بہت ہے

جمعرات کی صبح ممبئی بم دھماکوں کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے کے جرم میں یعقوب میمن کو پھانسی دیدی گئی لیکن بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں یہ معمول کی صبح تھی۔

ہڑتال یا مظاہرے تو نہیں کیے گئے لیکن رائے عامہ پر گویا گھٹن کے بادل منڈلا رہے تھے۔اسی لیے لوگوں نے فیس بک اور ٹوئٹر پر دعمل ظاہر کیا۔ یہ ردعمل کہیں کہیں برملا مگر اکثر محتاط تھا۔

واضح رہے 9 فروری 2013 کو جب بھارتی پارلیمان پر حملے کی سازش کے لیے کشمیری قیدی افضل گورو کو خفیہ پھانسی کے بعد تہاڑ جیل میں دفنایا گیا، تو کشمیر میں کئی ہفتوں تک پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔
اس باراکثر علیحدگی پسندوں نے یعقوب میمن کے معاملے پر خاموشی کو ہی ترجیح دی۔ تاہم 86 سالہ رہنما سید علی گیلانی نے محتاط ردعمل میں بھارت کے ان سماجی حلقوں کا حوالہ دیا جو سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں قانونی کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
انھوں نے ایک بیان میں بتایا کہ ’یعقوب کو محض اس لیے تختہ دار پر لٹکایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔
سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ حساس معاملات پر بھی ٹویٹ کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ ٹوٹر پر دس لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والے مسٹر عبداللہ نے اس بار کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ چند سال قبل جب تمل ناڈو کی اسمبلی نے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے مبینہ قاتلوں کو سنائی پھانسی کی سزا پر روک لگوانے کے لیے قرار داد منظور کی، تو عمرعبداللہ نے پوچھا تھا کہ اگر ایسا کشمیری افضل گورو کے معاملے میں کرتے تو ملک میں ہنگامہ برپا ہوجاتا۔ جس پر انھیں بی جے پی کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

سیاسی گروپوں نے تو یعقوب میمن کی پھانسی کو ایک غیر اہم معاملہ سمجھ کر خاموشی اختیار کرلی لیکن سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کشمیری نوجوانوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

اکثر نے اس واقعہ کو ایک ’عدالتی قتل‘ قرار دیا۔ چین سے تعلیم یافتہ رضاکار پیر جی این سہیل لکھتے ہیں: ’اس عدالتی قتل سے جناح صحیح ثابت ہوگیا۔ بھارت مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔
اکثر ٹویٹس اور فیس بک پوسٹوں پر اس پھانسی سے قبل ہوئی عدالتی کارروائی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ میڈیا کے کردار کو بھی ہدفِ تنقید بنایا گیا۔
معروف صحافی مزمل جلیل نے حیرت کا اظہار کیا کہ ٹی وی چینلز پر اچھی سماعت کے لیے ججوں کی تعریف کی اور کہا گیا کہ یہ ہندوستان کے لئے عظیم دن ہے۔ کیا ان کی تعریف یعقوب کو لٹکانے کے لیے کی گئی۔

اکثر لوگوں نے فیس بک پر براہ راست ردعمل سے گریز کرتے ہوئے یاس کے رنجیدہ لہجے کے اشعار کو پوسٹ کیا۔
پھانسی کے چند منٹ بعد ہی صحافی نصیر اے گنائی کے وال پر فیض احمد فیض کا یہ شعر پوسٹ ہوچکا تھا: ’امید یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ۔۔۔۔۔۔تم آج کچھ بھی نہ پوچھو، کہ دل اُداس بہت ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ ایک کشمیری پنڈت خاتون ریتو کول نے یعقوب کی روح کے لیے امان کی خواہش کا اظہار کیا۔

دریں اثنا سابق مسلح شدت پسند عثمان مجید، جو بعد میں بھارتی فوج کے لیے انسداد تشدد کی ٹیم میں شامل ہوئے تھے، نے یعقوب میمن کو بھارت لانے میں کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے ممبئی دھماکوں سے متعلق حسین زیدی کی کتاب ’بلیک فرائڈے‘ میں دعوی کیا گیا تھا کہ مسٹر عثمان نے ہی بھارتی خفیہ اداروں کو کراچی میں یعقوب کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔ عثمان مجید اب بانڈی پورہ سے منتخب رکن اسمبلی ہیں اور کانگریس پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’بھارتی حکومت کا تو پاکستان میں اپنا سیٹ اپ ہے۔ انہِیں معلوم ہے ٹائیگر میمن کا گھر کہا پر ہے۔ پاکستان میں حکومت ہند کی موجودگی گہرائی تک ہے۔‘

واضح رہے یعقوب کو بھارتی ریاست مہارشٹر کے شہر ناگپور کی جیل میں جمعرات کو علی الصبح پھانسی دی گئی۔اس سے قبل بھارت کی سپریم کورٹ نے سزائے موت کے خلاف یعقوب میمن کی اپیل مسترد کر دی ہے جبکہ بھارتی صدر بھی ان کی رحم کی درخواست مسترد کر دی تھی

۔یعقوب میمن کو1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً سات سو زخمی ہوئے تھے۔

ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

No comments:

Powered by Blogger.