Header Ads

Breaking News
recent

شدید گرمی اور اموات کی وجہ 49 ڈگری ہیٹ انڈکس.

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے ساحلی علاقوں میں شدید گرمی کی وجہ سمندری ہواؤں کا بند ہونا تھا جس کی وجہ سے کراچی شہر میں ہیٹ انڈکس یا محسوس ہونے والی گرمی تقریباً 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی۔
کراچی میں گذشتہ چند دنوں سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ رہا ہے اور شدید گرمی کی وجہ سے اب تک 700 کے قریب ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حنیف نے اسلام آباد میں بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی کا یہ موسم کافی حد تک غیر معمولی تھا اور پاکستان کی تاریخ میں اس قسم کے حالات دیکھنے میں نہیں آئے۔
انھوں نے بتایا کہ کراچی میں سنہ 1979 میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اس سال غیر معمولی عوامل زیادہ اموات کی وجہ بنے۔
ڈاکٹر حنیف نے کہا کہ ’اس مرتبہ غیر معمولی بات یہ تھی کہ جو معمول کے مطابق سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں وہ رک گئیں، ہوا میں نمی زیادہ تھی، ہوا کا دباؤ معمول سے بہت کم تھا اور درجہ حرارت تو زیادہ تھا ہی۔ ان تمام عوامل سے ہیٹ انڈکس بہت بڑھ گیا۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ کچھ دنوں سے کراچی میں ہیٹ انڈکس 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہا ہے، جس کی وجہ سے شدید حبس اور گھٹن محسوس ہوتی ہے اور سب سے زیادہ اس کا اثر عمر رسیدہ افراد پر پڑا۔
ہیٹ انڈکس کا مطلب وہ درجہ حرارت یا گرمی ہے جو انسان محسوس کرے۔ موسمیات کے مطابق کراچی میں 50 سال کے عمر تک کے افراد کے لیے ہیٹ انڈکس 49 ڈگری تھا لیکن 75 برس کے افراد کے لیے ہیٹ انڈکس 50 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔

ہوائیں بند ہونے کا سبب

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کی ساحلی پٹی پر سال میں دس ماہ سمندر سے آنے والی ہوائیں چلتی ہیں لیکن سال کے دو مہینے یعنی گرمیوں اور سردیوں کے آغاز میں سمندر کی ہوا بند ہو جاتی ہے اور اسی عرصے کے دوران ساحلی علاقوں میں موسم متعدل رہنے کے بجائے گرم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر حنیف نے بتایا کہ ’اپریل اور ستمبر کے مہینے میں کراچی میں ہوائیں بند ہو جاتی ہیں لیکن اس مرتبہ جون کے مہینے میں سمندری ہوائیں بند ہو گئیں جو کہ بہت خطرناک ہے کیونکہ خشک علاقوں سے گرم ہوائیں چلیں۔‘

موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں سمندری ہوائیں، جو گذشتہ پانچ روز سے بند تھیں، اب کسی حد تک چلنا شروع ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر حنیف نے کہا کہ ’آج سمندر کی بند ہوا 30 فیصد تک بحال ہونا شروع ہوئی ہے۔ سمندر کی ہوا جنوب مشرق سے چل رہی ہے اور درجہ حرارت جو گذشتہ تین دن سے 43 ڈگری تھا وہ کم ہو کر 41 ڈگری سینٹی گریڈ ہو گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ بدھ تک مزید 70 فیصد ہوائیں بحال ہو جائیں گی جس کی وجہ سے آئندہ ایک دو دنوں میں درجہ حرارت مزید کم ہو گا۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی کے جنوب میں یعنی سمندر پر ہوا کا دباؤ زیادہ ہونا چاہیے تھا لیکن غیر معمولی طور پر سمندر پر ہوا کا دباؤ انتہائی کم تھا اور ہوا کا یہی کم دباؤ اب بعض علاقوں میں شدید بارش کی وجہ بنے گا۔
ڈاکٹر حنیف نے کہا کہ ’ہوا کے کم دباؤ کے سبب بھارت کے صوبے گجرات میں آئندہ چند دنوں میں شدید بارش ہو گی اور صوبہ سندھ کے جنوبی علاقوں میں بھی اچھی بارش ہو گی۔ یہی کم دباؤ جو کراچی میں شدید گرمی کی وجہ بنا ہے لیکن اب اس کی وجہ سے تھر کے علاقوں میں موسلادھار بارش ہو گی۔‘
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں شدید گرمی ماحولیاتی تبدیلی نہیں بلکہ غیر معمولی موسم تھا۔

’یہ معمول کے مطابق موسمیاتی تغیر نہیں ہے بلکہ یہ موسمیاتی خرابیاں ہیں اور ان غیر معمولی موسموں کا پہلے سے پتہ لگانا ماہرین کے لیے چیلنج ہے اور آنے والے چند برسوں میں اس طرح کے شدید موسموں کا امکان زیادہ ہے۔‘
موسمیاتی حکام کا کہنا ہے کہ ٹھٹہ، سجاول، بدین اور میرپور خاص سمیت سندھ کے زیریں علاقوں میں شدید گرم ہواؤں کی وجہ سے زراعت، مقامی پھل اور سبزیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بارش کے بعد درجہ حرارت کم ہوا ہے اور پنجاب کے بیشتر علاقوں میں پری مون سون بارشیں ہوئی ہیں جبکہ جولائی کے پہلے ہفتے سے باقاعدہ مون سون سیزن شروع ہو جائے گا۔
ڈاکٹر حنیف نے بتایا کہ رواں سال کے دوران مون سون سیزن میں معمول سے کم بارشیں ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں ’ایل نینیو‘ موسمیاتی پیٹرن کی وجہ سے کم بارشیں اور شدید موسم کا امکان ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.