Header Ads

Breaking News
recent

سینٹ میں ’’ہارس اینڈ کیٹل شو‘‘..


صدر مملکت نے 5 مارچ کو لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو (میلہ مویشیاں) کا افتتاح کیا، صوبے بھر کے گھوڑے، اونٹ، اور ڈھورڈنگر بن سنور کر میلہ میں شریک ہوئے۔ کرتب دکھائے، رقص کیا لیکن اسی روز سینٹ میں ہونے والے ’’ہارس اینڈ کیٹل شو‘‘ نے میلہ لوٹ لیا۔ گزشتہ سالوں کے دوران فورٹریس سٹیڈیم میں ہونے والے میلہ مویشیاں کی ٹی وی چینلوں پر لائیو کوریج ہوتی تھی۔ اس سال چینلوں کی توجہ سینٹ انتخابات پر مرکوز رہی۔

کیمرے لمحہ لمحہ کی خبریں دیتے رہے۔ ارکان اسمبلی نے ’’بحر ظلمات‘‘ میں گھوڑے دوڑائے اور سینٹر منتخب کرلیے ۔ جنہیں جیتنا تھا وہی جیتے۔ جنہیں ہارنا تھا وہ شور مچاتے اور چیختے چلاتے ہار گئے۔ ندیم افضل چن کو 27 ووٹ ملے تو لوگوں کو حیرت ہوئی کہ کیسے مل گئے۔ پیپلز پارٹی کے بندے کو ووٹ ڈالنے والے مسلم لیگی کون تھے، چار پانچ کے نام منظر عام پر آگئے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب دونوں میلوں سے غیر حاضر رہے۔ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ دونوں میلوں کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ گھوڑوں اور اونٹوں نے سٹیڈیم میں اور ارکان اسمبلی نے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں اور باہر ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو وطن واپسی پر ان ارکان کے خلاف تحقیقات کا حکم دینا پڑا جنہوں نے پیپلز پارٹی کے بندے کو ووٹ دے دیے تھے۔

 تحقیقات سے کیا حاصل ہوگا۔ ذوالفقار کھوسہ نے تو 80 باغی ارکان کی نشاندہی کی تھی۔ چھ سات ہی اِدھر اُدھر ہوئے ورنہ پنجاب سے بھی ایک دو کو شکست ہوسکتی تھی۔ ن لیگ نے پنجاب اور اسلام آباد سے کلین سوئپ کیا۔ آسان اور سلیس اردو میں جھاڑوپھیر دی۔ کیا ہارس ٹریڈنگ ہوئی؟ گھوڑے ’’بحر ظلمات‘‘ میں دوڑے اس لیے سب کچھ پوشیدہ رہا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کھلی دھمکی دی تھی کہ ہارس ٹریڈنگ ثابت ہوئی تو سخت کارروائی کریں گے۔ پنجاب میں کوئی کیس سامنے نہ آیا۔ البتہ خیبر پختونخوا میں شور شرابا رہا۔

عمران خان نے 15 کروڑ کا چیپٹر خود ہی کھولا تھا۔ یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ ایک شخص نے سینٹ کے ٹکٹ کے عوض 15 کروڑ دینے کی پیشکش کی تھی۔ پرویز رشید کہاں چوکنے والے تھے۔ اس شخص کا نام پوچھ لیا کپتان سٹپٹا گئے۔ انہوں نے زندگی بھر ایسے لوگوں کے نام چھپائے ہیں، 15 کروڑکی آفر دینے والے کا نام بھی چھپا گئے بس اتنا کہا کہ وہ شریف آدمی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کرنے والا شریف آدمی کہاں سے ہوگیا۔ کسی نے کہا عمران بیان دینے کے بعد سوچتے ہیں، یہ اچھے سیاستدان کی علامت نہیں۔

 اچھا سیاستدان وہ ہے جو سو بار سوچے ایک بار بولے۔ ہمارے سیاستدان سو بار بولتے ہیں لیکن ایک بار بھی نہیں سوچتے۔ خیبر پختونخوا میں ہارس ٹریڈنگ کے لیے 6 ارب رکھے گئے تھے۔ فاٹا کے انتخابات غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی ہوگئے۔ 6 ارب محفوظ ہیں یا دبئی کے کسی بینک میں رکھوا دیے گئے ہیں۔ سرکاری درباری لوگوں نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی۔ لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ لیکن واقفان حال کا خیال ہے کہ ارکان اسمبلی اتنے وفادار نہیں کہ کچھ لیے دیے بغیر ووٹ ڈال دیں۔ ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہے۔ ’’عمرانی ارکان‘‘ نے ن لیگ کے جاوید عباسی کو کیسے ووٹ دے دیے۔ بھیڑ بکریوں کی طرح قیمتیں نہیں لگائیں تو ہر طرف بکاؤ مال کی صدائیں کیوں گونجتی رہیں۔ ووٹ بکنے کا مطلب عوام کی لوٹ سیل ،لیکن دھاندلی کے شور میں رات گئے پی ٹی آئی کے 6 ارکان کو منتخب قرار دیا گیا۔ دن بھر میں دوبار پولنگ رکی اور بالآخر پولنگ کا وقت رات 8 بجے تک بڑھا دیا گیا۔ بکاؤ ووٹ سے آنے والے کھوٹے سکے عوام کی قسمت کیا بدلیں گے۔

چراغوں سے اندھیرا دور کرنے والے لوگوں نے
چراغوں کی نظر میں روشنی کیا ہے، کبھی سوچا؟

پنجاب میں 35 ووٹ مسترد ہوگئے؟ کیوں، کیا ووٹ ڈالنے والے بچے عقل کے کچے تھے یا جان بوجھ کر پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، یا ذوالفقار کھوسہ کی باتیں درست ہیں کہ 80 ارکان بغاوت پر تلے بیٹھے ہیں۔ سردار صاحب سے ہی پوچھ لیا جائے کہ ’’ہم سے سرگراں کیوں ہو‘‘ گورنر کا عہدہ خالی ہے۔ وہیں بٹھا دیا جائے۔ وڈیرے کو عہدہ نہ ملے تو مایوس ہوتا ہے۔ سندھ میں مایوس وڈیروں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ کیا کرایا کچھ نہیں، گورنر بنا دو، نہیں بنایا تو وزیر اعظم کے خلاف روز بیانات ’’تمہی کہو کہ یہ انداز برہمی کیا ہے‘‘ وزیر اعظم نے منجملہ دیگر باتوں کے سندھ کے تین دیرینہ مسلم لیگی کارکنوں کو سینٹ کے ٹکٹ دے کر نیک کام کیا۔ سلیم ضیاء، نہال ہاشمی اور مشاہد اللہ خان پیدائشی مسلم لیگی ہیں۔
مشرف کی دھمکیاں اور ترغیب و تحریص ان کے پائے استقلال میں لرزش نہیں لا سکی۔ ایسے لوگ پارٹیوں کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ بلوچستان میں بھی ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ن کو حساب کتاب کے مطابق 5 سیٹیں ملنی تھیں مگر 2 مل سکیں۔ جان محمد جمالی نے کہا ہمیں اپنے فیصلوں کا اختیار ملتا تو نتائج مختلف ہوتے۔ فیصلے سوچ سمجھ کر کیوں نہیں کیے جاتے۔ سیاستدانوں کو بالغ ہوئے برسوں گزر گئے مگر بالغ نظر نہیں بن سکے۔ ہارس اینڈ کیٹل شو ختم ہوگیا۔ اب انعامات کا سلسلہ چلے گا۔

ڈپٹی چیئرمین اور چیئرمین کا انتخاب باقی ہے۔ آصف زرداری نے ایک بار پھر ’’سب پہ بھاری‘‘ کے نعرے لگوا لیے۔ مفاہمت کا ایسا جھرلو پھیرا کہ ن لیگ پر برتری حاصل کرلی۔ ن لیگ کی 26 پیپلز پارٹی کی 27 نشستیں، سنگل لارجسٹ پارٹی، قانون سازی کی نبض پر زرداری کا ہاتھ رہے گا۔ رحمان ملک چیئرمین شپ کے امیدوار ہیں۔ کیا پیپلز پارٹی میں کوئی اور نیر بخاری نہیں ہے۔ ن لیگ کے لیے 53 سیٹیں کر کے حاصل بزنجو کو چیئرمین بنانا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ ایم کیو ایم (8 )اور اے این پی( 3) کا کردار اہم ہوگا۔ جبکہ دونوں مفاہمت کی ڈور میں بندھی ہیں۔ 6 آزاد ہیں یہاں پھر ہارس ٹریڈنگ ہوگی۔ قیمت 40 کروڑ سے بڑھ جائے گی۔ ایک ایک گھوڑا قیمتی ہوگیا۔ اسی دن کے لیے پالا گیا تھا۔ ’’اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے‘‘ مولانا فضل الرحمان بھی شریف برادران سے ناراض ہیں۔
بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔ اچھے اتحادی ہیں وقت پر دغا دے گئے۔ غیروں سے امید وفا کیا ہوگی۔ جے یو آئی ف (5) فنکشنل( 1) اے این پی( 7) ایم کیو ایم (8) ملی عوامی پارٹی (3) نیشنل پارٹی( 3) بی این پی (2) بی این پی مینگل (1) اور جماعت اسلامی (1) کے علاوہ آزاد 6 اور فاٹا کے ارکان کسی طرح نواز شریف کی طرف کھچے چلے آئیں تو بات بن سکتی ہے۔ مگر بات اتنی آسان نہیں سب چیخ رہے ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ کی لعنت ختم کی جائے مگر سب کے گھوڑوں سے قریبی رابطے ہیں۔ کروڑوں کے سودے ہوگئے، ہو رہے ہیں۔
 
گھوڑوں کی تجارت کا خاتمہ مشترکہ مقصد ہوتا تو شو آف ہینڈز یا ووٹ پر ووٹر کے نام کے اندراج کی تجاویز بری نہیں تھیں۔ مگر ان کی مخالفت سب سے زیادہ پیپلز پارٹی نے کی۔ کیوں کی، یہ عرض پھر کریں گے لیکن اتنا سمجھ لیجیے کہ خفیہ رائے شماری سے پیپلز پارٹی کو توقعات کے مطابق فائدہ نہیں ہوا۔ سیاسی فائدے کے لیے اتنا بڑا ہارس اینڈ کیٹل شو سجایا گیا کاش قومی مفادات مد نظر رکھے جاتے، اس سے تو فورٹریس سٹیڈیم کا ہارس اینڈ کیٹل شو بہتر تھا جہاں گھوڑوں اور ڈھورڈنگروں نے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

مشتاق سہیل

No comments:

Powered by Blogger.