Header Ads

Breaking News
recent

سول سوسائٹی کی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کی جنگ


سول سوسائٹی۔ کیسا عجیب و غریب تصور ہے۔ یعنی پورا معاشرہ جاہل، فرسودہ، دقیانوسی، ظالم اور غیر مہذب ہے، لیکن ہم مہذب، انسان دوست اور تہذیب یافتہ ہیں۔ جدید مغربی تہذیب نے جہاں اپنا ایک معاشرتی علم تخلیق کیا وہیں اس جدید معاشرتی علم نے انسانوں کو نئی اصلاحات بھی سکھائیں۔ یہ جدید معاشرتی علم، نفسیات، معاشیات، سیاسیات، بشریات، سماجیات اور اس جیسے دیگر مضامین پر بحث کرتا ہے۔

معاشیات والے کہتے ہیں کہ ہر تبدیلی کا محرک معاشی جذبہ ہوتا ہے جب کہ نفسیات میں فرائڈ جیسے لوگ ہر عمل کے پیچھے جنسی جذبات کو کار فرما دیکھتے ہیں۔ جدید مغربی تہذیب کا تخلیق کردہ یہ معاشرتی علم تحقیق کے جوہر سے مالا مال ہے لیکن اپنی اس تحقیق کی ایک مخصوص طریقے سے توجیہہ کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسانی معاشرہ جس طرح مادی اور سائنسی طور پر ترقی کرتے آج اس مقام پر پہنچا ہے، اسی طرح انسانی اقدار جیسے سچ، ایمانداری، ایفائے عہد، انسان دوستی، غیبت، جھوٹ سے بچنا، قتل کی ممانعت جیسی اخلاقی اقدار بھی وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے خود ہی تخلیق کر لیں۔ کچھ رسومات کو مذہب کا درجہ دے دیا گیا۔ اسی طرح ہر خطے کا اپنا ایک مذہب یا عقیدہ پیدا ہوگیا۔

بااثر طبقات نے مذہبی رہنماؤں کا درجہ حاصل کر لیا اور رسوم مذہبی روایات بن گئیں۔ اس جدید معاشرتی تعلیم نے لوگوں کو یہ تصور دیا کہ آج بھی اگر کچھ نئی رسومات مدتوں جاری رہیں تو مذہب کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں کارپوریٹ کلچر جہاں ایک طرح کے لباس، ایک طرح کی خوراک، ایک طرح کا میوزک اور ایک ہی طرح کے فیشن کو عام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، وہیں اس کارپوریٹ کلچر کے تین بڑے نمایندے پوری دنیا میں ایک عالمی ثقافت کو جنم دینے میں بھی مصروف عمل ہیں۔ ان میں دو نمایندے، نصاب تعلیم اور میڈیا ہیں۔ نصاب تعلیم بچپن میں ایک طرح کے ہیروز، ایک طرح کی کہانیاں اور ایک طرح کا معاشرتی ماحول بچوں کو سکھا رہا ہے۔

سنڈریلا، سنووائٹ سے لے کر الیگزینڈر اور کنگ لیئر تک سب ایک ہی رنگ ہے جب کہ میڈیا کارٹونوں سے شروع ہوتا ہے، مِکی ماؤس، ٹام اینڈ جیری اور پنک پنتھر سے شروع ہوتا ہے اور ویلنٹائن ڈے، مدرز ڈے تک پوری زندگی کے ماحول کو تبدیل کر دیتا ہے۔ لیکن تیسری نمایندہ قوت سول سوسائٹی ہے جو ایسے رسوم کو رائج کرتی ہے جو انسانوں میں موجود مختلف مذاہب کا نعم البدل یا متبادل ہیں۔ جیسے مسلمان مرنے والوں کے لیے فاتحہ پڑھتا ہے۔ہندو پراتھنا کرتا ہے اور عیسائی گرجاگھر میں عبادت، لیکن کمال ہے کہ اب ہر کوئی مرنے والوں کی یاد میں شمعیں جلا رہا ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کو اس بات سے غرض ہوتی تھی کہ ان کے پیارے اگلے جہان چلے گئے ہیں تو وہاں ان کے سکھ، چین اور مغفرت کے لیے دعا بہت ضروری ہے، ان کے نام پر نیکی یا رفاہی کام کیا جائے تا کہ اس کا اجر انھیں اگلے جہان پہنچتا رہے۔

ہر مذہب کے ماننے والوں نے اپنے پیاروں کے لیے دعائیں بھی کیں اور رفاہی ادارے بھی کھولے لیکن اب شمعیں جلانے اور ایک منٹ خاموشی اختیار کرنے کی رسوم نے ان سب آنے والوں کا رشتہ اگلے جہان سے ختم کر دیا۔ یہ تمام رسوم صرف ایک نہیں کئی مذاہب کا متبادل بن کر سامنے آ گئیں۔ سول سوسائٹی صرف رسوم تک محدود نہیں بلکہ وہ تمام اخلاقیات اور قوانین جو اس دنیا کو مذاہب نے عطا کیے ہیں یہ ان سب کے مقابلے میں اپنی اخلاقیات اور قوانین کا نظام دیتی ہے۔ مثلاً دنیا بھر کی سول سوسائٹی انسانی حقوق کے نام پر ہم جنس جوڑوں کے ایک ساتھ رہنے بلکہ شادی کرنے کی وکالت کرتی ہے۔

دنیا بھر کے مذاہب کا سب سے اہم قانون قصاص یعنی قتل کے بدلے قتل کا قانون ہے۔ تینوں ابراہیمی مذاہب اس پر متفق ہیں جب کہ باقی تمام مذاہب میں بھی انسانی جان کی حرمت کا تحفظ دینے کے لیے قاتل کو موت کی سزا کا قانون موجود ہے۔ لیکن سول سوسائٹی دنیا کا وہ واحد عجوبہ ہے جو قاتل کی جان کی حرمت کا نعرہ لگاتی ہے اور اب یہ نعرہ اسقدر طاقتور ہو چکا ہے کہ اسے دنیا میں ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں مقبولیت کا شرف حاصل ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ اس کی سب سے بڑی وکیل بن گئی ہے۔ یہ تمام تصورات جن میں پھانسی کی سزا، جنسی زندگی کی پاکیزگی، غیر فطری زندگی گزارنے سے اجتناب شامل ہیں، کسی بھی معاشرے کے خالصتاً داخلی، تہذیبی اور مذہبی معاملات ہیں لیکن سول سوسائٹی کا کمال دیکھیں کہ اسے خارجہ پالیسی اور عالمی ایجنڈے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ایسے ہی ہے جیسے آپ دنیا کے اندر اس نئے رائج ہونے والے سول سوسائٹی کے مذہب کا انکار کر رہے ہوں اور یہ انکار عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جیسے ایٹم بم بنانا یا کسی سرحد کی خلاف ورزی کرنا۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے پر بھی پابندیاں لگتی ہیں اور پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کرنے سے بھی پابندیاں لگنے کا خطرہ سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ یہ ہے سول سوسائٹی جو اس وقت حکومت پاکستان سے خارجہ پالیسی پر اپنے کنٹرول کی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ مٹھی بھر لوگ جو بینر اٹھا کر سڑکوں میں نظر آتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں جو کسی این جی او کی ملازمت اور ڈونر کی امداد اپنی جیب میں رکھے ہوئے ہیں۔
 
انھیں مغربی سفارت خانے اور عالمی ڈونرز گزشتہ تیس سال سے مسلسل سرمایہ فراہم کرتے چلے آئے ہیں۔ خارجہ پالیسی پر ان کے کنٹرول کی جنگ پاکستان کے دفاعی حلقوں سے تصادم لے کر آتی ہے۔

پاکستان پوری دنیا کے دو سو کے قریب ممالک میں سول سوسائٹی کا سب سے بڑا اور اہم ہدف ہے۔ اس لیے کہ اس کی تخلیق اسلام کے نام پر ہوئی ہے جب کہ باقی 199 ملک رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر وجود میں آئے۔ اس سول سوسائٹی کے نمایندہ لکھاریوں کو دیکھ لیں گزشتہ پچاس سالوں سے پاکستان کے ٹوٹنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان جہاں 30 سال سے جنگ جاری ہے جہاں پشتون، ازبک، تاجک، ترک جیسی کئی نسلیں اور زبانیں موجود ہیں، وہاں کوئی نہیں کہتا کہ یہ ملک ٹوٹ جائے گا لیکن پاکستان کی سول سوسائٹی کے لکھاری اپنے تجزیوں اور ان کے لاڈلے سیاسی رہنما اپنی تقریروں میں اس ملک کے ٹوٹنے کی بشارتیں دے رہے ہوتے ہیں۔

اسی لیے مجھے سات سالہ بچے عمیر کے قاتل شفقت حسین کے ساتھ سول سوسائٹی کی ہمدردی پر بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ کس ڈھٹائی سے ایک تئیس سالہ شخص کی پرانی تصویریں دکھا کر میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنایا گیا۔ جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ بنایا گیا۔ مقصد کیا تھا؟ مقصد یہ تھا کہ دنیا پر یہ ثابت کیا جائے کہ پاکستان میں پولیس والے، جج، وکیل اور دیگر سب کے سب اندھے تھے، یہاں تک کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج بھی جو چودہ سالہ بچے کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی اس کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے اس کی عمر 23 سال لکھتے رہے۔ مجسٹریٹ، سیشن جج، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ، بلکہ پورے کا پورا عدالتی نظام ایک مذاق بنانا مقصود ہے اور ایک ایسے موڑ پر جب پاکستان یہ طے کر چکا ہے کہ دہشت گردی رنگ، نسل، زبان، علاقے یا مذہب کے نام پر ہو، وہ دہشت گردی ہے۔

ایسے میں پھانسی کی سزا ان کے عالمی مذہب کے ایجنڈے کی توہین ہے۔ اس لیے یہ انھیں ناقابل قبول ہے۔ ویت نام سے لے کر افغانستان اور عراق تک ایک کروڑ کے قریب انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا لیکن آج اگر کسی عدالت میں ان قاتلوں کو پیش بھی کیا جائے تو ان کی جان کی حرمت انھیں یاد آ جاتی ہے۔ وہ وقت قریب ہے جب قوم فیصلہ کرے گی کہ اٹھارہ کروڑ لوگ سول یعنی مہذب ہیں یا ڈونرز کے سرمائے پر عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے معدودے چند لوگ۔ فیصلے میں زیادہ دیر نہیں ہے


اوریا مقبول جان

No comments:

Powered by Blogger.