Header Ads

Breaking News
recent

اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے شاداں....


برصغیر پر انگریز کے غلبے سے پہلے دنیا بھر میں کسی جگہ دینی و دنیاوی تعلیم میں تفریق کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس سے پہلے دنیا میں جہاں مدارس کا لفظ ملتا ہے اس کا مطلب دینی اور دنیاوی تعلیم کا ادارہ ہوتا ہے۔ 1780ء سے پہلے مسلم دنیا میں ایک ہی نظام تعلیم ہوا کرتا تھا۔ جب انگریز بر صغیر میں آیا تو اس نے رفتہ رفتہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں پر پابندی لگانا شروع کردی۔

  برطانیہ کا بادشاہ ’’ولیم چہارم‘‘ تھا۔ برصغیر اس کے نوآبادیات میں سے تھا۔ برطانیہ ہزار جتن کے باوجود اس علاقے پر اپنا پنجہ مضبوط نہیں کرپارہا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے ’’وائسرائے ہند‘‘ کے ذریعے ’’لارڈ میکالے‘‘سے پوچھا ہم کس طرح اس علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکتے ہیں؟ اس نے لکھا: ’’ میں تجویز دیتا ہوں برٹش گورنمنٹ فوری طورپر مسلمانوں کا ایجوکیشن سسٹم تبدیل کرے۔ اس سے کچھ عرصے میں خود بخود ان کا کلچر بدل جائے گا۔ مسلمانوں کی اپنے مذہب سے گہری وابستگی ختم کرنے کیلئے ضروری ہے جدید کلچر کو فروغ دیا جائے۔ غیر محسوس طریقے سے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ مسلمان یہ سمجھنے لگیں کہ ان کا مذہب، کلچر اور ثقافت پسماندہ ہے۔

وہ انگریزی طرزِ معاشرت پر فخر کرنے لگیں۔ اپنی ثقافت، معاشرت کو گھٹیا تصور کرنے لگیں۔‘‘ اس کا منصوبہ برطانوی حکومت کو پسند آیا اور اس نے یہ بھاری ذمہ داری اسی کے کاندھوں پر ڈال دی۔ یہ شخص جلد ہی ہندوستان کے لئے نصابِ تعلیم بنانے میں مصروف ہوگیا۔ مسلمانوں کے تہذیب وتمدن کو بدلنے والے برطانیہ کے اس قانونی مشیر نے کہا ’’میں ہندوستان کے لئے ایسا نظامِ تعلیم بنارہا ہوں جس کو پڑھنے کے بعد مسلمان بچے اگر عیسائی اور یہودی نہ بنے تو مسلمان بھی نہیں رہیں گے۔‘‘اس پس منظر میں مسلمانوں کے ایمان اور دینی تعلیم کی سلامتی کیلئے اس وقت کے علماء وصلحا نے مل کر ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کی بنیاد رکھی اور اپنے مشن، منشور اور مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ اسی طرح اس وقت کے عصری علوم میں مہارت رکھنے والے سرسید احمد اور ان کے ساتھیوں نے ’’علی گڑھ‘‘ کی بنیاد رکھی تاکہ مسلمان نوجوان انگریزی تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکیں۔

یوں یہاں سے دو تعلیمی نظام اور سلسلے چل نکلے۔ دینی تعلیم اور عصری علوم کے دو متوازی نظام وجود میں آئے۔ مدارس میں دینی علوم حاصل کرنیوالے ’’ملا‘‘ کہلائے تو اسکول کالج میں عصری فنون پڑھنے والا ’’مسٹر‘‘ ہوگیا۔ ’’لارڈ میکالے‘‘ کے نصاب ونظام تعلیم وضع کرنے سے قبل پورے برصغیر بلکہ پوری اسلامی دنیا میں دینی وعصری تعلیم کا کوئی فرق نہیں تھا۔ یہ دونوں متوازی نظام چلتے رہے۔

دونوں ہی اپنے مقاصد میں کامیاب رہے۔ دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ کا نظام تعلیم ایک دوسرے سے جدا ضرور ہوا، مگر دونوں کے درمیان کسی قسم کی مخاصمت نہ تھی، اسی لئے سر سید احمد خان نے جب درخواست کی کہ علی گڑھ میں دینی علوم پڑھانے کے لئے قابل استاد کی ضرورت ہے تو مولانا قاسم نانوتوی نے اپنے داماد مولانا عبد اللہ کو وہاں تعلیم دینے کے لئے بھیجا۔یہ ایک عبوری دور تھا۔ یہاں پر تو درست تھا کہ ہر ممکن طریقے سے اپنا تحفظ کیا جائے لیکن جب پاکستان کا قیام وجود میں آگیا تو اس وقت ضروری تھاکہ مدرسے اور اسکول کی تفریق کو مٹاکر دینی وعصری علوم کے امتزاج پر مشتمل ایک یکساں نصاب تعلیم مرتب کیا جاتا جو ایک مسلمان معاشرے کی دینی ضروریات اورجدیدعصری تقاضوں کو یکساں طورپر پر پورا کرتا۔

مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع اور دیگر کئی حضرات نے اس موقع پر متعدد بار ارباب اختیار کی توجہ اس طرف دلائی۔ انہوں نے صراحت کے ساتھ بتایا کہ پاکستان میں نہ صرف دیوبند کا نصاب تعلیم رائج کیا جاسکتا ہے نہ ہی علی گڑھ کا، البتہ دونوں نصابوں کو ملاکر ایک ایسا نظام ونصاب تعلیم بنایا جاسکتا ہے جس میں مسلمان بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کا بھی سامان ہو اور ساتھ ساتھ عصری ضروریات اور تقاضوں کا بھی پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہو مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا اور آزادی کے بعدوہ ہی نظامِ تعلیم بعینہٖ باقی رکھا گیا۔ علماء کو مجبوراً دینی مدارس کا وہ نظام برقرار رکھنا پڑا جو انگریزی اقتدار کے دوران اسلامی شعائر کے تحفظ کے ارادے سے بنایا گیا تھا۔یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ 68 سال میں دینی تعلیم کی کار کردگی کیسی رہی؟ اور عصری تعلیم نے کیا اور کیسے نتائج حاصل کیے؟ آپ دنیاکے کسی خطے میں چلے جائیں پاکستانی دینی اداروں کے فاضل علماء ہر جگہ نمایاں نظر آئیں گے۔

دنیا بھر کی مفتیان کرام کی عالمی تنظیم ’’مجمع الفقہ الاسلامی‘‘ کو دیکھیں، اس کے نائب صدر مفتی تقی عثمانی ہیں۔ دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی اداروں کے شرعی معیارات بنانے والے ادارے ’’AAOIF‘‘ کو دیکھیںعلماء ہی اس کے سربراہ ہیں۔ شاہ فیصل ایوارڈ دیا جاتا ہے تو مولانا بوالحسن علی ندوی کو ،اسلامی ترقیاتی بینک اعزاز سے نوازتا ہے تو مدرسے کے فاضل کانام آتا ہے۔ جہاں تک دینی مدارس میں عصری علوم پڑھانے کی بات ہے تو عرض ہے مدارس کے نصاب میں بقدر ضرورت عصری تعلیم تو ہمیشہ سے رہی۔

 علم جغرافیہ، فلکیات، حساب تو ہر زمانے میں اس نصاب کا حصہ رہے ہیں۔ عصرِ حاضر میں علمی وتحقیقی کاموں میں انٹرنیٹ کی اہمیت، ابلاغی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے انگریزی وعربی زبانوں پر عبور اور صحافتی مہارتوں کو حاصل کرنے کیلئے بہت سے مدارس نے انگریزی وعربی بحیثیت زبان، کمپیوٹر، صحافت، دعوت وارشاد اور جدید ابلاغی وتدریسی صلاحیتوں پر مشتمل چھوٹے بڑے بہت سے کورسزجاری کررکھے ہیں۔

میٹرک تک کی بنیادی تعلیم تو ہر مدرسہ میں دی جاتی ہے۔ بعض مدارس نے یہ تجربہ کیا کہ دونوں تعلیم ایک مخصوص نظم کے تحت ریگولر کروائی جائیں۔ 8 سالہ درس نظامی کے نصاب کو چار سال کی مدت میں محدود کرکے ایم اے، ایم ایس، ایم بی اے سمیت عصری علوم کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو درس نظامی کی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے،جبکہ مدارس سے فارغ التحصیل علماء کے لئے جدید علوم پرمشتمل شارٹ کورس متعارف کروائے ہیں۔ اسی طرح ان دینی مدارس سے فارغ ہونے والے گریجویٹ علماء کیلئے جو ایف اے کی ڈگری رکھتے ہیں ہیں، بی بی اے اور گریجویٹ علماء کیلئے ایم بی اے کی کلاسیں بھی شروع کی ہوئی ہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ عصری تعلیمی اداروں نے کتنے علماء،مفتی اور فقیہ پیدا کیے ہیں ؟ کالج یونیورسٹیوں کے کونسے فضلاء کی کھیپ ہیں جو عالمی سطح پر خدماتِ جلیلہ سر انجام دے رہی ہے؟؟

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دینی مدارس سے ڈاکٹرز،انجینئر،وکیل، ماہرِ معاشیات، کمپیوٹرانجینئر، حساب داں اور سائنس داں پیدا نہ کرنے کا گلہ کیا جائے؟ کیا دینی مدارس اس کام کے ذمہ دار ٹھہرائے جاسکتے ہیں؟ اور ان سے یہ شکوہ کیا جاسکتا ہے؟ جو دانشور دینی مدارس اور ان کا نظام و نصاب یکسر تبدیل کرنے کی باتیں کرتے ہیں، ان کی خدمت میں مفکر پاکستان علامہ اقبال ؒ کے یہ کہنا کا فی ہونا چاہئے کہ: ’’ان مدرسوں کو اسی حال پر رہنے دو۔ غریب مسلمانوں کے بچوں کو اِنہیں مدارس میں پڑھنے دو۔ اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا، میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ مدرسوں کے اَثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں کی گئی آٹھ سو سالہ اسلامی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروکاروں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔

انور غازی
"بشکریہ روزنامہ "جنگ

No comments:

Powered by Blogger.