Header Ads

Breaking News
recent

یہی اللہ کا دستور ہے....

پاکستان کے نظامِ انصاف کا کمال یہ ہے کہ جس جرم کی نوعیت، اس کے مجرم اور اس سے متعلق ہر کردار کو شہر، گلی اور محلے کا بچہ بچہ بخوبی جانتا ہو گا اسے عدالت میں ثابت کرنا اب دنیا کا ناممکن ترین کام بن چکا ہے۔ اسی لیے کہ جس شخص کی جانب بھی انگلی اٹھتی ہے کہ اس نے قتل کیا ہے، چوری کی ہے، بھتہ لیا ہے، یا رشوت اور کمیشن حاصل کیا ہے، وہ سینہ تان کر کہتا ہے کہ ایسے الزامات تو لگتے رہتے ہیں، جائو جا کر عدالت میں ثابت کرو، یا پھر ایک دن فخر سے سینہ پھلا کر کہے گا کہ مجھے عدالت نے باعزت طور پر بری کر دیا ہے۔

یہ صورت حال بڑی بڑی سیاسی قیادت، یا انتظامی اشرافیہ تک محدود نہیں بلکہ آپ ایک پٹواری، تھانیدار، کسٹم انسپکٹر، انکم ٹیکس کے اہلکار، یہاں تک کہ دفتر کے کلرک تک کو اپنے ہاتھ سے رشوت دے کر بھی اسے اس ملک کے نظامِ انصاف میں رشوت خور ثابت نہیں کر سکتے، اگر آپ نے درخواست جمع کروا بھی دی، تو الٹا آپ یہ طعنہ لے کر واپس لوٹیں گے کہ یہ شخص جھوٹے الزامات لگاتا ہے، کارِ سرکار میں مداخلت کرتا ہے، بلکہ عدالت کا وقت ضایع کرتا ہے۔
کسی بھی سرکاری دفتر کے آس پاس سائلین کا ایک ہجوم ہوتا ہے۔ اگر کہیں آپ انھی سائلین میں سے ہیں تو آپ تک یہ بات بہ آسانی پہنچ جائے گی کہ کس میز پر بیٹھے ہوئے شخص کو کتنے روپے دیے جائیں تو کام باآسانی اور جلدی ہو جائے گا۔ بہت سے ایسے دفاتر ہیں جہاں آپ کو سائل بن کر لائن میں کھڑے ہونے یا اس کلرک، اہلکار یا آفیسر سے ملنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرنا پڑتی، بلکہ اس کے کارندے آپ کا یہ کام بحسن و خوبی سرانجام دیں گے۔

اپنی مناسب سی اجرت حاصل کریں گے اور باقی پیسے سے کام کرنے والے افسران کی جیب گرم کریں گے۔ ایسے کارندے آپ کو ائیرپورٹ پر کسٹم حکام کی چیرہ دستیوں سے بچانے کا ذمے لیتے ہوئے، پٹواری سے زمین کے کاغذات یا انتقال کروانے کے لیے مستعد، پاسپورٹ کے دفاتر کے آس پاس، انکم ٹیکس، اکائونٹ جنرل، کنٹونمنٹ آفس غرض ہر دفتر میں نظر آتے ہیں۔

سائل انھیں مطلوبہ رقم تھماتے ہیں اور اپنا کام نکلوا کر باہر آ جاتے ہیں۔ یہ سائل ان افسران کو بھی جانتے ہوتے ہیں اور ان کلرکوں سے بھی آشنا ہوتے ہیں جن کے کارندے نے ان کے جائز کام کے لیے بھی رشوت طلب کی تھی، لیکن اگر ان افسران یا کلرکوں میں سے کسی کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ درج ہو جائے، کوئی غصے میں بپھرا ہوا سائل درخواست جمع کروا دے تو ان تمام افراد میں سے کوئی وہ سچ بولنے بھی عدالت کے سامنے نہیں آئے گا جو وہ روز اپنے گھر والوں، دوستوں، عزیزوں اور رشتے داروں کے سامنے بولتا رہتا ہے۔

ہر کسی کے سامنے بیان کرتا ہے کہ میں نے اتنے پیسے دے کر یہ کام کروایا ہے، لیکن گواہی نہیں دے گا۔ کیا ہم ایک خوفزدہ معاشرے میں ڈھل چکے ہیں۔ ہم میں سے صاحب حیثیت شخص، جس کے پاس وسائل کی کمی نہیں، وہ بھی اگر اپنے مکان کی رجسٹری کرواتے وقت رشوت دیتا ہے تو اس اہلکار کے خلاف گواہی کے لیے عدالت نہیں جاتا۔ اس کے کسی عزیز کا نام اگر تھانیدار غلط طور پر ایف آئی آر میں داخل کر لے تو اسے نکلوانے کے لیے اسے جو رشوت دینا پڑتی ہے اس کی رپورٹ تک کہیں درج نہیں کرواتا۔ ہر کسی نے یہ تصور بنا لیا ہے کہ معاشرہ اب انتہائی بددیانت ہو چکا ہے، اس لیے اب ہمیں ایسے ہی گزارا کرنا ہے۔

یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جن کے جائز کام سرکار کے دفاتر میں رکے ہوئے ہوں اور انھیں یہ کام نکلوانے کے لیے پیسے لگانے پڑتے ہیں۔ لیکن ایک ایسا طبقہ بھی ہے جنہوں نے اپنے ناجائز کاموں کے لیے ایک نظام وضع کر رکھا ہے۔ اس نظامِ کے تحت نیچے سے لے کر اوپر تک ہر کسی کا حصہ مقرر ہے۔ ہر کسی کو اپنے مقام اور مرتبے کے مطابق حصہ پہنچ جاتا ہے اور اس ناجائز کام کی فائل ایک میز سے دوسری میز تک پر لگا کر اڑتی پھرتی ہے، اگر ہم خوف زدہ معاشرہ میں نہیں ڈھل چکے تو کیا ہم اک بددیانت معاشرہ بن چکے ہیں۔

بددیانتی بھی ایک معاشرے کو خوفزدہ بناتی ہے۔ دنیا کے بڑے سے بڑے عہدے پر فائز بددیانتی پر مائل شخص کو ہمیشہ ایک خوف ضرور سوار رہتا ہے۔ پکڑے جانے کا خوف۔ لیکن بہترین معاشرہ وہ ہوتا ہے کہ جب کوئی پکڑا جائے تو پھر انصاف کا نظام اس قدر بامقصد اور با معنی ہو کہ وہاں خوفزدہ وہی پکڑے جانے والا شخص نظر آئے گا اور لوگ اس کے خلاف گواہی دینے پر ایک دوسرے سے بازی لے جائیں گے۔ اس کا اپنا گروہ، قبیلہ، سیاسی پارٹی یہاں تک کہ خاندان تک اس کے خلاف کھڑا ہو جائے، اسے بددیانت، چور، قاتل، بھتہ خور کہے۔ کوئی اس کے دفاع کے لیے ٹیلی ویژن پر نہ آئے کوئی اس کی وکالت میں ریلیاں نہ نکالے، کوئی اس کے لیے پریس کانفرنس نہ کرے۔

ہم بددیانت بھی ہیں اور خوفزدہ بھی لیکن یہ دنوں مرض جو ہمیں لا حق ہو چکے ہیں کتنی آسانی سے دور ہو سکتے اگر ہم میں ایک صفت پیدا ہو جائے جو قرآن کے انسان مطلوب سے اللہ چاہتا ہے۔ قرآن کی آیات انصاف اور عدل کے جس اصول پر بنیاد رکھتی ہیں ان میں اہم ترین یہ ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کر دے کہ تم عدل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو اور دوسرا یہ کہ حق کی گواہی دیتے رہو خواہ وہ تمہارے عزیزُ اقربا کے خلاف کیوں نہ ہو۔
ہماری خرابی کی بنیادی وجہ اور ہمیں خوفزدہ اور بددیانت بنانے میں اسی ایک کوتاہی، خرابی اور بیماری کا دخل ہے۔ 

ہم اس شخص کو چور، ڈاکو، قاتل، بھتہ خور اور بددیانت کہہ ہی نہیں سکتے جو ہمارے خاندان، قبیلے، برادری، پیشہ ورانہ گروہ یا سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو۔ ڈاکٹروں، انجینئروں، کلرکوں غرض ہر قسم کی انجمنیں اپنے چوروں کا دفاع کرتی ہیں۔ بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ ہر مسلک کے ماننے والے بھی اپنے مسلک کے مجرموں کا دفاع کرتے ہیں۔ نسل، رنگ اور زبان سے تعلق رکھنے والے اپنے مجرموں کا دفاع کرتے ہیں۔

یہ ہے وہ بیماری جس کی علامت یہ ہے کہ ہمارے دل پتھر کے ہو چکے ہیں۔ صرف دو سال قبل ہمیں ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائے گئے وہ منظر بھول چکے جب ایک فیکٹری سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے اور مائیں، بہنیں، باپ بھائی چیخیں مارتے، غش کھاتے پکار رہے تھے کہ کہ کوئی ہمارے بچے اور بچی کو اس آگ سے باہر نکالے۔ میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہے کہ سب سے تکلیف دہ موت جل کر مرنے کی موت ہوتی ہے کیونکہ درد بنیادی طور پر جلد میں ہوتا ہے۔ درد کے(ain centers) جلد میں ہیں اس لیے اس کا جلنا سب سے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ ڈھائی سو لوگ، بیس کروڑ لوگوں کے سامنے جل مرے۔ لیکن یہ بیس کروڑ اپنے اپنے گھروں میں ان مناظر کو ٹیلی ویژن پر چلنے والی ایک شاندار فلم کی طرح تماشہ کے طور پر دیکھتے رہے۔

لیکن پورے ملک میں کسی ایک کا بھی ضمیر نہ جاگا، کسی نے پکار کر یہ نہ کہا کہ پورے کراچی کو معلوم ہے، بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون ظالم ہے، کون بھتہ خور ہے، کون قاتل ہے۔ آج اگر گھروں میں خفیہ کیمرے لگا کر دیکھیں، تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہر گھر اپنے لٹنے کے بعد آپس میں ایک دوسرے کو کہانی سنا رہا ہوتا ہے کہ اسے کس نے لوٹا، وہ مجبوراً کس کو بھتہ دیتا ہے۔ سب آنسو بہاتے ہیں اور پھر ایک دوسرے سے عہد لیتے ہیں کہ باہر مت بتانا وہ لوگ بہت ظالم ہیں۔ ایسے معاشرے جہاں انسانوں پر اس قدر بھیانک ظلم پر بھی لوگوں کا ضمیر نہ جاگے، وہ حق کی گواہی دینے کے لیے کھڑے نہ ہوں، وہ اپنے خوف اور تعصّب کے خول سے باہر نہ نکلیں تو پھر کیا ان معاشروں پر اللہ عادل حکمران بھیجتا ہے؟ نہیں وہ بدترین، اور ظالم حکمران مسلط کرتا ہے۔ یہی اس کا دستور ہے۔

اوریا مقبول جان

No comments:

Powered by Blogger.